سال کا پہلا سورج گرہن 17 فروری کو ہوگا، پاکستان میں نظر نہیں آئے گا
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
ہیوسٹن (ویب ڈیسک) ماہرین فلکیات نے کہا کہ رواں سال کا پہلا سورج گرہن 17 فروری کو آ رہا ہے، تاہم یہ پاکستان سمیت ایشیا کے زیادہ تر ممالک میں دکھائی نہیں دے گا۔
سپیس ڈاٹ کام کی رپورٹ کے مطابق یہ گرہن انٹارکٹکا میں دور افتادہ حصے میں دکھائی دے گا اور سورج آگ کے ایک گولے کی طرح نظر آئے گا، یسا اس وقت ہو گا جب چاند اپنے بیضوی مدار میں عین سورج کے سامنے آ جائے گا۔
چاند مکمل طور پر سورج کو ڈھانپ نہیں پاتا اس لیے سورج کی کرنیں سرخی مائل دکھائی دیں گی اور چاند کا سایہ سورج پر پھیلتا چلا جائے گا اور سورج بھی ایک روشن چاند کی مانند نظارہ پیش کرے گا، اس سے اگلے مرحلے میں رنگ آف فائر کا منظر ابھرے گا اور یہ اس وقت ہو گا جب چاند سورج کے عین سامنے ہو گا۔
ماہرین کے مطابق اس وقت آسمان قدرے تاریک ہو جائے گا اور سورج کا بیرونی کنارہ سنہری حلقے کی طرح نظر آئے گا اور یہ منظر انٹارکٹکا کے مختلف حصوں میں دکھائی دے گا اور تقریباً دو گھنٹے تک جاری رہے گا، اس کے بعد سنہری حلقہ دھیرے دھیرے ختم ہونا شروع ہو جائے گا۔
اسی طرح تیسرے مرحلے میں چاند سورج کے سامنے سے ہٹنا شروع ہو جائے گا اور آخری مرحلے میں مکمل طور پر سامنے سے ہٹ جائے گا۔
اگرچہ سورج گرہن کا یہ منظر انٹارکٹکا کے چند علاقوں میں دکھائی دے گا تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کو براہ راست دیکھنا بینائی کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے اس لیے اگر کوئی دیکھنا بھی چاہے تو اس کے لیے خصوصی چشمے یا سولر فلٹر استعمال کرے۔
اس کے تقریباً دو ہفتے بعد تین مارچ کو بھی آسمان پر چاند سرخ مائل دکھائی دے گا جس کو بلڈ مون کہا جاتا ہے یہ بھی سال کا پہلا بلڈ مون ہو گا اور شمالی امریکہ، مشرقی ایشیا اور آسٹریلیا میں نظر آئے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: دکھائی دے گا میں دکھائی ئے گا اور جائے گا ا ئے گا
پڑھیں:
توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
اسلام آباد(رضوان عباسی ): توشہ خانہ ریکارڈ میں وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو اپریل سے جون 2026 کے دوران مختلف غیر ملکی شخصیات اور وفود کی جانب سے ملنے والے سرکاری تحائف کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔
کابینہ ڈویژن کی دستاویزات کے مطابق اس عرصے میں موصول ہونے والے تمام سرکاری تحائف توشہ خانہ قواعد کے تحت کابینہ ڈویژن میں جمع کرا دیے گئے ہیں، جبکہ ان کی مالیت کے تعین (ویلیوایشن) کا عمل تاحال جاری ہے۔
دستاویزات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کو مختلف ممالک کے سربراہان، اعلیٰ حکام اور سرکاری وفود کی جانب سے متعدد یادگاری تحائف پیش کیے گئے۔ ان میں شوگر باؤل، گاڑی کا فریم شدہ ماڈل، شیلڈز، قیمتی قلم، کف لنکس، ٹائی، کافی کپ اور واٹر گلاس سیٹ، چائے کے کپ اور ساسرز، آرائشی واز، ایرانی فیروزہ اِنلے دستکاری پر مشتمل پانچ پیس سیٹ، روایتی چینی اسکرول پینٹنگ، چائنا اسپیس اسٹیشن کا ماڈل اور دیگر سووینئرز شامل ہیں۔
اسی طرح نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو بھی مختلف ممالک کی جانب سے متعدد سرکاری تحائف دیے گئے، جن میں مصری طرز کا مجسمہ، مسجد نبوی ﷺ کا ماڈل، کف لنکس اور دیگر یادگاری اشیا شامل ہیں۔
دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈپٹی چیف آف پروٹوکول محمد ارسلان میر کو ایک قیمتی ڈائمنڈ کلیکشن رسٹ واچ بطور سرکاری تحفہ موصول ہوئی، جس کی مالیت کا تعین بھی جاری ہے۔
کابینہ ڈویژن کے مطابق توشہ خانہ ریکارڈ میں شامل تمام تحائف متعلقہ قوانین اور قواعد کے مطابق وصول کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ویلیوایشن مکمل ہونے کے بعد توشہ خانہ رولز کے مطابق آئندہ کارروائی کی جائے گی۔
سرکاری ذرائع کے مطابق تحائف کی مالیت کا تعین مکمل ہونے کے بعد قواعد کے مطابق یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ متعلقہ حکام ان تحائف کو اپنے پاس رکھ سکتے ہیں یا انہیں سرکاری تحویل میں برقرار رکھا جائے گا۔