ہیوسٹن (ویب ڈیسک) ماہرین فلکیات نے کہا کہ رواں سال کا پہلا سورج گرہن 17 فروری کو آ رہا ہے، تاہم یہ پاکستان سمیت ایشیا کے زیادہ تر ممالک میں دکھائی نہیں دے گا۔
سپیس ڈاٹ کام کی رپورٹ کے مطابق یہ گرہن انٹارکٹکا میں دور افتادہ حصے میں دکھائی دے گا اور سورج آگ کے ایک گولے کی طرح نظر آئے گا، یسا اس وقت ہو گا جب چاند اپنے بیضوی مدار میں عین سورج کے سامنے آ جائے گا۔

چاند مکمل طور پر سورج کو ڈھانپ نہیں پاتا اس لیے سورج کی کرنیں سرخی مائل دکھائی دیں گی اور چاند کا سایہ سورج پر پھیلتا چلا جائے گا اور سورج بھی ایک روشن چاند کی مانند نظارہ پیش کرے گا، اس سے اگلے مرحلے میں رنگ آف فائر کا منظر ابھرے گا اور یہ اس وقت ہو گا جب چاند سورج کے عین سامنے ہو گا۔

ماہرین کے مطابق اس وقت آسمان قدرے تاریک ہو جائے گا اور سورج کا بیرونی کنارہ سنہری حلقے کی طرح نظر آئے گا اور یہ منظر انٹارکٹکا کے مختلف حصوں میں دکھائی دے گا اور تقریباً دو گھنٹے تک جاری رہے گا، اس کے بعد سنہری حلقہ دھیرے دھیرے ختم ہونا شروع ہو جائے گا۔

اسی طرح تیسرے مرحلے میں چاند سورج کے سامنے سے ہٹنا شروع ہو جائے گا اور آخری مرحلے میں مکمل طور پر سامنے سے ہٹ جائے گا۔

اگرچہ سورج گرہن کا یہ منظر انٹارکٹکا کے چند علاقوں میں دکھائی دے گا تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کو براہ راست دیکھنا بینائی کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے اس لیے اگر کوئی دیکھنا بھی چاہے تو اس کے لیے خصوصی چشمے یا سولر فلٹر استعمال کرے۔

اس کے تقریباً دو ہفتے بعد تین مارچ کو بھی آسمان پر چاند سرخ مائل دکھائی دے گا جس کو بلڈ مون کہا جاتا ہے یہ بھی سال کا پہلا بلڈ مون ہو گا اور شمالی امریکہ، مشرقی ایشیا اور آسٹریلیا میں نظر آئے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: دکھائی دے گا میں دکھائی ئے گا اور جائے گا ا ئے گا

پڑھیں:

بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رکن قومی اسمبلی نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف ایک خاموش جنگ لڑی جا رہی ہے جو بارود سے زیادہ نوجوانوں کے ذہنوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

صوبائی وزرا علی مدد جتک اور عاصم کرد گیلو کے ہمراہ کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ دشمن پاکستان اور بلوچستان کو توڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 2018 میں بشیر زیب نے جب ایک کالعدم تنظیم کی کمان سنبھالی تو حالات مزید خراب ہوئے، جبکہ جنید بشیر زیب کا رائٹ ہینڈ ہے۔

انہوں نے کہاکہ آج کی جنگ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر لڑی جا رہی ہے اور کالعدم تنظیموں کے کارندے زنگی ایپ کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیمیں سنگل ایپ کے ذریعے آپریشنل منصوبہ بندی جبکہ ڈیلٹا چیٹ کے ذریعے خفیہ بھرتیاں کرتی ہیں۔

نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ آج دشمن صرف گولی کا استعمال نہیں کر رہا بلکہ سوشل میڈیا پر ٹرینڈز چلا کر بھی اپنا ایجنڈا آگے بڑھا رہا ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ نوجوان پہاڑوں کا رخ کریں۔

انہوں نے دعویٰ کیاکہ کالعدم تنظیموں نے اپنی سرگرمیوں میں خواتین کا استعمال بھی شروع کر دیا ہے۔ شہناز بلوچ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے جلسوں میں شرکت کرتی تھیں اور ان کا باہوٹ کے ذریعے کالعدم تنظیم سے رابطہ ہوا۔

نوابزادہ جمال رئیسانی نے مزید کہاکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی بلوچستان کی قیادت ڈاکٹر صبیحہ کر رہی ہیں اور ان کا بھائی ایک کالعدم تنظیم کا حصہ ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کراچی سیل کی قیادت فوزیہ شاہوانی کررہی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews بلوچستان سیاست خاموش جنگ نوابزادہ جمال رئیسانی وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • بانی سے ملاقات تک خیبرپختونخوا کا بجٹ پاس نہ کیا جائے، علیمہ خان کی سہیل آفریدی کو تنبیہ
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم