لاہور (ویب ڈیسک) نئی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ورزش نہ کرنے سے ذیابیطس ٹائپ 2 کے مریضوں کو لاحق ہونے والی طبی پیچیدگیاں بڑھ جاتی ہیں۔
جرنل آف سپورٹ اینڈ ہیلتھ سائنس میں شائع تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ ذیابیطس سے منسلک 10 فیصد پیچیدگیاں جیسے فالج، ہارٹ فیلیئر، امراض قلب اور بینائی سے محرومی کا خطرہ زیادہ وقت بیٹھ کر گزارنے سے بڑھتا ہے، تحقیق میں 27 تحقیقی رپورٹس کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا جن میں لگ بھگ 24 لاکھ افراد کو شامل کیا گیا تھا۔

اس ڈیٹا کے ذریعے محققین نے ذیابیطس کے مریضوں کی جسمانی سرگرمیوں کے دورانیے اور ذیابیطس سے جڑی کسی بھی پیچیدگی کو ٹریک کیا، جو افراد ہر ہفتے کم از کم 150 منٹ تک معتدل سے سخت جسمانی سرگرمیوں سے دور رہتے تھے، انہیں سست طرز زندگی کا حامل قرار دیا گیا۔

تیز رفتاری سے چہل قدمی، سائیکل چلانے، یوگا، رقص یا گھر کے کام وغیرہ کو معتدل جسمانی سرگرمیوں میں شامل کیا جاتا ہے، جبکہ تیراکی، ایروبک ڈانس، تیزی سے سائیکل چلانے، رسی کودنے اور مشقت والے کام سخت جسمانی سرگرمیوں کے زمرے میں آتے ہیں۔

نتائج سے ثابت ہوا کہ جسمانی سرگرمیوں سے دوری سے ذیابیطس کے مریضوں میں فالج کا خطرہ 10.

2 فیصد، عصبی مسائل کا خطرہ 9.7 فیصد، ہارٹ فیلیئر کا خطرہ 7.3 فیصد جبکہ امراض قلب کا خطرہ 7 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔

محققین نے بتایا کہ نتائج سے واضح ہوتا ہے کہ جسمانی سرگرمیاں ذیابیطس کی پیچیدگیوں سے تحفظ فراہم کرتی ہیں اور ذیابیطس کے مریض متعدد مسائل سے بچ سکتے ہیں، ذیابیطس کے مریضوں کو اکثر مختلف طبی پیچیدگیوں کا سامنا ہوتا ہے اور اس سے بچنے کیلئے جسمانی سرگرمیوں کو معمول بنانے کی ضرورت ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: جسمانی سرگرمیوں ذیابیطس کے کے مریضوں کا خطرہ

پڑھیں:

پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کی مذمت کرتے ہیں، پاکستانی پرچم بردار جہازوں پر کارروائی قومی سلامتی کا خطرہ تصور ہوگی، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔
 تفصیلات کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں کہا کہ حوثیوں نے سعودی کمرشل جہازوں کو دھمکیاں دی، حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کے اطلاعات بھی ہیں، پاکستان حوثیوں کے ان اقدامات کی مذمت کرتا ہے۔سعودی عرب کے ساتھ تجارت کو نشانہ بنانے یا اس کے خلاف دھمکیاں دینا ناقابلِ قبول ہے، سعودی عرب کے ساتھ جائز تجارتی سرگرمیوں میں مصروف بحری جہازوں کو دھمکیاں دینے پر پاکستان کو تشویش ہے۔ پاکستان کو سعودی عرب کے خلاف حوثی ملیشیا کی مسلسل دھمکیوں پر شدید تشویش ہے، بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے اعلانات کی شدید مذمت کرتے ہیں، مشرق وسطیٰ کے تنازع میں سعودی عرب کو گھسیٹنے کی کوششوں پر تشویش ہے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

’’دنیا نیوز ‘‘ کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائے گا، پاکستان کے سمندری مفادات کے خلاف جارحانہ کاروائی کو خودمختار مفادات کے لیے سنگین خطرہ تصور کیا جائے گا۔اقوامِ متحدہ کے قانون کے مطابق پاکستان اپنے سمندری اثاثوں کی دفاع کے لیے طاقت کے استعمال کا حق محفوظ رکھتا ہے، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔پاکستان نے تمام فریقوں پر ضبط و تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا ہے، پاکستان کو مشرق وسطیٰ میں کشیدگی پر تشویش ہے، پاکستان مذاکرات اور سفارتکاری کی کوشش کی حمایت رکھے گا، ایران، امریکہ مذاکرات کے لیے پرامید ہیں۔

اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم

انہوں نے بتایا کہ ایرانی وزیر داخلہ نے وزیراعظم، نائب وزیراعظم، فیلڈ مارشل سے ملاقاتیں کی ہیں، پاکستان کی سفارتی کوشش جاری ہے، بات چیت ہی کشیدگی کا واحد حل ہے، تجارتی جہازوں کو دھمکیاں علاقائی امن، عالمی تجارت کیلئے سنگین خطرہ ہیں۔ نائب وزیر اعظم نے آسیان ریجنل فورم کے موقع پر مختلف ممالک کے وزرا ئے خارجہ سے اہم ملاقاتیں کی ہیں، ملاقاتوں میں مشرق و سطیٰ میں قیام امن، کشیدگی کے خاتمے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے بدستور موجود ہیں، افغان طالبان کی طرف سے دہشتگردوں کی پشت پناہی سے علاقائی امن کو خطرہ لاحق ہے۔ہزاروں پاکستانی دہشت گردی کے واقعا ت میں شہید ہو چکے ہیں، عالمی برادری دہشتگردوں کی پشت پناہی پر افغان طالبان کو جواب دہ ٹھہرائے۔

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی

یورپی یونین کی رپورٹ پر دفتر خارجہ نے ردعمل دیا کہ پاکستان کے لیے جاری کردہ جی ایس پی رپورٹ فائنل ہے، پاکستان 27 کنونشن پر عمل درآمد کررہا ہے، جی ایس پی پلس درجہ پاکستان کی معیشت کے لیے فائدہ مند رہا ہے، ہم یورپی یونین کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں، پاکستان انٹرنیشنل کنونشن پر عملدرآمد کرتا رہے گا۔
 

مزید :

متعلقہ مضامین

  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
  • 5 دنوں میں پٹرول اور ڈیزل اوسطاً 54 روپے بڑھا دیا گیا: تیمور جھگڑا