پاکستانی اداروں کا مشترکہ آپریشن، 20 ارب روپے سے زائد مالیت کی منشیات پکڑی گئی
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
آپریشن میں پاک بحریہ، میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی اور جوائنٹ میری ٹائم انفارمیشن کوآرڈی نیشن سنٹر نے بھی حصہ لیا۔ کشتی کی تلاشی کے دوران 1300 کلوگرام سے زائد چرس اور بڑی مقدار میں شراب برآمد کر لی گئی۔ اسلام ٹائمز۔ بحیرہ عرب میں پاکستانی اداروں نے مشترکہ آپریشن کرتے ہوئے اربوں روپے مالیت کی منشیات سمگل کرنے کی کوشش ناکام بنا دی۔ ذرائع کے مطابق اینٹی نارکوٹکس فورس کی فراہم کردہ اطلاع پر بحیرہ عرب میں کامیاب آپریشن کیا گیا، جس کے دوران منشیات کی بڑی کھیپ پکڑی گئی۔ آپریشن میں پاک بحریہ، میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی اور جوائنٹ میری ٹائم انفارمیشن کوآرڈی نیشن سنٹر نے بھی حصہ لیا۔ کشتی کی تلاشی کے دوران 1300 کلوگرام سے زائد چرس اور بڑی مقدار میں شراب برآمد کر لی گئی۔ برآمد شدہ منشیات اور دیگر ممنوعہ اشیاء کی مجموعی مالیت 20 ارب روپے سے زائد ہے۔ اینٹی نارکوٹکس فورس اور دیگر ادارے منشیات کی روک تھام کیلئے بھرپور کردار ادا کر رہے ہیں۔ یہ انسداد منشیات آپریشن متعلقہ پاکستانی اداروں کے مربوط باہمی رابطے، معلومات کے تبادلے اور مؤثر حکمت عملی کا مظہر ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: میری ٹائم
پڑھیں:
روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران کریملن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس یوکرین تنازع کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم یورپی ممالک کی جانب سے کیف حکومت کی مسلسل حوصلہ افزائی کے باعث روس اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج خصوصی فوجی آپریشن کے دوران مثبت پیش رفت حاصل کر رہی ہیں اور میدانِ جنگ میں صورتحال حوصلہ افزا ہے۔
کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ یوکرین کے معاملے پر روس اور امریکا کے درمیان رابطے برقرار ہیں، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تنازع کے حل کی کوششوں میں کوئی نمایاں پیش رفت یا تیزی آئی ہے۔ دیمتری پیسکوف نے کہا کہ موجودہ ورکنگ چینلز کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ امریکی مذاکرات کار اپنی مصروفیات مکمل ہونے کے بعد ماسکو کا دورہ کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکے۔
جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے روس کے مؤقف پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اصول پر قائم ہے، تاہم ہر ملک کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کا مؤقف جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق ہے، جبکہ ایران، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو پُرامن جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہے اور اس حق کی ضمانت دی جانی چاہیے۔