جرمنی اور فرانس کا چین سے اسٹریٹجک مکالمہ جاری رکھنے پر اتفاق
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
جرمنی اور فرانس کا چین سے اسٹریٹجک مکالمہ جاری رکھنے پر اتفاق WhatsAppFacebookTwitter 0 14 February, 2026 سب نیوز
بیجنگ :چینی وزیر خارجہ وانگ ای نے جرمنی کے شہر میونخ میں جرمن وزیر خارجہ یوہان واڈے فیہول اور فرانسیسی وزیر خارجہ جین نوئل ہاروٹ کے ساتھ سہ فریقی وزرائے خارجہ کی ملاقات میں شرکت کی ۔ہفتہ کے روز وانگ ای نے کہا کہ چین، جرمنی اور فرانس کے وزرائے خارجہ کے درمیان پہلی سہ فریقی ملاقات بدلتے ہوئے حالات کے جواب میں ایک اختراعی اقدام اور تزویراتی رابطے کا ایک اہم موقع ہے۔
ذمہ دار بڑے ممالک اور بڑی عالمی معیشتوں کی حیثیت سے، تینوں ممالک عالمی امن اور ترقی کے لیے اہم ذمہ داریاں ادا کرتے ہیں ۔وانگ ای نے کہا کہ ہمیں باہمی احترام کے بنیادی اصول پر عمل کرنا چاہیے، اختلافات کو ملحوظ رکھتے ہوئے مشترکہ بنیاد تلاش کرنے کے اصول کو برقرار رکھنا چاہیے، کھلے پن اور تعاون پر مبنی سمت کی وکالت کرنی چاہیے، باہمی فائدہ مند تعاون کو فروغ دینا چاہیے، چین-یورپی یونین تعلقات کی ترقی کی سمت کو واضح کرنا چاہیے، اور پیچیدہ اور غیر مستحکم بین الاقوامی صورتحال میں مزید استحکام اور یقین فراہم کرنا چاہیے۔وانگ ای نے اس بات پر زور دیا کہ چین اور یورپ کے درمیان 50 سال کےمیل جول اور تعاون نے ثابت کیا ہے کہ دونوں فریق شراکت دار ہیں، مخالف نہیں۔
انہوں نے کہا کہ باہمی انحصار کوئی خطرہ نہیں ہے۔ آپس میں جڑے ہوئے مفادات کو کوئی خطرہ نہیں ہے اور ایک کھلا تعاون سلامتی کو کمزور نہیں کرے گا۔ چینی وزیر خارجہ نے کہا کہ چین کی ترقی یورپ کے لیے ایک موقع ہے، اور یورپ کے چیلنجز چین سے نہیں آتے۔ دونوں فریقوں کو ایک دوسرے کے بنیادی مفادات اور اہم خدشات کا احترام کرنا چاہیے، اختلافات کو مناسب طریقے سے سنبھالنا چاہیے، عملی تعاون کو گہرا کرنا چاہیے اور عالمی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے متحد ہونا چاہیے۔جرمن وزیر خارجہ نے کہا کہ اس وقت دنیا میں بدامنی اور عدم استحکام پایا جاتا ہے، تو جرمنی اور فرانس کو چین کے ساتھ رابطے اور بات چیت، باہمی اعتماد میں اضافے ، غلط فہمیوں کے ازالے، عظیم طاقتوں کے طور پر اپنا کردار ادا کرنے اور مشترکہ آواز بلند کرنے کی پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے۔
فرانسیسی وزیر خارجہ نے کہا کہ بین الاقوامی صورتحال جتنی زیادہ غیر مستحکم ہوگی، شراکت داری کی ضرورت اتنی ہی زیادہ ہوگی۔ فرانس مستحکم اور مثبت یورپ چین تعلقات کو بحال کرنے کے لیے پرعزم ہے۔تینوں فریقوں نے چین اور یورپ کے تعلقات کے اہم مسائل اور یوکرین کے بحران جیسے مشترکہ دلچسپی کے مسائل پر تبادلہ خیال کیا۔ تینوں فریقوں نے ملاقات کی اہمیت کے بارے میں مثبت رائے دی اور اسٹریٹجک مواصلات کو جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرعمران خان کی آنکھ کا معاملہ، علیمہ خان پھٹ پڑیں، سخت ردعمل میزائل پروگرام ریڈ لائن ہے، ایران کا ایک بار پھر اس پر کسی قسم کے مذاکرات سے انکار جنسی زیادتی میں ملوث ایپسٹین نے خودکشی نہیں کی، ممکنہ طورپرانکا گلادبایا گیا، ڈاکٹر کا دعویٰ امریکا کا ایران پر دباؤ بڑھانے کیلیے مشرقِ وسطیٰ میں دنیا کا سب سے بڑا بحری بیڑہ تعینات کرنےکا اعلان اقوام متحدہ کا بڑا فیصلہ، طالبان پابندیوں کی نگرانی میں ایک سال کی توسیع کردی گئی نیتن یاہو کو کرپشن کیس میں معافی ملنی چاہیے: امریکی صدر بنگلادیش انتخابات: بی این پی دو تہائی اکثریت کے ساتھ 209 نشستیں جیتنے میں کامیاب، جماعت اسلامی اتحاد 68 سیٹوں تک محدودCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: جرمنی اور فرانس
پڑھیں:
آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
امریکی سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں ایرانی ’جوہری پروگرام (Irani atomic programme)کے وہ پہلو بھی شامل ہیں، جس کا وہ (ایران) ایک مہینے یا سال قبل تک ذکر کرنے سے بھی انکار کر رہا تھا۔‘
امریکی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نہ صرف زندہ ہیں بلکہ بظاہر تیزی سے سرگرم بھی ہو رہے ہیں۔
مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کو بتایا کہ ’میرے خیال میں اس بات کے آثار ہیں کہ وہ کسی نہ کسی سطح پر بڑھتا ہوا کردار ادا کر رہے ہیں۔
ایرانی ٹیلی ویژن کے مطابق، مجتبیٰ خامنہ ای کو 20 مارچ کے بعد سے عوامی سطح پر نہیں دیکھا گیا۔
وہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کی پہلی لہر میں زخمی ہوئے تھے۔ ان کے والد علی خامنہ ای بھی اسی حملے میں مارے گئے تھے۔
مزید پڑھیں:عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر کے دفتر میں بین الاقوامی امور کے نائب نے ایک ماہ قبل کہا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت بالکل ٹھیک ہے اور وہ ’معاملات کے انتظام میں مصروف‘ ہیں۔