پاک بھارت ٹاکرا، انڈین کھلاڑیوں کو حکومت نے 'بلو دی بیلٹ' ہدایات دی ہیں، سلمان بٹ
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
قومی ٹیسٹ کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان سلمان بٹ نے کہا ہے کہ بھارتی کھلاڑیوں کو حکومت کی جانب سے 'بلو دی بیلٹ' ہدایات ملی ہیں، جو کھیل کے لیے افسوسناک ہے، ہم پہلے بھی ہاتھ ملانے کے لئے آگے بڑھے تھے، اب بھی یقینا بڑھیں گے۔
سابق ٹیسٹ کپتان سلمان بٹ نے کہا ہے کہ کھیل کو ہمیشہ کھیل کی طرح اور اسپورٹس مین اسپرٹ کے ساتھ کھیلا جانا چاہیے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ میچ کے اختتام پر کھلاڑیوں کو ایک دوسرے سے ہاتھ ملانا چاہیے اور آگے بڑھنا چاہیے، کیونکہ پوری دنیا اور نئی نسل ان کو دیکھ رہی ہوتی ہے۔
سلمان بٹ کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ہمیشہ اس معاملے میں بڑے پن کا مظاہرہ کیا ہے اور ہمیشہ اپنا ہاتھ بلند رکھا ہے۔ انہوں نے ماضی کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستانی ٹیم ہمیشہ اپنے ڈگ آؤٹ سے باہر نکل کر فراخدلی کا مظاہرہ کرتی رہی ہے اور اس بار بھی پاکستان کی یہی کوشش ہوگی۔
بھارتی ٹیم کے رویے پر تبصرہ کرتے ہوئے سلمان بٹ نے انکشاف کیا کہ انہیں یقین ہے کہ بھارتی کھلاڑی اپنی مرضی سے ایسا نہیں کر رہے بلکہ انہیں اپنی حکومت (مودی سرکار) کی جانب سے 'بلو دی بیلٹ' (غیر اخلاقی) ہدایات ملی ہوئی ہیں۔
انہوں نے اس رویے کو کرکٹ کے لیے انتہائی افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ جب کسی چیز میں فیئر پلے نہ ہو تو لوگ کہتے ہیں کہ "یہ کرکٹ نہیں ہے"۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر کھیل میں اس طرح کا منفی رویہ لایا جائے گا تو یہ نہ تو کرکٹ کے لیے اچھا ہے اور نہ ہی ان شائقین کے لیے جو اس کھیل کو شوق سے دیکھتے ہیں۔
سلمان بٹ کے مطابق کھلاڑیوں کے درمیان تلخی پیدا کرنا کھیل کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے اور سیاست کو میدان سے دور رکھنا چاہیے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔