تامل فلموں کے معروف اداکار وجے کی سیاسی ریلی میں مداح ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
ممبئی (ویب ڈیسک) جنوبی بھارت کے تامل فلموں کے معروف اداکار و سیاستداں جوزف وجے چندرا شیکھر المعروف وجے کی سیاسی ریلی نے ان کے اپنے ہی ایک مداح کی جان لے لی۔
بھارتی میڈیا کے مطابق جمعہ کو تامل ناڈو کے شہر سالیم میں وجے کی سیاسی ریلی کے دوران یہ واقعہ پیش آیا جس میں ایک 37 سالہ شخص ہلاک ہوا، ہلاک شخص کی شناخت سورج کے نام سے ہوئی جو ریلی کے دوران گر گیا تھا۔
متاثرہ شخص کو ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹرز نے اسے مردہ قرار دے دیا، مرنے والا شخص وجے کا بہت بڑا مداح تھا اور اس کا تعلق مہاراشٹر سے تھا، تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ وہ اس حوالے سے تحقیقات کر رہے ہیں۔
خیال رہے کہ اس سے قبل گزشتہ برس ستمبر میں تامل ناڈو کے ضلع کارور میں بھی وجے کی سیاسی جماعت تاملاگا ویتری کازاگم کی ریلی میں بھگڈر مچنے سے 40 افراد ہلاک اور 100 سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: وجے کی سیاسی
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔