Express News:
2026-07-24@01:48:35 GMT

عمران خان کی آنکھ کا معاملہ، علیمہ خان پھٹ پڑیں، سخت ردعمل

اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT

لاہور:

بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان نے کہا ہے کہ عدالتی نظام دفن ہو چکا ہے، عمران خان کی آنکھ کا چھپ کر علاج کروانا قبول نہیں۔

عدالت میں پیشی کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان نے کہا ہے کہ عدالتی نظام دفن ہو چکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں  عمران خان سے متعلق تفصیلات اس وقت ملیں جب سلمان صفدر کو سپریم کورٹ میں پیش کر دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے بتایا کہ انہیں 3 ماہ سے دھندلا نظر آ رہا تھا تاہم صحت کے حساب سے وہ فٹ ہیں۔  علیمہ خان نے کہا کہ آنکھ کی شکایت پر آئی ڈراپ دی گئی جب کہ ملاقات کے دوران عمران خان کی آنکھ سے پانی نکل رہا تھا۔

علیمہ خان کا کہنا تھا کہ آنکھ کا علاج نہ کرنے پر غفور انجم جیل سپرنٹنڈنٹ اور ڈاکٹر مجرم ہیں۔ اگر کل بھوشن ہوتا تو پورے پاکستان کی میڈیکل ٹیم پہنچ جاتی۔ عمران خان کا جرم یہ ہے کہ وہ عوام کی بات کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دشمن کمینہ نہیں ہونا چاہیے ۔ پیٹھ پر چھرا مارنے والا ہیرو نہیں ہو سکتا۔ چیف جسٹس نے علاج کے لیے کوئی حکم نہیں لکھا۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں چھپا کر علاج کروانا قبول نہیں ہے ۔ عمران خان کے ذاتی معالج کی موجودگی کیوں قبول نہیں کی جا رہی۔ انہوں نے کے پی کے کے تمام ایم این اے، محمود اچکزئی اور ناصر عباس نقوی کے احتجاج پر شکریہ ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کے پی کے کو بند کر دیا جائے جب تک عمران خان کا علاج نہیں کروایا جاتا۔

علیمہ خانم نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کا علاج کروایا جائے ۔ انہوں نے تمام لوگوں سے اپیل کی کہ کے پی کے بند ہونے پر لوگ برداشت کر کے اپنا حصہ ڈالیں۔

مزید پڑھیں

26نومبر احتجاج؛ علیمہ خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری برقرار

عدالتوں میں جھوٹے گواہ پیش کیے جارہے ہیں، علیمہ خان

انہوں نے کہا کہ ہم آپ کی رپورٹس پر اعتبار نہیں کریں گے۔ بے بس کمزور پر زور دکھانے والا کمینہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے بتایا کہ رات کو فون آیا تھا کہ اسپتال میں علاج کروا دیں گے مگر ان کے ڈاکٹر اور فیملی ممبر نہیں ہوں گے، جو ہمیں قبول نہیں ہے، صحیح طرح سے علاج کروایا جائے۔

قبل ازیں انسداد دہشت گردی عدالت لاہور  میں  5 اکتوبر کو پولیس پر مبینہ تشدد اور سڑک بلاک کرنے  کے مقدمے  میں عمران خان کی بہن علیمہ خان کی عبوری ضمانت کی درخواست پر سماعت اے ٹی سی جج منظر علی گل نے کی، جس میں عدالت نے پراسیکیوشن سے مقدمات کا ریکارڈ اور وکلا سے دلائل طلب کرلیے ۔

عدالت نے علیمہ خان کی عبوری ضمانت میں 13 مارچ تک توسیع  کردی۔ آج کی سماعت میں علیمہ خان نے عدالت کے روبرو پیش ہوکر حاضری مکمل کروائی ۔ واضح رہے کہ اس کیس کا مقدمہ تھانہ شفیق آباد میں درج ہے۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: عمران خان کی علیمہ خان نے قبول نہیں نے کہا کہ انہوں نے تھا کہ خان کا

پڑھیں:

کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری

پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل