عمران خان کی توشہ خانہ ٹو کیس میں سزا معطل اور ضمانت پر رہائی کی درخواست دائر
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
اسلام آباد:
بانی پی ٹی آئی عمران خان کی توشہ خانہ ٹو کیس میں سزا معطل اور ضمانت پر رہائی کی درخواست دائر کردی گئی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق بیرسٹر سلمان صفدر اور خالد یوسف چوہدری کے ذریعے توشہ خانہ ٹو کیس میں بانی پی ٹی آئی کی سزا معطل کرکے ضمانت پر رہا کرنے کی درخواست دائر کی گئی ہے۔
علاوہ ازیں 190 ملین پاؤنڈ کیس میں بھی سزا معطل کرنے کا کیس جلد سماعت کے لیے مقرر کرنے کی متفرق درخواست دائر کی گئی ہے۔
مزید پڑھیںعمران خان کی آنکھ کا معاملہ، علیمہ خان پھٹ پڑیں، سخت ردعمل
عمران خان کے طبی معائنے سے متعلق اہم پیشرفت
عمران خان کی صحت پر سیاست کروں گا نہ کسی کو کرنے دوں گا، وزیراعلیٰ پختونخوا
اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ توشہ خانہ ٹو میرٹ اور طبی بنیاد پر سزا معطلی کا کیس بنتا ہے۔ بانی پی ٹی آئی اپنی دائیں آنکھ کی ایک سنگین بیماری میں مبتلا ہیں۔ آنکھ کی بیماری کی تشخیص پمز کے ڈاکٹر محمد عارف نے کی ہے۔
درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر نے قرار دیا ہے کہ درخواست گزار کی دائیں آنکھ خون کے لوتھڑے کے باعث شدید متاثر ہو چکی ہے۔ بیماری کے نتیجے میں دائیں آنکھ کی بینائی صرف 15 فیصد رہ گئی ہے۔ اس بیماری کا علاج جیل کے اندر ممکن نہیں۔ بانی پی ٹی آئی کی عمر 73 سال ہے، انہیں ضمانت پر رہا کیا جائے ۔
بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر سلمان صفدر نے بتایا کہ بانی پی ٹی آئی کے کیسز آئندہ ہفتے مقرر کیے جائیں گے۔ بانی پی ٹی آئی کی آنکھ کے مرض کے بعد جلد سماعت کی درخواست دائر کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بشریٰ بی بی خاتون ہیں ان کو ایک سال سے ضمانت نہیں ملی ۔ ہم نے درخواست کی ہے کہ پیر کے روز بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی ضمانت کی درخواستیں مقرر کریں ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کی درخواست دائر بانی پی ٹی آئی توشہ خانہ ٹو کیس میں
پڑھیں:
لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔
پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔
اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔