معروف پیتھالوجسٹ ڈاکٹر مائیکل باڈن، جنہوں نے جیفری ایپسٹین کے پوسٹ مارٹم کے دوران معائنہ کیا، نے کہا ہے کہ دستیاب شواہد ‘خودکشی کے بجائے قتل کے امکان’ کی حمایت کرتے ہیں اور اس وجہ سے اپسٹائن کی موت پر نئی تحقیقات ضروری ہیں۔

ڈاکٹر باڈن، جو نیویارک سٹی کے سابق چیف میڈیکل ایگزیمینر ہیں، نے کہا کہ حال ہی میں جاری شدہ دستاویزات نے ان کے پرانے موقف کو مضبوط کیا ہے کہ اگست 2019 میں ایپسٹین کی موت مزید جانچ کی محتاج ہے۔

یہ بھی پڑھیے: ’ایک لمبی سویڈش سنہرے بالوں والی خاتون‘، انیل امبانی کی جیفری ایپسٹین سے فرمائش کا انکشاف

ایپسٹین کو جیل کی سیل میں مردہ پایا گیا تھا، جہاں وہ جنسی ٹریفکنگ کے مقدمے کا سامنا کر رہے تھے، اور حکام نے موت کو خودکشی قرار دیا۔

ڈاکٹر باڈن نے ٹیلیگراف کو بتایا، ‘میرا اس وقت یہی خیال تھا، اور میں اب بھی اسی پر قائم ہوں۔ آٹوپسی کے نتائج زیادہ تر ایسے زخموں سے مطابقت رکھتے ہیں جو قتل کے دوران گردن پر دباؤ سے پیدا ہوتے ہیں، نہ کہ خودکشی کے لیے پھندے سے۔’

باڈن نے بتایا کہ وہ ایپسٹین کے بھائی مارک ایپسٹین کی درخواست پر آٹوپسی میں مشاہدہ کرنے گئے تھے۔ ان کے مطابق، وہ اور تب کی چیف میڈیکل ایگزیمینر باربرا سیمپسون نے ابتدائی طور پر کہا تھا کہ نتائج غیر واضح ہیں اور موت کی صحیح وجہ معلوم کرنے کے لیے مزید معلومات کی ضرورت ہے۔

باڈن نے کہا کہ نئی دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ موت کی ابتدائی وجہ ‘زیر التوا’ نشان زد کی گئی تھی، لیکن صرف 5 دن بعد نیویارک میڈیکل ایگزیمینر کے دفتر نے موت کو خودکشی قرار دیا، جسے باڈن نے حیران کن فیصلہ قرار دیا۔

یہ بھی پڑھیے: جیفری ایپسٹین فائلز میں نام آنے پر اہم برطانوی سیاستدان پارٹی رکنیت سے مستعفی

پیتھالوجسٹ نے بتایا کہ ایپسٹین کی گردن میں 3 ہڈیوں کے ٹوٹنے کے زخم پائے گئے، جو خودکشی میں نایاب ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ زخم قتل کے امکان کی طرف اشارہ کرتے ہیں اور مکمل تحقیقات کی ضرورت ہے۔

باڈن نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ کیا یہ زخم بستر کی چادر کے پھندے سے ممکن ہیں، کیونکہ نشانات مختلف قسم کے مواد کی موجودگی کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

تاہم، سابق چیف میڈیکل ایگزیمینر باربرا سیمپسون نے بار بار اپنی رپورٹ کا دفاع کیا اور کہا کہ اپسٹائن کی موت خودکشی ہی تھی اور قتل کے شواہد موجود نہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

جیفری ایپسٹین خودکشی قتل موت.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: جیفری ایپسٹین قتل موت جیفری ایپسٹین ایپسٹین کی باڈن نے نے کہا قتل کے کی موت کہا کہ

پڑھیں:

کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار

فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) بلوچستان نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا۔

 ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔

انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لیے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔

ڈائریکٹر ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔

بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • فرانس؛ جیفری ایپسٹین کا قریبی ساتھی بھی پراسرار حالت میں مردہ پایا گیا
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • جیفری ایپسٹین کیس سے جڑے معروف نام ڈینیئل سیاد کی فرانس میں پراسرار موت
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار