اب پنجاب محفوظ ہو چکا، راجن پور اور کچے کا علاقہ سو فیصد کلیئر کر لیا گیا ۔وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اعلان کیا ہے کہ راجن پور اور کچے کا علاقہ سو فیصد کلیئر کر لیا گیا ہے اور اب پنجاب محفوظ ہو چکا ہے۔ کچا میں آپریشن پر اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کہنا تھا کہ کچے کے علاقوں میں ڈاکوؤں نے ریاست کے اندر ایک ریاست بنائی ہوئی تھی اور خوف کا ماحول پیدا کر رکھا تھا، لوگوں کو ہنی ٹریپ کے ذریعے اغوا کر لیا جاتا تھا۔ ان کے مطابق کچا علاقہ جو کبھی خوف کی علامت بن چکا تھا، اب قانون کی عملداری کا علاقہ بن گیا ہے۔ مریم نواز نے بتایا کہ ماضی میں یہاں اغوا برائے تاوان اور دیگر سنگین جرائم معمول بن چکے تھے اور ڈاکوؤں نے ریاست کے اندر ایک الگ ریاست قائم کر رکھی تھی۔ انہوں نے اجلاس کو بتایا کہ حالیہ آپریشن کے دوران 500 جرائم پیشہ افراد نے حکومت کے سامنے سرنڈر کیا، جبکہ کارروائی میں جدید ٹیکنالوجی، ڈرون اور جدید ہتھیار استعمال کیے گئے تاکہ جرائم پیشہ عناصر کی نقل و حرکت پر مسلسل نظر رکھی جا سکے۔ وزیراعلیٰ کے مطابق اس پورے آپریشن میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ مریم نواز نے سابق آئی جی پولیس کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کچے کے آپریشن میں اہم ذمہ داریاں نبھائیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ گزشتہ 45 روز کے دوران کچے کے علاقے میں ہنی ٹریپ کا کوئی واقعہ رپورٹ نہیں ہوا، جو امن و امان کی بہتر صورتحال کا ثبوت ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے واضح کیا کہ ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے والوں کے لیے کوئی رعایت نہیں ہوگی اور عوام کی جان و مال کے تحفظ میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ کئی دہائیوں تک پنجاب حکومت کو شہدا کے جنازے اٹھانے پڑے، مگر اب حالات بدل رہے ہیں۔ اجلاس سے خطاب میں مریم نواز نے بتایا کہ اس آپریشن کے دوران پاک فوج نے پولیس کی بھرپور معاونت کی، جبکہ سندھ حکومت اور سندھ پولیس کے تعاون کے بغیر یہ کامیابی ممکن نہیں تھی۔ انہوں نے سندھ حکومت اور سندھ پولیس کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ دونوں اداروں نے بھرپور ساتھ دیا۔ وزیراعلیٰ نے اعلان کیا کہ کچے کے علاقوں میں بھی ترقیاتی کام کیے جائیں گے، جن میں سڑکوں کی تعمیر، گرین بس سروس اور دیگر سہولیات شامل ہوں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ کچے کے علاقوں کو بھی باقاعدہ ترقیاتی پیکج دیا جائے گا تاکہ وہاں کے عوام کو بنیادی سہولیات میسر آ سکیں اور دیرپا امن قائم ہو سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: مریم نواز نے انہوں نے بتایا کہ کچے کے
پڑھیں:
چینی چڑیا گھر میں جانور گرمی کی شدید لہر سے کیسے محفوظ رہتے ہیں؟
چین کے جنوب مغربی شہر چونگ چنگ میں شدید گرمی کے پیش نظر چونگ چنگ چڑیا گھر نے جانوروں کو محفوظ اور آرام دہ رکھنے کے لیے خصوصی انتظامات کیے ہیں۔ پانڈا، ہاتھی، دریائی گھوڑوں اور دیگر جانوروں کو ٹھنڈے پانی، پھلوں اور جدید کولنگ سسٹمز کے ذریعے گرمی سے بچانے کی کوششیں جاری ہیں۔
سرکاری خبر رساں ادارے شِنہوا کے مطابق چونگ چنگ چڑیا گھر میں دیوقامت پانڈا، ہاتھی، دریائی گھوڑے اور دیگر جانوروں کو شدید گرمی سے بچانے کے لیے ٹھنڈے پانی کے تالاب، مصنوعی بارش (مسٹنگ سسٹم)، سایہ دار مقامات اور خصوصی خوراک کا انتظام کیا گیا ہے۔
چڑیا گھر میں موجود دیوقامت پانڈا دن کے گرم اوقات میں پانی کے تالابوں میں وقت گزار رہے ہیں، جبکہ ان کے باڑوں میں مسلسل پانی کی باریک پھوار چلائی جا رہی ہے تاکہ درجہ حرارت کم رکھا جا سکے۔
اسی طرح دریائی گھوڑوں اور ہاتھیوں کو جسمانی درجہ حرارت متوازن رکھنے کے لیے تربوز اور دیگر پانی سے بھرپور پھل کھلائے جا رہے ہیں، جبکہ ان کے لیے نہانے اور پانی میں رہنے کے اضافی انتظامات بھی کیے گئے ہیں۔
ماہرین کے مطابق پانڈا نسبتاً ٹھنڈے موسم کے جانور ہیں اور شدید گرمی ان کی صحت، خوراک اور روزمرہ سرگرمیوں پر منفی اثر ڈال سکتی ہے۔ اسی وجہ سے چین کے مختلف چڑیا گھروں میں موسمِ گرما کے دوران کولنگ سسٹمز، برف کے بلاکس، ایئر کنڈیشنڈ انڈور حصوں اور پانی سے بھرپور غذا کا استعمال معمول کا حصہ بن چکا ہے۔
چونگ چنگ چین کے گرم ترین شہروں میں شمار ہوتا ہے، جہاں موسمِ گرما میں درجہ حرارت اکثر 40 ڈگری سینٹی گریڈ کے قریب یا اس سے بھی زیادہ پہنچ جاتا ہے۔ حالیہ برسوں میں شدید گرمی کی لہروں کے باعث مقامی انتظامیہ نے نہ صرف شہریوں بلکہ جنگلی اور قید جانوروں کے تحفظ کے لیے بھی خصوصی منصوبے نافذ کیے ہیں۔
چڑیا گھر کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ موسمِ گرما کے دوران جانوروں کی صحت کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے اور ضرورت کے مطابق ان کے ماحول، خوراک اور طبی نگہداشت میں تبدیلیاں کی جاتی ہیں تاکہ شدید گرمی کے باوجود انہیں کسی قسم کی تکلیف یا صحت کے خطرات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں