فلم شعلے کے سیٹ سے اس کے کرداروں کی تہلکہ خیز اے آئی ویڈیو نے یادیں تازہ کردیں
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
بالی وڈ کی شہرۂ آفاق فلم شعلے دہائیاں گزر جانے کے باوجود اب تک مداحوں کے دلوں میں زندہ ہے اور اس کے ڈائیلاگ تاحال زبان زد عام ہیں جسے اب اے آئی نے ایک نیا رنگ دیدیا۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونی والی مصنوعی ذہانت سے تیار کی گئی ایک تخلیقی ویڈیو نے ماضی کی انمٹ یادوں ایک بار پھر تازہ دم کردیا۔ جسے بے حد سراہا جا رہا ہے۔
اس وائرل اے آئی ویڈیو میں فلم کے یادگار کردار اپنے اصل اداکاروں سے ملتے اور سیلفیاں لیتے دکھائی دے رہے ہیں۔ اس جذباتی کلپ نے مداحوں کو ماضی کی حسین یادوں میں پہنچا دیا ہے۔
ویرو، بسنتی اور جے کی نئی ملاقات
ویڈیو میں شعلے کے مقبول کردار ویرو اپنے اصل اداکار دھرمیندر سے ملتے اور مسکراتے ہوئے سیلفی نظر آتے ہیں اور پھر اپنی بسنتی یعنی اداکارہ ہیمامالنی سے ملتے ہیں۔
یاد رہے کہ لیجنڈری اداکار دھرمیندر کا حال ہی میں انتقال ہوا۔ اس ویڈیو نے ان کے غم زدہ مداحوں میں خوشی کی لہر دوڑا دی۔
Good to see this kind of use of AI ???????? pic.
— AP (@ap_pune) February 12, 2026
اسی طرح جے کا کردار اپنے حقیقی روپ یعنی آج کے امیتابھ بچن سے ملتا اور سیلفی لیتا نظر آتا ہے۔ جوانی اور بڑھاپے کا یہ حسین امتزاج بھی وقت کے بدلتے دھاروں کو اجاگر کرتا ہے۔
اسی طرح جیہ بچن جنھوں نے فلم میں رادھا کا کردار نبھایا تھا، بھی اپنے کم عمر عکس کے ساتھ دلکش مسکراہٹ میں دکھائی دیتی ہیں۔
ایک شاہکار کو یادگار خراجِ تحسین
1975 کی اس کلاسک فلم کے اداکاروں اور تخلیق کاروں کو نوجوانی اور ڈھلتی عمر کے روپ میں ایک ساتھ دکھا کر انہیں شاندار خراجِ عقیدت پیش کیا گیا ہے۔
ویڈیو میں فلم کے مشہور مناظر کو موجودہ دور کی جھلک کے ساتھ اس انداز میں پیش کیا گیا ہے کہ سوشل میڈیا صارفین کی آنکھیں نم اور دل خوش ہو گئے۔
مداحوں کا کہنا ہے کہ یہ ویڈیو صرف ٹیکنالوجی کا کمال نہیں بلکہ جذبات کی عکاسی کرتی وہ حقیقت ہے جس میں یادیں، فن اور وقت ایک ہی فریم میں سمٹ آئے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔