چین کی 530 میٹر بلند عمارت اور اس کی لفٹس نے دنیا کو حیران کردیا
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
بیجنگ: چین کے شہر گوانگژو میں واقع گوانگژو سی ٹی ایف فنانس سینٹر جدید تعمیراتی مہارت اور انجینئرنگ کی جدت کا نمایاں مظہر بن چکا ہے۔
2016 میں مکمل ہونے والی یہ فلک بوس عمارت 530 میٹر بلند ہے اور 111 منزلوں پر مشتمل ہے، تاہم اسے عالمی شہرت اس کی حیرت انگیز رفتار سے چلنے والی لفٹس نے دلائی۔
عمارت میں نصب خصوصی ایکسپریس لفٹس محض 43 سیکنڈ میں گراؤنڈ فلور سے 95ویں منزل تک پہنچ جاتی ہیں۔ یہ نظام جاپانی کمپنی ہٹاچی نے تیار کیا، جس نے رفتار اور تحفظ کو یکجا کرنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی استعمال کی۔
ان لفٹس کی زیادہ سے زیادہ رفتار تقریباً 1200 میٹر فی منٹ یعنی لگ بھگ 72 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچتی ہے، جس نے ماضی کا ریکارڈ رکھنے والی Taipei 101 کو پیچھے چھوڑ دیا۔
ماہرین کے مطابق اتنی رفتار پر مسافروں کی سلامتی یقینی بنانا ایک بڑا چیلنج تھا، جس کے لیے پریشرائزڈ کیبن، جدید بریکنگ سسٹم اور ایروڈائنامک ڈیزائن استعمال کیا گیا۔
اس کے ہنگامی حالات میں بریک پیڈز شدید حرارت برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں جبکہ جھٹکوں کو کم کرنے کے لیے خصوصی گائیڈ رولرز نصب کیے گئے ہیں۔
یہ عمارت رفتار، آرام اور حفاظت کے امتزاج کی ایسی مثال ہے جو جدید شہری تعمیرات کا معیار متعین کرتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔