Jasarat News:
2026-06-02@22:05:43 GMT

15 سال کی عمر کا تعلیمی دباؤ ڈپریشن سے جڑا ہوتا ہے،  تحقیق

اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

نوجوانوں پر بڑھتا ہوا تعلیمی دباؤ ان کی ذہنی صحت کے لیے طویل المدتی خطرات پیدا کر سکتا ہے۔

ایک نئی سائنسی تحقیق میں چونکا دینے والے نتائج سامنے آئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق جن بچوں اور نوعمر افراد کو کم عمری میں تعلیمی کارکردگی کے حوالے سے غیر معمولی توقعات اور دباؤ کا سامنا ہوتا ہے، وہ ابتدائی جوانی تک ذہنی مسائل کا شکار ہو سکتے ہیں۔

تحقیق کے دوران مختلف عمر کے نوجوانوں کا جائزہ لیا گیا، جس میں یہ بات سامنے آئی کہ 15 برس کی عمر میں شدید تعلیمی دباؤ برداشت کرنے والے افراد میں بعد کے برسوں میں ڈپریشن کی علامات زیادہ نمایاں رہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اثر وقتی نہیں بلکہ کئی برسوں تک برقرار رہ سکتا ہے، حتیٰ کہ 24 سال کی عمر تک اس کے اثرات دیکھے گئے۔ اس کے ساتھ ساتھ خود کو نقصان پہنچانے کے رجحان میں بھی اضافہ نوٹ کیا گیا، جو والدین اور اساتذہ کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔

ماہرین نفسیات کے مطابق تعلیمی میدان میں مسابقت بڑھنے سے والدین اور تعلیمی ادارے اکثر بچوں سے غیر معمولی کارکردگی کی توقع رکھتے ہیں، جو ذہنی دباؤ کو بڑھا دیتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ متوازن ماحول، جذباتی معاونت اور صحت مند تعلیمی حکمت عملی اپنانا ناگزیر ہے تاکہ نوجوان نسل کو ذہنی مسائل سے محفوظ رکھا جا سکے۔ تحقیق نے اس بات پر زور دیا ہے کہ کامیابی کی دوڑ میں ذہنی صحت کو نظر انداز کرنا معاشرے کے لیے طویل المدتی نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ

سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت یا اے آئی پر مبنی چیٹ بوٹس کے خلاف ایک نئے قسم کے سائبر حملے سامنے آئے ہیں جن کے ذریعے ہیکرز سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ذاتی معلومات تک غیر مجاز رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا

ماہرین کے مطابق جدید بڑی زبان کے ماڈلز(ایل ایل ایمز) جن میں میٹا اے آئی سمیت دیگر اے آئی چیٹ بوٹس شامل ہیں کو ایک تکنیک پرومپٹ انجیکشن‘ کے ذریعے دھوکا دیا جا سکتا ہے۔ اس طریقے میں حملہ آور چیٹ بوٹس کے حفاظتی نظام کو بائی پاس کرتے ہوئے انہیں ایسے احکامات پر عمل کرنے پر آمادہ کرتے ہیں جو عام حالات میں ممکن نہیں ہوتے۔

سائبر سیکیورٹی ماہر بروس شنائر کے مطابق ہیکرز اس مقصد کے لیے ’پرولیج ایسکلیشن‘ نامی حکمت عملی استعمال کرتے ہیں جس کے تحت اے آئی ماڈل کو ایسی فرضی شخصیت اختیار کرنے پر قائل کیا جاتا ہے جو حفاظتی قواعد کو نظر انداز کر دے یوں چیٹ بوٹ کی محدود صلاحیتیں وسیع ہو جاتی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق حملہ آور یہ خفیہ ہدایات بظاہر بے ضرر مواد، جیسے ای میلز، ویب سائٹس یا آن لائن پیغامات میں شامل کرتے ہیں۔ اگر چیٹ بوٹ ان ہدایات کو قبول کر لے تو ہیکرز کو صارف کے منسلک اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل سروسز تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔

مزید پڑھیے: اوپن اے آئی نے ’سورا‘ ایپ لانچنگ کے چند ماہ بعد ہی اچانک کیوں بند کردی؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک بار چیٹ بوٹ کے متاثر ہونے کے بعد اسے ذاتی معلومات چرانے، حساس ڈیٹا باہر منتقل کرنے یا صارف کے اکاؤنٹس تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے جیسے اقدامات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خطرہ اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے جب صارفین اے آئی ٹولز کو اپنی ای میل، کیلنڈر یا دیگر ذاتی سروسز تک رسائی دے دیتے ہیں کیونکہ اس سے حملہ آوروں کے لیے نقصان دہ سرگرمیوں کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں: ’کوئی پڑھے نہ پڑھے اے آئی تو پڑھے گی‘: قدیم زمانوں کے محبت نامے، خفیہ تحریریں آشکار

ماہرین کے مطابق ہیکرز کا حتمی مقصد مالی فراڈ، شناختی معلومات کی چوری اور دیگر نقصان دہ سرگرمیوں کو انجام دینا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کی اپنی استدلالی صلاحیتیں بھی صارفین کے خلاف استعمال کی جا سکتی ہیں جس سے روایتی سائبر سیکیورٹی اقدامات کو مؤثر بنانا مزید مشکل ہو جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اے آئی مصنوعی ذہانت ہیکنگ

متعلقہ مضامین

  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس