15 سال کی عمر کا تعلیمی دباؤ ڈپریشن سے جڑا ہوتا ہے، تحقیق
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
نوجوانوں پر بڑھتا ہوا تعلیمی دباؤ ان کی ذہنی صحت کے لیے طویل المدتی خطرات پیدا کر سکتا ہے۔
ایک نئی سائنسی تحقیق میں چونکا دینے والے نتائج سامنے آئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق جن بچوں اور نوعمر افراد کو کم عمری میں تعلیمی کارکردگی کے حوالے سے غیر معمولی توقعات اور دباؤ کا سامنا ہوتا ہے، وہ ابتدائی جوانی تک ذہنی مسائل کا شکار ہو سکتے ہیں۔
تحقیق کے دوران مختلف عمر کے نوجوانوں کا جائزہ لیا گیا، جس میں یہ بات سامنے آئی کہ 15 برس کی عمر میں شدید تعلیمی دباؤ برداشت کرنے والے افراد میں بعد کے برسوں میں ڈپریشن کی علامات زیادہ نمایاں رہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اثر وقتی نہیں بلکہ کئی برسوں تک برقرار رہ سکتا ہے، حتیٰ کہ 24 سال کی عمر تک اس کے اثرات دیکھے گئے۔ اس کے ساتھ ساتھ خود کو نقصان پہنچانے کے رجحان میں بھی اضافہ نوٹ کیا گیا، جو والدین اور اساتذہ کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔
ماہرین نفسیات کے مطابق تعلیمی میدان میں مسابقت بڑھنے سے والدین اور تعلیمی ادارے اکثر بچوں سے غیر معمولی کارکردگی کی توقع رکھتے ہیں، جو ذہنی دباؤ کو بڑھا دیتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ متوازن ماحول، جذباتی معاونت اور صحت مند تعلیمی حکمت عملی اپنانا ناگزیر ہے تاکہ نوجوان نسل کو ذہنی مسائل سے محفوظ رکھا جا سکے۔ تحقیق نے اس بات پر زور دیا ہے کہ کامیابی کی دوڑ میں ذہنی صحت کو نظر انداز کرنا معاشرے کے لیے طویل المدتی نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
ایک نئی سائنسی تحقیق میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال یادداشت اور ذہنی صلاحیتوں میں تیزی سے آنے والی کمی سے تعلق رکھ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ اجزا چینی کے متبادل کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں، تاہم ان کے طویل المدتی اثرات دماغی صحت کے لیے تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔
یہ تحقیق امریکن اکیڈمی آف نیورولوجی کے جریدے نیورولوجی میں شائع ہوئی، جس میں تقریباً 13 ہزار بالغ افراد کی آٹھ برس تک نگرانی کی گئی۔ تحقیق کے دوران کم یا بغیر کیلوریز والی مٹھاس کے سات عام اجزا کا جائزہ لیا گیا، جن میں ایسپارٹیم، سیکرین، ایسی سلفیم کے، اریتھریٹول، زائیلیٹول، سوربیٹول اور ٹیگاٹوز شامل تھے۔
تحقیقی نتائج کے مطابق وہ افراد جو روزانہ اوسطاً 191 ملی گرام مصنوعی مٹھاس استعمال کرتے تھے، جو تقریباً ایک کین ڈائٹ سوڈا میں موجود ایسپارٹیم کے برابر مقدار ہے، ان میں کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں یادداشت اور ذہنی کارکردگی میں کمی کی رفتار 62 فیصد زیادہ دیکھی گئی۔
اسی طرح درمیانی مقدار میں مصنوعی مٹھاس استعمال کرنے والے افراد میں بھی ذہنی صلاحیتوں میں کمی کا خطرہ نمایاں رہا، جہاں یہ شرح کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں 35 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی۔
محققین کے مطابق یہ تعلق 60 سال سے کم عمر افراد اور ذیابیطس کے مریضوں میں زیادہ نمایاں دیکھا گیا، کیونکہ یہ افراد عام چینی کے بجائے مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔
تحقیق میں شامل سات میٹھے اجزا میں سے صرف ٹیگاٹوز ایسا جز تھا جس کا ذہنی صلاحیتوں میں تیز رفتار کمی سے واضح تعلق سامنے نہیں آیا، جبکہ باقی چھ اجزا اس خطرے سے منسلک پائے گئے۔
تحقیق کی مرکزی مصنفہ، یونیورسٹی آف ساؤ پالو سے وابستہ ڈاکٹر کلاڈیا کیمی سوئیموتو نے کہا کہ مصنوعی مٹھاس کو عموماً صحت مند متبادل سمجھا جاتا ہے، لیکن تحقیق کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بعض مصنوعی میٹھے اجزا طویل عرصے تک استعمال کیے جانے کی صورت میں دماغی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
یہ مصنوعی مٹھاس عام طور پر ڈائٹ سوڈا، فلیورڈ واٹر، انرجی ڈرنکس، دہی اور دیگر کم کیلوریز والی پراسیسڈ غذاؤں میں استعمال کی جاتی ہے۔
تاہم محققین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ ایک مشاہداتی تحقیق ہے، اس لیے اس سے یہ حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ مصنوعی مٹھاس ہی براہِ راست یادداشت میں کمی کی وجہ بنتی ہے۔ ان کے مطابق ان نتائج کی مزید تصدیق اور مختلف متبادل میٹھے اجزا کے اثرات جانچنے کے لیے مزید سائنسی تحقیق کی ضرورت ہے۔