رقص ڈپریشن کے علاج کیلئے بہترین ورزش ہے، تحقیق
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
ایک نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ رقص ڈپریشن کے علاج میں اینٹی ڈپریسنٹ ادویات جتنا مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔
آسٹریلوی محققین کے مطابق جاگنگ، تیراکی اور رقص جیسی ایروبک ورزشیں ڈپریشن اور بے چینی کی علامات کم کرنے میں سب سے زیادہ مؤثر ثابت ہوتی ہیں۔
صرف یہی نہیں بلکہ ہلکی جسمانی سرگرمی، جیسے چہل قدمی بھی ذہنی صحت بہتر کر کے ڈپریشن کی علامات میں واضح بہتری لا سکتی ہے۔
برٹش جرنل آف اسپورٹس میڈیسن میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں کہا گیا ہے کہ ورزش کو ڈپریشن کے روایتی علاج کے برابر اعتماد کے ساتھ تجویز کیا جانا چاہیے۔
کوئنز لینڈ کی جامعہ کے سائنس دانوں نے زور دیا ہے کہ جسمانی سرگرمی کو عوامی صحت کی پالیسیوں میں بطور ایک قابلِ رسائی، مؤثر اور سائنسی طور پر ثابت شدہ ابتدائی علاج شامل کیا جانا چاہیے۔
تحقیق کے مطابق نوجوان بالغ افراد اور بعد از زچگی کے مرحلے سے گزرنے والی خواتین میں اس کے فوائد خاص طور پر زیادہ نمایاں پائے گئے۔
برطانیہ میں تقریباً ہر 6 میں سے 1 فرد ڈپریشن کا شکار ہے، جبکہ خواتین میں اس مرض کا خطرہ مردوں کے مقابلے میں تقریباً دوگنا پایا جاتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
طالبان نے خواتین و بچوں کی فلاحی تنظیم کا دفتر سیل کر دیا، 6 اہلکار لاپتا
افغانستان کے دارالحکومت کابل میں طالبان حکام نے خواتین اور بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی ویمن اینڈ چلڈرن لیگل ریسرچ فاؤنڈیشن کے دفتر پر چھاپہ مار کر تنظیم کے 6 ملازمین کو حراست میں لے لیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، کارروائی کے دوران طالبان اہلکاروں نے تنظیم کے کمپیوٹرز، دستاویزات اور دیگر دفتری سامان بھی قبضے میں لے لیا۔
یہ بھی پڑھیں: افغانستان: طالبان حکومت کا ایک اور متنازع فیصلہ، خواتین کو صحت کی تعلیم سے روکنے کا حکم
تاہم اب تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ گرفتار کیے گئے ملازمین کو کہاں منتقل کیا گیا ہے اور ان کی موجودہ حالت کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق گرفتار ہونے والوں میں 2 افراد تنظیم کی سربراہ زرقا یفتلی کے قریبی رشتہ دار ہیں، جو اس وقت افغانستان سے باہر مقیم ہیں۔
Sources in Kabul told Afghanistan International on Wednesday that Taliban agents raided the office of the Women and Children Legal Research Foundation (WCLRF) earlier this week and detained six staff members.https://t.co/ly2WtJb202 pic.twitter.com/fQ8qbUdHiN
— Afghanistan International English (@AFIntl_En) July 23, 2026
زرقا یفتلی خواتین کے حقوق کی معروف کارکن ہیں اور گزشتہ سال انہیں متحدہ عرب امارات کی جانب سے 2026 زاید ایوارڈ فار ہیومن فریٹرنٹی سے نوازا گیا تھا۔
ذرائع کے مطابق زیرِ حراست افراد کے اہلِ خانہ نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے طالبان حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے عزیزوں کی حراست کی جگہ، قانونی حیثیت اور صحت کے بارے میں فوری طور پر آگاہ کیا جائے۔
مزید پڑھیں: کرکٹ اسٹارز سے ملاقاتوں اور لباس کے معاملے پر طالبان رہنماؤں میں اختلافات بڑھ گئے
ویمن اینڈ چلڈرن لیگل ریسرچ فاؤنڈیشن تعلیم، خواتین اور بچوں کے حقوق کی وکالت، تحقیقی سرگرمیوں اور تحقیقاتی رپورٹس کی تیاری کے شعبوں میں کام کرتی رہی ہے۔
طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد افغانستان میں سول سوسائٹی کی متعدد تنظیموں، خصوصاً خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے اداروں، پر سخت پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔
اس عرصے کے دوران کئی سماجی کارکنوں کو حراست میں لیا گیا، جبکہ متعدد تنظیمیں اپنی سرگرمیاں محدود کرنے یا مکمل طور پر بند کرنے پر مجبور ہو چکی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
افغانستان سول سوسائٹی طالبان فلاحی تنظیم کابل کمپیوٹرز متحدہ عرب امارات ویمن اینڈ چلڈرن لیگل ریسرچ فاؤنڈیشن