data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

ٹیکنالوجی کمپنی میٹا پلیٹ فارمز ایک بار پھر تنازع میں آ گئی ہے کیونکہ تازہ رپورٹس کے مطابق کمپنی اپنے اسمارٹ گلاسز میں چہرہ شناخت کرنے والی ٹیکنالوجی شامل کرنے پر غور کر رہی ہے۔

امریکی اخبار دی نیو یارک ٹائمز کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ مجوزہ فیچر، جسے ’نیم ٹیگ‘ کہا جا رہا ہے، صارف کو سامنے موجود افراد کی شناختی معلومات فراہم کر سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق کمپنی کے اندرونی دستاویز میں تسلیم کیا گیا ہے کہ اس ٹیکنالوجی سے پرائیویسی اور سیکورٹی کے سنگین سوالات جنم لے سکتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ فیچر متعارف کرایا گیا تو عوامی مقامات پر لوگوں کی شناخت بغیر اجازت ممکن ہو جائے گی، جو ذاتی آزادی اور رازداری کے اصولوں سے متصادم ہو سکتی ہے۔

اخباری رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ کمپنی اس فیچر کے اجرا کے لیے ایسے وقت کا انتخاب کرنا چاہتی ہے جب ممکنہ ناقدین یا سول سوسائٹی گروپس کی توجہ دیگر معاملات پر مرکوز ہو۔

ڈیجیٹل حقوق کے علمبردار حلقوں نے خبردار کیا ہے کہ اس نوعیت کی ٹیکنالوجی کا غلط استعمال سماجی اور قانونی پیچیدگیاں پیدا کر سکتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ میٹا جدید سہولت اور صارفین کی رازداری کے درمیان توازن کیسے قائم کرتی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار

اسلام آباد: ویپنگ کے نقصانات سے متعلق سامنے آنے والی نئی تحقیق نے ای سگریٹ استعمال کرنے والوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ویپنگ کو عام سگریٹ کا محفوظ متبادل سمجھنا ایک غلط فہمی ہے، کیونکہ اس کے استعمال سے بھی انسانی صحت پر سنگین منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

تحقیقی رپورٹ کے مطابق ویپ استعمال کرنے والے افراد کے منہ اور پھیپھڑوں کے خلیوں میں ڈی این اے کو نقصان پہنچنے کے شواہد ملے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ڈی این اے میں خرابی مختلف بیماریوں، خصوصاً کینسر کے خطرات میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ویپ میں روایتی تمباکو موجود نہیں ہوتا، لیکن اس میں شامل مختلف کیمیکلز اور فلیورز انسانی خلیوں پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ پوڈ سسٹم پر مبنی ویپ استعمال کرنے والے افراد میں خلیاتی نقصان نسبتاً زیادہ دیکھا گیا۔

سائنس دانوں کے مطابق ویپنگ اور روایتی سگریٹ نوشی کا طریقہ کار مختلف ضرور ہے، تاہم دونوں صورتوں میں جسم کو نقصان پہنچنے کا خطرہ موجود رہتا ہے۔ بعض مطالعات میں ویپ استعمال کرنے والوں کے خلیوں میں ہونے والے ڈی این اے نقصان کی سطح سگریٹ نوش افراد کے قریب پائی گئی۔

ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ نوجوانوں میں ویپنگ کا بڑھتا ہوا رجحان مستقبل میں صحت عامہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ای سگریٹ کو محفوظ متبادل سمجھ کر استعمال کرنے کے بجائے اس سے مکمل اجتناب اختیار کرنا زیادہ بہتر ہے۔

ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ویپنگ کے نقصانات کو سنجیدگی سے لیں اور اپنی صحت کے تحفظ کے لیے ایسی تمام مصنوعات سے حتیٰ الامکان دور رہیں، کیونکہ نئی سائنسی تحقیقات کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ویپنگ بھی انسانی جسم کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • ایلون مسک نے ’اوڈیسی‘ کا اے آئی ورژن اسی سال پیش کرنے کا اعلان کردیا
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم