جرائم میں کمی اور امن و امان کی بہتری سندھ پولیس کی کامیابی ہے، وزیرِاعلیٰ سندھ
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
شاہد حیات پولیس ٹریننگ کالج سعیدآباد کراچی میں خطاب کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے کہا کہ ہم دہشت گردی سے چھٹکارہ حاصل کر چکے ہیں، بلوچستان اور خیبر پختون خوا میں دہشت گردی کے واقعات ہو رہے ہیں، سندھ پولیس نے دہشت گردی اور جرائم کے خلاف مؤثر کارروائیاں کی ہیں، نئے جوان جذبے اور لگن کے ساتھ فرائض انجام دیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیرِاعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ جرائم میں کمی اور امن و امان کی بہتری سندھ پولیس کی کامیابی ہے، حکومت سندھ پولیس کی بہتری اور فلاح کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ کراچی میں شاہد حیات پولیس ٹریننگ کالج سعیدآباد میں پولیس کے ریکروٹ ٹریننگ کورس کی 131ویں پاسنگ آؤٹ پریڈ میں وزیرِ اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ بطور مہمان خصوصی شریک ہوئے۔ انسپکٹر جنرل سندھ اور دیگر اعلیٰ پولیس حکام نے وزیرِ اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا استقبال کیا۔ آئی جی پولیس جاوید عالم اڈھو نے مہمانِ خصوصی کو یادگاری شیلڈ پیش کی۔ پولیس کے 889 اہلکاروں نے ریکروٹ ٹریننگ کورس مکمل کیا ہے، وزیرِ اعلیٰ سندھ نے نمایاں کارکردگی دکھانے والے اہلکاروں میں انعامات تقسیم کیے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ پاسنگ آؤٹ ہونے والوں کو مبارکباد پیش کرتا ہوں، پولیس ٹریننگ سعید آباد میں جدید تربیت دی جا رہی ہے، آپ عوام کے جان و مال کے محافظ ہیں۔
وزیرِاعلیٰ سندھ کا کہنا ہے کہ سندھ پولیس سے عوام کو بڑی توقعات ہیں، موجودہ حالات میں دہشت گردی اور جرائم کے خلاف سندھ پولیس نے بھرپور کارروائیاں کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت پولیس کی بہتری اور حوصلہ افزائی کے لیے مسلسل اقدامات کر رہی ہے، پولیس ٹریننگ میں جدید سہولتیں فراہم کی گئی ہیں، سندھ پولیس کے بہادر افسران و جوانوں کی وجہ سے صوبے میں امن قائم ہوا۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ کچھ روز پہلے دادو میں 3 بہادر سپاہیوں نے شہادت کا رتبہ حاصل کیا، صوبے میں چند ماہ میں پولیس کے افسران و جوانوں نے بہادری کی شاندار مثال قائم کی، کراچی میں سی ٹی ڈی کے ڈی ایس پی علی رضا کو شہید کر دیا گیا، کراچی میں جب کچھ سال پہلے دہشت گردوں نے چینی قونصلیٹ پر حملہ کیا تو کانسٹیبل شہید ہوئے۔
ان کا کہنا ہے کہ پچھلے سال جنوری سے دسمبر تک 1325 پولیس مقابلے ہوئے، 207 ڈاکوؤں کو ہلاک کیا، پولیس نے 418 ڈاکوؤں کو زخمی کیا، 1138 ڈاکوؤں کو گرفتار کیا جبکہ 114 ڈاکوؤں نے سرنڈر کیا۔ وزیرِاعلیٰ نے کہا کہ اس سال یکم جنوری سے آج تک 115 پولیس مقابلے ہوئے، 27 ڈاکوؤں کو ہلاک کیا گیا جبکہ 82 زخمی ہوئے، پولیس نے 81 ڈاکوؤں کو گرفتار کیا اور 153 ڈاکوؤں نے سرنڈر کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اُمید کرتا ہوں کہ سندھ پولیس ایسے ہی بہادری سے کام کرتے ہوئے کچے کے ڈاکوؤں کا خاتمہ کرے گی، ایک وقت تھا کہ دہشت گرد روزانہ کئی لوگوں کو شہید کر دیتے تھے، یہاں بم دھماکے ہوتے تھے، ٹارگٹ کلنگ ہوتی تھی۔ مراد علی شاہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہم دہشت گردی سے چھٹکارہ حاصل کر چکے ہیں، بلوچستان اور خیبر پختون خوا میں دہشت گردی کے واقعات ہو رہے ہیں، سندھ پولیس نے دہشت گردی اور جرائم کے خلاف مؤثر کارروائیاں کی ہیں، نئے جوان جذبے اور لگن کے ساتھ فرائض انجام دیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پولیس ٹریننگ مراد علی شاہ سندھ پولیس کراچی میں ڈاکوؤں کو وزیر اعلی نے کہا کہ پولیس کے پولیس نے کی بہتری پولیس کی
پڑھیں:
فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) سے جاری بیان کے مطابق سیکیورٹی فورسز(security forces) نے 24 مئی 2026 کو پیش آنے والے ریل حادثے کے بعد خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر بلوچستان کے اضلاع مستونگ، نوشکی، زہری، خضدار اور کیچ میں کارروائیاں کیں۔
بیان میں کہا گیا کہ ان کارروائیوں کے دوران سیکیورٹی اہلکاروں نے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا اور شدید فائرنگ کے تبادلوں کے دوران بھارتی اسپانسرڈ فتنۃ الہندوستان کے 17 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا اور ان علاقوں میں سرگرم دہشت گردی کے نیٹ ورکس کو بڑا دھچکا پہنچایا ہے۔
آئی ایس پی آر نے بتایا کہ بھارتی اسپانسرڈ ہلاک دہشت گردوں کے زیرقبضہ ہتھیار، باردو اور بڑے پیمانے دھماکا خیز مواد اور مواد تیار کرنے کی ڈیوائسز برآمد کرلی گئیں۔
بیان میں بتایا گیا کہ ہلاک دہشت گرد بلوچستان کے ان علاقوں میں دہشت گردی کے کئی اہم واقعات میں ملوث رہے تھے۔
مزید پڑھیں:پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی
آئی ایس پی آر نے مزید بتایا کہ علاقے سے دہشت گردوں کے صفایا کرنے کے لیے سینیٹائزیشن آپریشن جاری ہے، سیکیورٹی فورسز اور پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی عزم استحکام وژن کے تحت دہشت گردی کے خاتمہ کی مہم پوری رفتار سے جاری رہے گی تاکہ ملک سے بیرونی اسپانسرڈ اور تعاون سے جاری دہشت گردی کے ناسور کا مکمل خاتمہ ہو۔