جنوبی افریقہ کے صدر کا جرائم سے نمٹنے کیلئے فوج تعینات کرنے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
کیپ ٹاؤن (ویب ڈیسک) جنوبی افریقہ کے صدر نے جرائم سے نمٹنے کیلئے فوج تعینات کرنے کا اعلان کر دیا۔
عالمی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق جنوبی افریقہ کے صدر سیرل راما فوسا نے اعلان کیا کہ منظم جرائم سے ملک کو فوری سے سب سے بڑا خطرہ درپیش ہے، انہوں نے کہا کہ منظم جرائم اب ہماری جمہوریت، ہمارے معاشرے اور ہماری معاشی ترقی کے لیے سب سے بڑا فوری خطرہ ہے۔
صدر سیرل راما فوسا نے زور دیا کہ رواں سال حکومت کی اولین ترجیح ٹیکنالوجی، انٹیلی جنس اور مربوط قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ذریعے جرائم پیشہ گروہوں کے خلاف کارروائی تیز کرنا ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ جرائم کی قیمت جانوں کے ضیاع اور مستقبل کے تباہ ہونے کی صورت میں ادا کی جا رہی ہے، جو اب بدلنا ضروری ہے۔ اسی مقصد کے تحت انہوں نے ساؤتھ افریقن نیشنل ڈیفنس فورس کو پولیس کی مدد کے لیے تعینات کرنے کی ہدایت دی ہے۔
انہوں نے وزیر برائے پولیس اور ساؤتھ افریقن نیشنل ڈیفنس فورس کو حکم دیا کہ وہ آئندہ چند دنوں میں ویسٹرن کیپ اورگاؤٹنگ میں گینگ تشدد اور غیر قانونی کان کنی سے نمٹنے کے لیے سکیورٹی فورسز کی تعیناتی کا عملی منصوبہ تیار کریں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ رواں سال مزید 5,500 پولیس اہلکار بھرتی کئے جائیں گے، اسلحہ قوانین کو سخت کیا جائے گا اور ملک بھر میں جرائم پیشہ نیٹ ورکس کے خلاف انٹیلی جنس اور کثیر الجہتی ٹیمیں کام کریں گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: انہوں نے
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔