وزیراعظم سے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی ملاقات، ملکی سیکیورٹی صورت حال پر تفصیلی بریفنگ
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
( ویب ڈیسک )وزیراعظم محمد شہباز شریف سے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ملاقات کی، جس میں انہوں نے ملکی سیکیورٹی صورت حال پر تفصیلی بریفنگ دی۔
ملاقات کے دوران وزیر داخلہ نے وزیراعظم کو ملک کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال سے آگاہ کیا جبکہ اسلام آباد کی موجودہ صورت حال پر بھی تفصیل سے بات چیت کی۔
وزیراعظم نے وزیر داخلہ کو ہدایت کی کہ اسلام آباد میں سیکیورٹی کی صورت حال اور دیگر معاملات کو نہایت احسن انداز سے حل کیا جائے۔
بلال صدیق کمیانہ کی زیرِ صدارت اجلاس میں افسران کو اہم ہدایات
ملاقات میں وزیر داخلہ محسن نقوی کے جلد سری لنکا کا دورہ کرنے سے متعلق بھی بات چیت ہوئی، جس میں وہ سری لنکن صدر کو وزیراعظم کا خصوصی پیغام بھی پہنچائیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔