شہاب ثاقب نے اچانک اپنے مدار میں الٹا گھومنا شروع کیا، ماہرین فلکیات حیران
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
ماہرینِ فلکیات ایک غیر معمولی پیش رفت سے حیران رہ گئے ہیں جب ایک شہابِ ثاقب کی گردش نہ صرف سست ہوئی بلکہ اس کی سمت بھی الٹ گئی۔ یہ انکشاف نظامِ شمسی میں دمدار ستاروں کے طرزِ عمل سے متعلق موجودہ فہم کو چیلنج کر رہا ہے۔
2017 میں ناسا کے سوئفٹ خلائی جہاز نے مشاہدہ کیا کہ مذکورہ شہابِ ثاقب کی گردش میں اچانک کمی واقع ہوئی۔ پہلے یہ ہر 20 گھنٹے میں ایک چکر مکمل کرتا تھا، مگر صرف 60 دنوں میں اس کا دورانیہ بڑھ کر 53 گھنٹے ہوگیا۔ ماہرین کے مطابق کسی دمدار ستارے میں اس قدر تیز رفتار تبدیلی پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی۔
یہ بھی پڑھیے: سائنسدانوں نے مقناطیس کی ایک نایاب اور حیران کن قسم دریافت کرلی
بعد ازاں ہبل خلائی دوربین سے حاصل شدہ تصاویر کے تجزیے میں انکشاف ہوا کہ گردش کی سمت بھی بدلتی دکھائی دی۔ یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کے ماہر فلکیات ڈیوڈ جیوئٹ کے مطابق اس کی ممکنہ وجہ ‘آؤٹ گیسنگ’ ہے، یعنی سورج کے قریب آنے پر سطح سے گیس کے طاقتور فواروں کا اخراج، جو غیر متوازن دباؤ پیدا کر کے مرکزے کی گردش پر اثر انداز ہوتا ہے۔
تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ اس شہابِ ثاقب کا مرکزہ نسبتاً چھوٹا، تقریباً 0.
یہ بھی پڑھیے: چاند کی کھوج میں نیا قدم، سائنس دانوں نے جدید روبوٹک مشن متعارف کرا دیا
یہ دریافت اشارہ دیتی ہے کہ دمدار ستارے شاید اتنے طویل عرصے تک قائم نہیں رہتے جتنا پہلے سمجھا جاتا تھا، اور اندرونی دباؤ بالآخر انہیں ٹکڑے ٹکڑے کر سکتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔