امریکی نائب معاون وزیر خارجہ جان مارک پومر شائم کا پانچ روزہ دورہ پاکستان اختتام پذیر
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
امریکی محکمہ خارجہ میں معاون نائب وزیر برائے جنوبی اور وسطی ایشیائی امور جان مارک پومر شائم کا پاکستان کا پانچ روزہ دورہ اختتام پذیر ہوگیا۔
یہ دورہ امریکا اور پاکستان کے درمیان جاری قریبی تعاون کی علامت ہے اور ایسے اہم وقت پر انجام پایا جب دونوں ممالک مشترکہ معاشی ترقی اور قومی سلامتی کے مفادات کے فروغ پر مبنی شراکت داری کے تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: امریکی آزادی کے 250 سال مکمل، پاکستان امریکا دوطرفہ تعاون میں اضافہ
جان مارک پومر شائم نے اپنے دورہ پاکستان کے دوران ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز میجر جنرل کاشف عبداللہ، ڈائریکٹر جنرل ملٹری انٹیلی جنس میجر جنرل واجد عزیز خان، وفاقی وزیر برائے آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا خواجہ، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک سے ملاقاتیں کیں۔
علاوہ ازیں انہوں نے کاروباری شخصیات اور امریکی تبادلہ پروگراموں کے سابق شرکاء کے ساتھ بھی تبادلہ خیال کیا۔
نائب معاون وزیر خارجہ نے اسلام آباد میں انڈس آرٹیفیشل ویک کی افتتاحی تقریب میں بھی شرکت کی، جہاں انہوں نے پاکستان کے آئی ٹی اور ڈیجیٹل شعبے میں شراکت داری کی توسیع کے ضمن میں امریکی مفادات کی حمایت کی اور امریکا کی کمپنیوں کو کاروبار کے لیے مساوی مسابقتی ماحول کی فراہمی کی وکالت کی۔
ملاقاتوں میں پومر شائم نے پاک امریکا شراکت داری، دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ پر بات چیت کی۔ ان ملاقاتوں میں اختراع، مصنوعی ذہانت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، توانائی، نایاب معدنیات اور کان کُنی کے شعبوں میں تعاون کی اہمیت پر خصوصی زور دیا گیا۔
انہوں نے آئی ایم ایف پروگرام کے تحت جاری پاکستان کی معاشی اصلاحات کو سراہا اور قابلِ پیش گوئی اور شفاف سرمایہ کاری کا ماحول یقینی بنانے کی جاری کوششوں کی حوصلہ افزائی کی۔
اس کے علاوہ نجی شعبے کی قیادت میں معاشی ترقی کو فروغ دینے کے لیے اصلاحات کے نفاذ کی پاکستان کی کوششوں کا خیر مقدم بھی کیا۔
سرکاری ملاقاتوں کے علاوہ جان مارک پومر شائم نے لاہور میں منعقدہ بسنت میلے میں شرکت کی اور پاکستان کے شاہکار قومی ورثے اور پاکستانی عوام کے جوش و خروش سے لطف اندوز ہوئے۔
انہوں نے پنجاب کی سینیئر وزیر مریم اورنگزیب سے ملاقات کی اور صوبے میں امریکی تجارتی سرگرمیوں کو وسعت دینے اور امریکہ میں پاکستانی سرمایہ کاری بڑھانے جیسی مشترکہ ترجیحات پر تبادلہ خیال کیا۔
مزید پڑھیں: پاکستان امریکا مثبت اور تعمیری روابط نے بھارت میں بے چینی پیدا کردی
اس کے علاوہ نائب معاون وزیر خارجہ نے یو ایس ایجوکیشنل فاؤنڈیشن اِن پاکستان کی نئی عمارت کا بھی دورہ کیا اور امریکی تبادلہ پروگراموں کے سابق طالبعلموں سے ملاقات کی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews امریکی نائب معاون وزیر خارجہ پاک امریکا تعلقات دورہ پاکستان وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکی نائب معاون وزیر خارجہ پاک امریکا تعلقات دورہ پاکستان وی نیوز نائب معاون وزیر خارجہ جان مارک پومر شائم پاکستان کے انہوں نے
پڑھیں:
پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
اسلام آباد:پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کردی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی پر اجلاس ہوا جس میں ادارے کی کارکردگی پر بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ ، وزیر اقتصادی امور احد چیمہ ، وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ، وزیر تعلیم خالد مقبول، وزیر مملکت خزانہ بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔
وزیراعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم کی دستیابی جون 2025ء میں 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026ء میں 880 میگا ہرٹز ہوگئی، موبائل اسپیکٹرم میں اضافے سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔
وزیراعظم کو "کنیکٹ پاکستان وژن 2030ء " کے اجراء کی تیاریوں پر بریفنگ دی گئی، بتایا گیا ہے کہ باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے، پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، جون 2026ء تک 5.1 ملین گھروں میں فکسڈ براڈ بینڈ /فائبر کنکشن دئیے گئے، حکومتی اقدامات کی بدولت پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں ہوئی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1164.7 ملین ڈالر رہا۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ ڈیجیٹل نیشن پاکستان کے تحت حکومت پاکستان کی 130 سروسز کو ڈیجیٹائز کیا جا چکا ہے، پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس دیئے گئے جن میں 5053 ہائے اینڈ تربیتی پروگرام منعقد ہوئے ؛ لیڈرشپ اور سافٹ اسکلز کی 2700 ٹرینینگز کا انعقاد ہوا، ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کے منصوبہ کا افتتاح جلد ہی ہوگا۔
وزیراعظم کو بتایا گیا کہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت وفاقی حکومت کی کئی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کی نفاذ اور اس حوالے سے کئی منصوبے اور تربیتی سیشنز منعقد کئے جا رہے ہیں۔
بتایا گیا کہ سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن، وزارت ریلوے، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، فیڈرل بورڈ آف ریونیو، آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی، وزارت قومی غذائی تحفظ ، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی، پاکستان سنگل ونڈو، وزارت قومی غذائی تحفظ، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان، پاکستان پوسٹ، وفاقی ترقیاتی ادارہ، وزارت بحری امور اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن میں علی بابا مصنوعی ذہانت کے کئی منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔
وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی اور تمام ٹیم کی پذیرائی کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کی ترقی کے لیے لئے جانے والے اقدامات پالیسیوں کا ثمر ہے، ملک میں آئی ٹی کے شعبے کا فروغ اور آئی ٹی سے متعلق برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، آئی ٹی کے شعبے میں دیئے جانے والے تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے، آئی ٹی کے شعبے میں تربیت کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی۔