صوبوں کا قیام آئینی ضرورت ہے، انتظامی یونٹس بڑھانے سے ملک مضبوط ہوتا ہے، خالد مقبول صدیقی
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
تقسیمِ اسناد و لیپ ٹاپ کی تقریب سے خطاب کے دوران وفاقی وزیر نے کہا کہ اگر پنجاب کی تقسیم کی بات جائز ہے تو سندھ کی تقسیم کو غداری کیوں قرار دیا جاتا ہے؟ صوبوں کا قیام آئین میں درج ہے اور ضرورت پڑنے پر نئے انتظامی یونٹس بنانا ملک کی مضبوطی کے لیے ناگزیر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے چیئرمین اور وفاقی وزیر برائے تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے حیدرآباد انسٹی ٹیوٹ فار ٹیکنالوجی اینڈ مینجمنٹ سائنسز (HITMS) کے زیر اہتمام کراچی کی مقامی یونیورسٹی میں منعقدہ "وزیر اعظم یوتھ لیپ ٹاپ اسکیم" کی تقسیمِ اسناد و لیپ ٹاپ تقریب سے بحیثیت مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی 60 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے جو ہمارے لیے ایک بہت بڑا اثاثہ بھی ثابت ہو سکتے ہیں اور چیلنج بھی، ہمیں اپنے نوجوانوں کو ڈگری کے بجائے جدید ٹیکنالوجی اور ہنر سے آراستہ کرنا ہوگا کیونکہ آنے والے 30 سالوں میں دنیا اتنی تیزی سے بدل جائے گی کہ ایک ارب لوگ غیر متعلق ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد وفاقی حکومت کے پاس دفاعی اخراجات اور قرضے اتارنے کے علاوہ کوئی پیسہ نہیں بچتا، تعلیم مکمل طور پر صوبوں کے سپرد ہے اور اب یہ صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔
ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کراچی کے حوالے سے نئے صوبوں کے مطالبے پر دو ٹوک موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ کراچی یا ملک کے کسی بھی حصے کے لیے کوئی بھی مطالبہ آئین سے متصادم نہیں ہے، صوبے ریاست نہیں بلکہ انتظامی یونٹس ہوتے ہیں جن کی حیثیت ڈسٹرکٹ اور ڈویژن جیسی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ 1947ء میں 2.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: انتظامی یونٹس کی تقسیم کہا کہ کے لیے
پڑھیں:
پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل عرفان سومرو نے کہا ہے کہ تجارتی ڈپلومیسی حکومت پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ محض تجارتی حجم بڑھانے کا خواہاں نہیں بلکہ مضبوط اور پائیدار معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے۔
فیڈریشن ہاؤس کراچی میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے زیر اہتمام ڈی ایٹ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (D-8 CCI) کی پاکستان نیشنل کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دائریکٹر جنرل وزارت خارجہ عرفان سومرو نے کہا کہ ڈی ایٹ کے قیام کو تین دہائیاں گزر چکی ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ اس وژن کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈی ایٹ ممالک کی مشترکہ معیشت تقریباً 5 ہزار ارب ڈالر پر مشتمل ہے اور ایک ارب سے زائد آبادی مشرق بعید سے افریقہ تک پھیلی ہوئی ہے، جو باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع فراہم کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ زراعت، معدنیات، سیاحت اور نوجوان افرادی قوت ڈی ایٹ ممالک کے اہم اثاثے ہیں، تاہم مختلف مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث رکن ممالک اپنی حقیقی معاشی صلاحیت سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا پا رہے۔
ڈی جی وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان کی ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ سالانہ تجارت تقریباً 11 ارب ڈالر ہے، جس میں 8 ارب ڈالر درآمدات جبکہ 2.8 ارب ڈالر برآمدات شامل ہیں، اس عدم توازن کو کم کرنے اور برآمدات میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔
عرفان سومرو نے کہا کہ پاکستان کی بندرگاہیں اور نوجوان آبادی ملکی معیشت کے لیے قیمتی اثاثہ ہیں، کاروباری برادری پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پاکستانی سفارت خانوں کے ساتھ روابط بڑھائے تاکہ نئی منڈیوں تک رسائی اور سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت بین الاقوامی معاہدے اور سازگار پالیسی فریم ورک فراہم کر سکتی ہے، تاہم تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا نجی شعبے کی ذمہ داری ہے، اس سلسلے میں ایف پی سی سی آئی کا کردار انتہائی اہم ہے۔
ڈائریکٹر جنرل وزارت خارجہ نے خواتین اور نوجوان کاروباری افراد پر زور دیا کہ وہ علاقائی تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کریں، پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے قاہرہ میں منعقدہ چوتھی ڈی ایٹ ٹریڈ منسٹر کونسل کے فیصلوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے استنبول میں ترکیہ کی تنظیم TOBB کی سرپرستی میں ڈی ایٹ چیمبرز کے مستقل سیکرٹریٹ کے قیام کو اہم پیش رفت قرار دیا۔
ڈی ایٹ سیکریٹری جنرل سہیل محمود نے اپنے خصوصی پیغام میں رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ حلال معیشت، مالیاتی انضمام اور علاقائی تجارت کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔
ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ ڈی ایٹ ممالک کے درمیان اندرونی تجارت میں نمایاں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور فیڈریشن پریفرینشل ٹریڈ ایگریمنٹ (پی ٹی اے) کو ناگزیر سمجھتی ہے۔
اجلاس میں انڈونیشیا، ترکیہ، ایران، مصر، ملائیشیا، نائجیریا، آذربائیجان اور بنگلہ دیش کے قونصل جنرلز، سینئر سفارت کاروں، ایف پی سی سی آئی کے نائب صدور امان پراچہ، آصف سخی، سابق صدر زبیر طفیل، سابق نائب صدور خالد تواب، حنیف گوہر، شبیر منشا، ناہید مسعود، نازلی عابد، ماہین خان اور دیگر کاروباری رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔