تقسیمِ اسناد و لیپ ٹاپ کی تقریب سے خطاب کے دوران وفاقی وزیر نے کہا کہ اگر پنجاب کی تقسیم کی بات جائز ہے تو سندھ کی تقسیم کو غداری کیوں قرار دیا جاتا ہے؟ صوبوں کا قیام آئین میں درج ہے اور ضرورت پڑنے پر نئے انتظامی یونٹس بنانا ملک کی مضبوطی کے لیے ناگزیر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے چیئرمین اور وفاقی وزیر برائے تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے حیدرآباد انسٹی ٹیوٹ فار ٹیکنالوجی اینڈ مینجمنٹ سائنسز (HITMS) کے زیر اہتمام کراچی کی مقامی یونیورسٹی میں منعقدہ "وزیر اعظم یوتھ لیپ ٹاپ اسکیم" کی تقسیمِ اسناد و لیپ ٹاپ تقریب سے بحیثیت مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی 60 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے جو ہمارے لیے ایک بہت بڑا اثاثہ بھی ثابت ہو سکتے ہیں اور چیلنج بھی، ہمیں اپنے نوجوانوں کو ڈگری کے بجائے جدید ٹیکنالوجی اور ہنر سے آراستہ کرنا ہوگا کیونکہ آنے والے 30 سالوں میں دنیا اتنی تیزی سے بدل جائے گی کہ ایک ارب لوگ غیر متعلق ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد وفاقی حکومت کے پاس دفاعی اخراجات اور قرضے اتارنے کے علاوہ کوئی پیسہ نہیں بچتا، تعلیم مکمل طور پر صوبوں کے سپرد ہے اور اب یہ صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کراچی کے حوالے سے نئے صوبوں کے مطالبے پر دو ٹوک موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ کراچی یا ملک کے کسی بھی حصے کے لیے کوئی بھی مطالبہ آئین سے متصادم نہیں ہے، صوبے ریاست نہیں بلکہ انتظامی یونٹس ہوتے ہیں جن کی حیثیت ڈسٹرکٹ اور ڈویژن جیسی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ 1947ء میں 2.

5 کروڑ کی آبادی کے وقت بھی اتنے ہی صوبے تھے اور آج 25 کروڑ کی آبادی پر بھی وہی ڈھانچہ ہے، اگر پنجاب کی تقسیم کی بات جائز ہے تو سندھ کی تقسیم کو غداری کیوں قرار دیا جاتا ہے؟ صوبوں کا قیام آئین میں درج ہے اور ضرورت پڑنے پر نئے انتظامی یونٹس بنانا ملک کی مضبوطی کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے پڑوس میں آبادی کے بڑے جائنٹس ٹیکنالوجی کے جائنٹس بن چکے ہیں، چائنا کو اپنی ترقی کی رفتار برقرار رکھنے کے لیے آبادی کم پڑ رہی ہے جبکہ ہم پیچھے رہ گئے ہیں، ہمیں اس جہاد اور جدوجہد میں شامل ہو کر اپنے نوجوانوں کو عالمی مقابلے کے قابل بنانا ہوگا۔

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: انتظامی یونٹس کی تقسیم کہا کہ کے لیے

پڑھیں:

برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف

وزیرِ اعظم شہباز شریف—فائل فوٹو

وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ صنعتی مصنوعات کی پیداوار میں اضافے سے برآمدات بڑھانے کے لیے مؤثر پالیسی اقدامات ترجیح ہیں۔

وزیرِاعظم کی زیرِ صدارت سرمایہ کاری میں اضافے، شعبہ جاتی اصلاحات اور پالیسی اقدامات پر جائزہ اجلاس ہوا جس میں متعلقہ وزارتوں کی جانب سے مختلف زیرِغور پالیسی تجاویز پر بریفنگ دی گئی۔

اجلاس میں وفاقی وزراء اسحاق ڈار، محمد اورنگزیب، احد چیمہ، عطاء تارڑ شریک ہوئے۔

پاکستان اے آئی میں عالمی سطح پر قدم رکھنے کیلئے تیار ہے: شہباز شریف

نوجوانوں کو جدید علم اور مہارتوں سے آراستہ کرنا وقت کی ضرورت ہے، اے آئی کے فوائد اور چیلنجز دونوں ہیں: شہباز شریف

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِاعظم شہباز شریف نے کہا کہ ملکی معیشت کی پائیدار ترقی کے لیے صنعت کا فروغ اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے۔

انہوں نے کہا کہ توانائی کی ضروریات متبادل توانائی ذرائع سے پوری کرنے کے لیے بھر پور کام ہو رہا ہے۔

وزیرِ اعظم کا مزید کہنا ہے کہ توانائی بچانے اور سستی ٹرانسپورٹ کے لیے الیکٹرک وہیکلز پالیسی ضروری ہے۔

وزیرِاعظم شہباز شریف نے یہ بھی کہا کہ تمام اصلاحات اور اقدامات میں انتظامی شفافیت اور بہترین کارکردگی اولین ترجیح ہے۔

متعلقہ مضامین

  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • بجٹ میں پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا امکان
  • وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • علاقائی کشیدگی اور بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانے کی پالیسی
  • وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
  • زیر التوا مقدمات کو جلد نمٹانے کے لیے سپریم کورٹ کا بڑا انتظامی فیصلہ
  • برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان