رمضان پیکیج کی تقسیم میں شہریوں کی عزت و تکریم اور قطاروں کا خاتمہ
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
سٹی42: رمضان پیکیج کی تقسیم کے دوران شہریوں کی عزت و تکریم اور قطاروں کے خاتمے کے لیے انتظامیہ متحرک ہو گئی۔
ڈپٹی کمشنر محمد علی اعجاز کی ہدایت پر تمام اسسٹنٹ کمشنرز فیلڈ میں موجود ہیں اور رمضان کیمپس کی نگرانی کر رہے ہیں۔ لاہور کی تمام تحصیلوں میں قائم رمضان ڈسٹری بیوشن سنٹرز مکمل طور پر فعال ہیں۔
ڈسٹری بیوشن مراکز پر عملے کی حاضری، صفائی ستھرائی اور خواتین کے لیے الگ راستوں کی چیکنگ کی جا رہی ہے۔ ڈی سی نے ہدایت کی ہے کہ کیمپس میں آنے والے ہر شہری کی عزت اور وقار کا خیال رکھا جائے، قطاریں ہرگز نہ بننے دی جائیں اور نظم و ضبط برقرار رکھا جائے۔
بلال صدیق کمیانہ کی زیرِ صدارت اجلاس میں افسران کو اہم ہدایات
انہوں نے مزید کہا کہ تقسیم مراکز میں صفائی کا معیار 24 گھنٹے برقرار رکھا جائے اور خواتین و بزرگوں کے لیے الگ انٹری اور بہترین انتظامات یقینی بنائے جائیں۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: سٹی42
پڑھیں:
بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین پر قابض ال خلیفہ حکام اپنے جرائم کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں اور متعدد شہریوں کی گرفتاریوں کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے۔ محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی بحرین میں شیعہ شہریوں کے خلاف سیکیورٹی اداروں کی طرف سے شروع کیے گئے کریک ڈاؤن کے تحت، انہیں تفتیش کے لیے طلب کرنے کے بعد متعدد شہریوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ گرفتار کیے گئے افراد کے نام حسب ذیل ہیں: - ناصر الکشری (اهل بیت علیہم السلام کے ذاکر) - حاج عبدالجبّار میرزا - حاج حسین درویش - إیهاب الحمدی - احمد حسن - السید عبدالله ماجد - حسین الخیاط - محمود مسلم - حاج مهدی صالح - دو بھائی علی و حسن الغانم - رضا ابراهیم محمد حمادة - السید حسین جعفر - محمد سرحان
غاصب بحرینی حکام یہیں نہیں رکے بلکہ انہوں نے دو بچوں مصطفی یوسف اور زین محمد ابراهیم کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔ شیعہ آبادی والے دیہاتوں میں سیکیورٹی الرٹ کی حالت ہے، جہاں حکام نے زیادہ تر دیہاتوں کے اطراف اپنی افواج تعینات کر رکھی ہیں، تاکہ وہ متعدد شہریوں کو طلب کر کے گرفتار کریں۔ یہ گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔