اپوزیشن احتجاج جاری، اراکین کو پارلیمنٹ کے اندر محبوس رکھا گیا ہے، تحریک تحفظ آئین کا الزام
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
پارلیمنٹ ہاؤس میں تحریک تحفظ آئین پاکستان اور اپوزیشن جماعتوں کا احتجاج جاری ہے جبکہ پولیس کی بھاری نفری نے عمارت کے تمام داخلی و خارجی راستوں کو گھیرے میں لیا ہوا ہے۔
جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے ترجمان اسلم غوری نے احتجاج کے دوران مبینہ تشدد کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ معزز اراکینِ پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلی کو گھسیٹا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ احتجاج کرنے والوں کو پارلیمنٹ کے اندر محبوس رکھا گیا ہے، جو جمہوریت کے منافی عمل ہے۔
یہ بھی پڑھیے: پی ٹی آئی دھرنا پارلیمنٹ کے اندر منتقل، عمران خان کو اسپتال میں داخل نہ کرنے تک احتجاج جاری رکھنے کا عزم
ان کا کہنا تھا کہ ‘جمہوریت کے ساتھ مذاق، آئین کے ساتھ کھلواڑ اور اسلام کی مخالفت اس حکومت کے کارنامے ہیں۔’ انہوں نے گرفتار رہنماؤں کی فوری رہائی کا مطالبہ بھی کیا۔
ادھر مصطفیٰ نواز کھوکھر کو پارلیمنٹ کے باہر پولیس نے روک لیا۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر اور دیگر اراکین گزشتہ روز سے اندر محبوس ہیں اور وہ ان کے لیے ناشتہ لے کر آئے تھے، تاہم پولیس نے کھانے پینے کی اشیا اندر لے جانے کی اجازت نہیں دی۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘مجھے اندر نہ جانے دیں لیکن کم از کم کھانا تو جانے دیں۔’ انہوں نے پارلیمان کے دروازوں پر تالے لگانے اور ایوان کی بے توقیری پر افسوس کا اظہار کیا۔
یہ بھی پڑھیے: عمران خان کا علاج ماہر ڈاکٹروں کے ذریعے ہونا چاہیے، علیمہ خان کا مطالبہ
تحریک تحفظ آئین پاکستان کے ترجمان حسین خوانزادہ نے دعویٰ کیا کہ ارکان گزشتہ روز سے پارلیمنٹ کے اندر محصور ہیں اور نہ پانی اور نہ ہی ناشتہ اندر جانے دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سینیٹر فلک ناز چترالی کی طبیعت گزشتہ رات سے خراب ہے۔
واضح رہے کہ عمران خان کی صحت پر تحفظات اور ان کو مناسب علاج کی فراہمی کے حق میں جمعے کو شروع ہونے والا پاکستان تحریک انصاف کا پارلیمنٹ ہاؤس پر دھرنا بدستور جاری ہے جس میں اپوزیشن کی اعلیٰ قیادت بھی شریک ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اپوزیشن احتجاج پارلیمنٹ پی ٹی آئی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اپوزیشن پارلیمنٹ پی ٹی ا ئی پارلیمنٹ کے اندر انہوں نے
پڑھیں:
گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
صدر پی ٹی آئی سندھ نے کہا کہ عوامی مینڈیٹ کو متنازع بنانے اور اس پر اثر انداز ہونے کی کوششوں نے جمہوری عمل کو نقصان پہنچایا، آج بھی عوام عمران خان کے بیانیے اور قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں اور پاکستان تحریک انصاف ملک کی مقبول ترین سیاسی جماعت ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان تحریک انصاف سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کے آئندہ انتخابات کو متنازع بنانے کی کسی بھی کوشش سے گریز کیا جائے اور انتخابی عمل کو مکمل طور پر شفاف، غیر جانبدار اور منصفانہ بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کو اپنا ووٹ آزادانہ طور پر استعمال کرنے کا مکمل حق حاصل ہے اور کسی قسم کی مداخلت یا دباؤ جمہوری اقدار کے منافی ہوگا۔ حلیم عادل شیخ نے کہا کہ ملک میں سیاسی استحکام کا راستہ صرف آزاد، شفاف اور غیر جانبدار انتخابات سے ہو کر گزرتا ہے، عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالنے کی روایت نے ماضی میں پاکستان کو سیاسی اور معاشی بحرانوں سے دوچار کیا، اس لیے ضروری ہے کہ عوام کے فیصلے کا مکمل احترام کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ 8 فروری 2024ء کے عام انتخابات میں عوام نے اپنا واضح فیصلہ دیا تھا، تاہم عوامی مینڈیٹ کو متنازع بنانے اور اس پر اثر انداز ہونے کی کوششوں نے جمہوری عمل کو نقصان پہنچایا، آج بھی عوام عمران خان کے بیانیے اور قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں اور پاکستان تحریک انصاف ملک کی مقبول ترین سیاسی جماعت ہے۔
حلیم عادل شیخ نے مطالبہ کیا کہ پاکستان تحریک انصاف کو گلگت بلتستان میں انتخابی مہم چلانے کے مساوی اور آئینی حقوق فراہم کیے جائیں تاکہ تمام سیاسی جماعتوں کو یکساں مواقع میسر آ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی عمل کو ہر قسم کے دباؤ، جانبداری اور غیر ضروری مداخلت سے پاک رکھا جائے تاکہ عوام اپنی مرضی کے نمائندوں کا انتخاب کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام باشعور ہیں اور وہ اپنے ووٹ کی طاقت سے حقیقی نمائندوں کا انتخاب کریں گے، عوام کا فیصلہ ہی جمہوریت اور پاکستان کے روشن مستقبل کی بنیاد ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ پاکستان تحریک انصاف گلگت بلتستان کے انتخابات میں عوامی حمایت کے ساتھ بھرپور کامیابی حاصل کرے گی۔ حلیم عادل شیخ نے مزید کہا کہ سیاسی استحکام کے بغیر معاشی ترقی، سرمایہ کاری اور عوامی خوشحالی ممکن نہیں، لہذا تمام متعلقہ حکام اس امر کو یقینی بنائیں کہ انتخابات مکمل طور پر شفاف اور منصفانہ ہوں اور عوام کے مینڈیٹ کا ہر صورت احترام کیا جائے۔