Islam Times:
2026-07-23@23:50:51 GMT

کل کا ہاتھی آج کا بیڑا

اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT

کل کا ہاتھی آج کا بیڑا

اسلام ٹائمز: ابرہہ کا ہاتھی، قدیم دنیا کی ناقابلِ شکست قوت کی علامت تھا اور امریکی بحری بیڑا، جدید دنیا کی عسکری برتری کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ یعنی دونوں کا مقصد دنیا کو یہ پیغام دینا ہے کہ ”ہماری طاقت کے سامنے کوئی ٹھہر نہیں سکتا“۔ دونوں نفسیاتی جنگ (Psychological Warfare) کا حصہ ہیں۔ یعنی یہ صرف جنگ لڑنا ہی نہیں بلکہ اپنے اپنے زمانے کی مقاوتی قوتوں پر نفسیاتی اثر ڈالنا چاہتے ہیں۔ ایک ہاتھی کے ذریعے عرب لشکریوں میں خوف پھیلانا چاہتا تھا اور دوسرا بحری بیڑے کے ذریعے مخالف قوت پر سیاسی، فوجی اور نفسیاتی دباؤ ڈالنا چاہتا ہے۔ تحریر: پروفیسر سید تنویر حیدر نقوی

تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے۔ ہر دور میں خدا کی زمین پر چلنے والوں میں سے کچھ کے دماغوں میں خدائی کا خلل جنم لیتا ہے اور وہ خدا کی ہی تفویض کی ہوئی طاقت کے نشے میں خدا کے بندوں کو للکارتے ہیں اور ان کے سامنے اپنی طاقت کے تمام مظاہر لا کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ایسے ہی سرکشوں میں سے ایک ”ابرھہ“ تھا جسے اپنے جنگی سازوسامان پر بڑا غرور تھا۔ ایک دن وہ اپنی طاقت کے اسے نشے میں بہک کر، اپنے جنگی ہاتھیوں کے ساتھ خدا کے گھر کو ہی گرانے کے لیے چل پڑا تھا۔ آج بھی ایک ابرھہ صفت، ”انقلاب اسلامی“ کے مرکز کو نابود کرنے کے لیے اپنی پوزیشن سنبھالے ہوئے ہے۔ کل کے ابرھہ کے سب سے بڑے ہاتھی اور آج کے امریکہ کے سب سے بڑے بحری بیڑے کو اگر عسکری، تاریخی و علامتی تناظر میں دیکھا جائے تو ان کے درمیان ایک گہرا فکری موازنہ کیا جا سکتا ہے۔

ابرہہ نے کعبہ پر حملہ کرنے کے لیے ایک عظیم لشکر کے ساتھ ایک بہت بڑا ہاتھی روانہ کیا جسے روایات میں “محمود” کہا گیا ہے۔ یہ ہاتھی محض جانور نہیں تھا بلکہ رعب، طاقت اور غرورِ اقتدار کی علامت تھا۔ اسی طرح آج امریکہ کا سب سے بڑا بحری بیڑا، خصوصاً ”ایئرکرافٹ کیریئر گروپس“، جدید دنیا کی سب سے بڑی سمندری فوجی طاقت ہے جو عالمی سطح پر طاقت کے اظہار، دفاع اور سیاسی اثرورسوخ کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ اگر ان دونوں کا باہمی تقابل کیا جائے اور کی نوعیت پر گفتگو کی جائے تو ان میں کئی مماثلتیں نظر آتی ہیں۔ ان میں سے ایک  قوی الجثہ جانور اور دوسرا جدید ترین عسکری ٹیکنالوجی کا مظہر ہے۔ دونوں کا مقصد خدائی نظام کو گرانا ہے۔ دونوں عالمی سیاسی و عسکری بالادستی چاہتے ہیں۔ دونوں اپنے زمانے کی طاقت کے سرچشمے ہیں۔

ابرہہ کا ہاتھی، قدیم دنیا کی ناقابلِ شکست قوت کی علامت تھا اور امریکی بحری بیڑا، جدید دنیا کی عسکری برتری کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ یعنی دونوں کا مقصد دنیا کو یہ پیغام دینا ہے کہ ”ہماری طاقت کے سامنے کوئی ٹھہر نہیں سکتا“۔ دونوں نفسیاتی جنگ (Psychological Warfare) کا حصہ ہیں۔ یعنی یہ صرف جنگ لڑنا ہی نہیں بلکہ اپنے اپنے زمانے کی مقاوتی قوتوں پر نفسیاتی اثر ڈالنا چاہتے ہیں۔ ایک ہاتھی کے ذریعے عرب لشکریوں میں خوف پھیلانا چاہتا تھا اور دوسرا بحری بیڑے کے ذریعے مخالف قوت پر سیاسی، فوجی اور نفسیاتی دباؤ ڈالنا چاہتا ہے۔ یعنی دونوں “Fear Projection” کے اوزار ہیں۔ یہ دونوں مثالیں ایک بڑے فلسفیانہ نکتے کی طرف اشارہ کرتی ہیں اور وہ یہ کہ مادی طاقت کا قد کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو اس کی ایک حد ہوتی ہے۔

ابرہہ کے واقعہ میں ہاتھی کعبہ کی طرف بڑھنے سے آخر کار رک گیا، جو اس بات کی علامت ہے کہ قدیم دور کے بڑے بڑے ہاتھی اور جدید دور کے بڑے بحری بیڑے خدائی طاقت کے سامنے بے بس اور بے حرکت ہیں۔ دونوں کا سامنا ایک غیر مادی قوت سے ہوا۔ یہاں یہ بھی ظاہر ہوا کہ نظریہ، عقیدہ اور عزم، اکثر مادی طاقت کو چیلنج کرتے آئے ہیں۔ دونوں مثالیں ایک جیسے تکبر کی نمائندہ ہیں۔ دونوں کو یہ وہم ہے کہ ”ہماری طاقت ناقابلِ شکست ہے“۔ ابرہہ کا ہاتھی قدیم دنیا کی عسکری ہیبت تھا جبکہ امریکہ کا بحری بیڑا جدید دنیا کی عالمی بالادستی کی علامت ہے۔ مگر دونوں میں ایک مشترک سبق بھی ہے اور وہ یہ کہ طاقت وقتی ہے جو خوف پیدا کر سکتی ہے مگر تقدیر، نظریہ اور عوامی عزم کے سامنے ہمیشہ فیصلہ کن نہیں رہتی۔

یہ تقابل ہمیں یہ فکری نکتہ بھی سمجھاتا ہے کہ تاریخ میں ہاتھی ہو یا جدید بحری بیڑا، اصل فیصلہ صرف مادی طاقت نہیں بلکہ معنوی قوت، نظریہ اور تقدیر کرتی ہے۔ یہاں ہم اپنے اپنے وقت کی طاغوتی طاقتوں کے مقابل کھڑی دو مقتدر شخصیات،  ایک طرف اپنے وقت کے سردار عرب جناب عبدالمطلب اور دوسری طرف آج کے سردار لشکر سید علی خامنہ ای کا تقابل، ایک حد تک تاریخی، مذہبی اور قیادتی زاویوں سے کر سکتے ہیں۔ یہ دونوں شخصیات مختلف ادوار اور حالات سے تعلق رکھتی ہیں، مگر ان کے اندر بعض علامتی و فکری مشترکات نمایاں ہیں۔ حضرت عبدالمطلب قریش کے سردار، کعبہ کے متولی اور رسول اللہؐ کے دادا تھے۔ آپ کا کردار عرب معاشرے میں دینی احترام، قبائلی قیادت اور اخلاقی وقار کا مظہر تھا۔ واقعۂ فیل کے وقت آپ نے کعبہ کی حفاظت کو اللہ پر چھوڑ کر ایک عظیم توکلی موقف اختیار کیا۔

آیت اللہ سید علی خامنہ ای ایران کے سپریم لیڈر، معاصر اسلامی سیاسی فکر کے نمایاں قائد اور عالمی سطح پر مزاحمتی بیانیے کے علمبردار سمجھے جاتے ہیں۔ ایک قبائلی و روحانی سردار، دوسرا مذہبی و سیاسی رہنما۔ ایک کعبہ کا متولی، قریش کا قائد اور دوسرا اسلامی نظام کا رہبر۔ دونوں کو اپنے زمانے کا سب سے بڑا چیلنج درپیش ہے۔ ایک طرف کعبے پر ایک بیرونی طاقت حملہ آور ہے جب کہ دوسری طرف انقلاب اسلامی کو ختم کرنے کی کوششیں ہیں۔ ایک طرف توکل، وقار اور غیر مسلح مزاحمت ہے۔ جب کہ دوسری جانب آج تمام عالم اسلام کا دفاع وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ ایک طرف کعبے کا محافظ اور متولی جبکہ دوسری طرف ایران میں اسلامی نظام کا رکھوالا اور ”محورِ مقاومت“ کا فکری رہنما ہے۔ بڑی طاقتوں کے مقابل وقار کا رویہ دونوں کے ہاں ملتا ہے۔

جناب عبدالمطلب نے ابرہہ کے سامنے کہا: ”میں اونٹوں کا مالک ہوں، کعبہ کا مالک اللہ ہے۔“ یہ جملہ طاقت کے مقابل روحانی اعتماد کی علامت تھا۔ اسی طرح خامنہ ای عالمی طاقتوں کے دباؤ کے باوجود بارہا “استقامت” اور “مزاحمت” کا بیانیہ پیش کرتے ہیں۔ دونوں مادی قوت کے مقابل معنوی یقین اور استقلال کی طاقت سے مسلح ہیں۔ دونوں اپنی مذہبی شناخت کی بنیاد پر قیادت کی باگ ڈور سنبھالے ہوئے ہیں۔ عبدالمطلب کی قیادت قبائلی ہونے کے باوجود دینی تقدس رکھتی تھی۔ خامنہ ای کی قیادت سیاسی ہونے کے باوجود مذہبی نظریے پر قائم ہے۔ دونوں کی قیادت کی بنیاد محض سیاست نہیں بلکہ مذہبی وقار ہے۔ دونوں اپنا ایک مزاحمتی بیانیہ رکھتے ہیں۔ عبدالمطلب ظاہری جنگ کے بجائے توکل اور وقار اور طاقت کے مقابل اخلاقی بلندی پر فائز ہیں۔

خامنہ ای نظریاتی مزاحمت اور سیاسی و فکری استقامت کی علامت ہیں۔ یعنی دونوں کی شخصیت کو ”مزاحمت کی علامت“ کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ دونوں کی ایک روحانی اتھارٹی ہے۔ عبدالمطلب مکہ میں روحانی وقار اور تقدس اور عرب معاشرے میں غیر معمولی احترام رکھتے ہیں۔ جبکہ خامنہ ای مرجع تقلید اور ولی امر مسلمین ہیں۔ آج ایک بار پھر ابرھہ ایک نئی صورت کے ساتھ فرزندان عبدالمطلب کے مقابل آ کھڑا ہوا ہے لیکن جو بات جاننے کی ہے وہ یہ ہے کہ جو خدا ہاتھی والوں کو ”کھائے ہوئے بھوسے“ کی مانند کر سکتا ہے وہ بیڑے والوں کو سمندری مچھلیوں کے کھانے کی غذا بھی بنا سکتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: جدید دنیا کی کی علامت تھا اپنے زمانے بحری بیڑا نہیں بلکہ اور دوسرا بحری بیڑے دونوں کا کے سامنے کا ہاتھی کے مقابل کے ذریعے خامنہ ای طاقت کے ایک طرف تھا اور جاتا ہے

پڑھیں:

ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی

محمد انعام یوسفزئی کا کہنا تھا کہ بطور ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل ذمہ داری ادا کرنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے، تاہم مزید اس پوسٹ پر کام جاری نہیں رکھ سکتا۔ اسلام ٹائمز۔ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا محمد انعام یوسفزئی نے استعفا دے دیا۔ محمد انعام یوسفزئی کا کہنا تھا کہ بطور ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل ذمہ داری ادا کرنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے، تاہم مزید اس پوسٹ پر کام جاری نہیں رکھ سکتا۔ مستعفی ہونے والے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کا کہنا تھا کہ وزیر قانون اور سیکرٹری قانون کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔

متعلقہ مضامین

  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار