پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما اور معروف وکیل اعتزاز احسن نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی میڈیکل بنیاد پر ضمانت کی حمایت کی ہے۔
لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران اعتزاز احسن نے کہا کہ ملک میں جو حالات پیدا کیے گئے، وہ سب کے سامنے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ سابق وزیراعظم عمران خان کی دنیا سے رسائی تقریباً ختم کر دی گئی ہے اور وہ نہ وکلاء سے اور نہ ہی اپنے خاندان سے ملاقات کر سکتے ہیں۔
نامور وکیل نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی ایک آنکھ کی تقریباً 85 فیصد بینائی ختم ہو چکی ہے، اور انہیں میڈیکل بنیاد پر فوری ضمانت ملنی چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ “یہاں تو لوگ جعلی رپورٹس بنا کر باہر چلے جاتے ہیں، لیکن بانی پی ٹی آئی کی بینائی کیوں اور کس وجہ سے متاثر ہوئی، اس کی وضاحت ہونی چاہیے۔”
اعتزاز احسن نے اس موقع پر کہا کہ اس معاملے میں صدر مملکت آصف علی زرداری کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے، کیونکہ وہ ایسے سیاستدان ہیں جو ملک کے سب بڑے فریقین کو اکٹھا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: بانی پی ٹی ا ئی

پڑھیں:

کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے

کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔

حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔ 

محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔ 

مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔

ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔

محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔

جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ 

متعلقہ مضامین

  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے