ذرائع کے مطابق خیبر پختونخوا کے محکمہ خزانہ نے سرکاری فنڈز سے 3 کروڑ 84 لاکھ 52 ہزار 800 روپے کی رقم جعلسازی سے نکلوانے کے واقعے کا نوٹس لے لیا۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا کے سرکاری فنڈز سے 3 کروڑ 84 لاکھ 52 ہزار سے زائد رقم جعلسازی سے نکلوانے کا انکشاف ہوا ہے۔ ذرائع کے مطابق خیبر پختونخوا کے محکمہ خزانہ نے سرکاری فنڈز سے 3 کروڑ 84 لاکھ 52 ہزار 800 روپے کی رقم جعلسازی سے نکلوانے کے واقعے کا نوٹس لے لیا۔ ابتدائی رپورٹس کے مطابق سب ڈویژنل آفیسر (SDO) بلڈنگ ڈویژن اور ایگزیکٹو انجینئر (XEN) بلڈنگ ڈویژن ایبٹ آباد کے جعلی دستخطوں پر مبنی ایک چیک ایبٹ آباد میں فیصل بینک کی ایک برانچ میں پیش کیا گیا۔ مذکورہ چیک کو مقررہ سرکاری مالیاتی کنٹرول نظام، بشمول لازمی پری آڈٹ اور ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس آفس ایبٹ آباد کی کلیئرنس کے بغیر ہی پراسیس کر لیا گیا۔

یہ چیک ابتدائی طور پر نیشنل بینک آف پاکستان، ایبٹ آباد برانچ کے ذریعے کلیئر کیا گیا، جس کے بعد رقم فیصل بینک، ایبٹ آباد برانچ منتقل کی گئی۔ متعلقہ بینکنگ اداروں کی جانب سے مطلوبہ تصدیقی طریقہ کار اور ضروری احتیاطی جانچ پڑتال کے بغیر یہ لین دین مکمل کیا گیا جبکہ مکمل حفاظتی اقدامات نافذ کیے جانے سے قبل ہی رقم کا کچھ حصہ نکال لیا گیا۔ محکمہ خزانہ نے واضح کیا کہ یہ جعلی لین دین قائم شدہ سرکاری مالیاتی نظم و نسق کے فریم ورک سے باہر اور محکمہ خزانہ کی کسی اجازت، منظوری یا توثیق کے بغیر انجام دی گئی ہے۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ لازمی مالیاتی کنٹرولز بشمول پری آڈٹ طریقہ کار، خزانہ کی تصدیقی میکانزم اور مفاہمتی (ریکنسلی ایشن) عمل کو نظر انداز کیا گیا۔

اطلاع موصول ہوتے ہی محکمہ خزانہ نے فوری کارروائی کرتے ہوئے متعلقہ بینکنگ حکام اور متعلقہ دفاتر کے ساتھ رابطہ کیا تاکہ مزید لین دین کو روکا جا سکے، اس بروقت اور مربوط اقدام کے نتیجے میں تقریباً مزید 40 ملین روپے کی رقم منجمد کر دی گئی، جس سے قومی خزانے کو بڑے نقصان سے بچا لیا گیا۔ محکمہ خزانہ نے متعلقہ افسران اور ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس آفیسر ایبٹ آباد کو فوری طور پر رپورٹ کرنے کی ہدایت کی۔ مزید برآں، ایک ڈویژنل اکاؤنٹس آفیسر کو ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس آفیسر ایبٹ آباد کے دفتر کا اضافی چارج سونپ دیا گیا تاکہ متعلقہ ریکارڈ کو محفوظ بنایا جا سکے اور مزید احکامات تک انکوائری ٹیم کے ساتھ مکمل تعاون یقینی بنایا جا سکے۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ معاملے کی مکمل تحقیقات، ذمہ داری کے تعین اور قابلِ اطلاق قوانین و قواعد کے مطابق مناسب تادیبی و قانونی کارروائی کی سفارشات کے لیے باقاعدہ فیکٹ فائنڈنگ انکوائری شروع کر دی گئی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: خیبر پختونخوا کے سرکاری فنڈز سے ایبٹ آباد کے مطابق کیا گیا

پڑھیں:

سرکاری ملازمین کے سفری اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری، نئی شرحیں جاری

کراچی: سندھ حکومت نے سرکاری ملازمین کو مہنگائی کے اثرات سے ریلیف دینے کے لیے سفری الاؤنس اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری دے دی ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت ہونے والے صوبائی کابینہ کے اجلاس میں اس فیصلے کی منظوری دی گئی، جبکہ نئی شرحوں کا اطلاق یکم جولائی 2026 سے ہوگا۔

صوبائی کابینہ نے سرکاری ملازمین کے لیے ریلیف پیکیج، صحت، تعلیم، بنیادی ڈھانچے، گورننس اور غذائی تحفظ سے متعلق متعدد اہم فیصلوں کی منظوری بھی دی۔

بی پی ایس 1 سے 16 تک ملازمین کے لیے تفریقی الاؤنس

کابینہ نے بی پی ایس 1 سے 16 تک کے ملازمین کے لیے تفریقی الاؤنس 2026 کی منظوری دی ہے۔ یہ الاؤنس منجمد بنیادی پے اسکیل 2022، جو 30 جون 2026 تک نافذ تھا، پر 2 فیصد کی شرح سے ادا کیا جائے گا۔

حکومت کے مطابق اس الاؤنس کا مقصد وہ فرق ختم کرنا ہے جو 2025 میں سندھ حکومت کی جانب سے وفاقی حکومت کے مقابلے میں زیادہ تنخواہوں میں اضافے کے باعث پیدا ہوا تھا۔

سفری الاؤنس میں 50 فیصد اضافہ

سندھ کابینہ نے تمام صوبائی سرکاری ملازمین کے سفری الاؤنس میں 50 فیصد اضافے کی بھی منظوری دی ہے۔ نئی شرحیں درج ذیل ہوں گی:

گریڈ پرانا الاؤنس نیا الاؤنس
بی پی ایس 1 تا 4 1,785 روپے 2,678 روپے
بی پی ایس 5 تا 10 1,932 روپے 2,898 روپے
بی پی ایس 11 تا 15 2,856 روپے 4,284 روپے
بی پی ایس 16 اور اس سے اوپر 5,000 روپے 7,500 روپے

معذور ملازمین کے لیے خصوصی سہولت
کابینہ نے معذور سرکاری ملازمین کے لیے خصوصی سفری الاؤنس میں بھی اضافہ کرتے ہوئے اسے 6 ہزار روپے سے بڑھا کر 10 ہزار روپے ماہانہ کرنے کی منظوری دی ہے۔ یہ رقم معمول کے سفری الاؤنس کے علاوہ ادا کی جائے گی۔

اطلاق کب سے ہوگا؟
حکومت سندھ کے مطابق سفری اور تفریقی الاؤنس سے متعلق تمام منظور شدہ فیصلوں پر یکم جولائی 2026 سے عمل درآمد ہوگا اور یہ موجودہ قواعد و ضوابط کے تحت نافذ رہیں گے۔

دوسری جانب صوبائی کابینہ نے ایگزیکٹو الاؤنس دینے کی تجویز منظور نہیں کی۔ وزیر اطلاعات نے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اس تجویز پر فی الحال اتفاق نہیں ہو سکا۔

سندھ حکومت کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد بڑھتی مہنگائی کے تناظر میں سرکاری ملازمین کو مالی ریلیف فراہم کرنا اور ان کے سفری اخراجات میں کمی لانا ہے، جبکہ آئندہ بھی ملازمین کی فلاح و بہبود کے لیے اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔

متعلقہ مضامین

  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • سرکاری ملازمین کے سفری اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری، نئی شرحیں جاری
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
  • حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف