غزہ کا بدلہ؛ برطانیہ کی یہودی آبادی میں قتل عام کا منصوبہ؛ ملزمان کو سزائیں
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
برطانیہ میں یہودی برادری کے قتل عام کی سازش تیار کرنے کے دوران رنگے ہاتھوں گرفتار ہونے والے دو مجرموں کو 37 اور 26 سال قید کی سزا سنادی گئی۔
برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق ولید سعدوئی اور عامر حسین کو داعش سے متاثر ہوکر سیکڑوں یہودیوں کو قتل کرنے کی سازش کے الزام میں مئی 2024 میں گرفتار کیا گیا تھا۔
یہ دونوں ملزمان نے مانچسٹر میں یہودی برادری کو نشانہ بنانے کے لیے خودکار اسلحہ استعمال کرنے کا فیصلہ کیا تھا تاکہ زیادہ سے زیادہ ہلاکتیں ہوں۔
انھوں نے دو اسالٹ رائفلیں، ایک خودکار پستول اور تقریباً 200 گولیاں برطانیہ میں اسمگل کرانے کا انتظام کیا گیا تھا۔
علاوہ ازیں دونوں کا مزید اسلحہ اور کم از کم 900 گولیاں حاصل کرنے کا منصوبہ بھی تھا اور وہ منصوبے پر عمل کے بہت قریب پہنچ چکے تھے۔
ملزمان نے یہ انتہائی قدم اسرائیل کی غزہ میں جاری جارحیت، سفاکیت اور بربریت کے ردعمل میں اُٹھانے کا فیصلہ کیا تھا۔
سازش کیسے ناکام بنی؟دونوں ملزمان اس بات سے بے خبر تھے جس شخص سے وہ اسلحہ خرید رہے ہیں وہ دراصل پولیس کے خفیہ آپریشن کا انڈر کور ایجنٹ تھا۔
جب اسلحہ کی ڈیل طے ہوگئی تو اُس نے پولیس کو معلومات فراہم کردیں اور ملزمان کو رنگے ہاتھوں پکڑوا دیا۔ اس طرح یہ ہولناک سازش ناکام بنا دی گئی۔
استغاثہ کے مطابق یہ حملہ اگر کامیاب ہوجاتا تو برطانوی سرزمین پر ہونے والے مہلک ترین حملوں میں سے ایک ثابت ہوسکتا تھا۔
یہ منصبہ گزشتہ برس دسمبر میں آسٹریلیا کے ساحلی علاقے بونڈائی بیچ پر ہونے والی فائرنگ سے بھی زیادہ تباہ کن ہوسکتا تھا۔
ان کے خلاف مقدمہ اس وقت شروع ہوا جب مانچسٹر میں ایک عبادت گاہ پر ایک الگ مہلک حملہ پیش آچکا تھا۔
ان دونوں کو پرسٹن کورٹ نے ٹرائل کے بعد مجرم قرار دیا تھا۔ 38 سال ولید سعدوئی کو کم از کم 37 سال جب کہ 52 سال عامر حسین کو کم از کم 26 سال قید کی سزا سنائی گئی۔
علاوہ ازیں ولید سعدوئی کے بھائی کو دہشت گردی کے اس منصوبے سے متعلق معلومات ہونے کے باجود پولیس کو آگاہ نہ کرنے کے جرم میں 6 سال قید کی سزا سنائی گئی۔
واضح رہے کہ یہ فیصلہ ایسے وقت آیا جب دسمبر میں آسٹریلیا کے ساحل بونڈائی بیچ پر یہودی تہوار کی تقریب کے دوران فائرنگ میں 15 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
ایلون مسک نے ’اوڈیسی‘ کا اے آئی ورژن اسی سال پیش کرنے کا اعلان کردیا
ارب پتی ٹیکنالوجی کاروباری شخصیت ایلون مسک نے اعلان کیا ہے کہ ان کا مصنوعی ذہانت پر مبنی پلیٹ فارم گروک امیجن (Grok Imagine) رواں سال کے اختتام سے پہلے قدیم یونانی رزمیہ شاہکار اوڈیسی پر مبنی ایک مکمل فلم تیار کرے گا۔ مسک کا کہنا ہے کہ یہ فلم شاعر ہومر کی اصل تخلیق کے مطابق ہوگی اور تاریخی اعتبار سے بھی زیادہ درست انداز میں پیش کی جائے گی۔
ایلون مسک نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنی پوسٹ میں دعویٰ کیا کہ اے آئی کے ذریعے بنائی جانے والی یہ فلم ہومر کے اصل فن اور کہانی کی حقیقی روح کی عکاسی کرے گی۔ انہوں نے اس اعلان کے ساتھ تقریباً تین منٹ طویل ایک اے آئی ویڈیو بھی شیئر کی، جس میں اوڈیسیئس اور کلیپسو کے درمیان ایک منظر دکھایا گیا ہے۔
Before this year ends, Grok Imagine will make a full-length movie of The Odyssey that is historically accurate and true to the art of Homer https://t.co/bVHzUmY9WN
— Elon Musk (@elonmusk) July 22, 2026اس سے قبل بھی ایلون مسک نے ایک صارف کی اس تجویز کی حمایت کی تھی کہ ہدایت کار میل گبسن تقریباً 100 ملین ڈالر کی لاگت سے اوڈیسی پر ایسی فلم بنائیں جس میں تاریخی طور پر درست جہاز، ہتھیار، زرہیں، کردار اور ہومر کی اصل نظم کے مکالمے شامل ہوں۔ اس تجویز پر مسک نے مختصر جواب دیتے ہوئے کہا تھا، ’میں تیار ہوں۔‘
دوسری جانب ایلون مسک حالیہ دنوں میں برطانوی نژاد امریکی فلم ساز کرسٹوفر نولن کی فلم اوڈیسی پر بھی سخت تنقید کرتے رہے ہیں۔ ان کا الزام ہے کہ نولن نے ایوارڈز حاصل کرنے کی غرض سے اصل داستان میں تبدیلیاں کیں۔ انہوں نے فلم کی کاسٹنگ پر بھی اعتراض اٹھایا، خاص طور پر اداکارہ لوپیٹا نیونگو کو ہیلن آف ٹرائے کے کردار میں لینے کے فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا، جبکہ ایک موقع پر نولن کو ’نسل پرستانہ رویہ رکھنے والا‘ فلم ساز بھی قرار دیا۔
تاہم ایلون مسک کی تنقید کے باوجود کرسٹوفر نولن کی اوڈیسی نے باکس آفس پر شاندار آغاز کیا ہے۔ باکس آفس رپورٹس کے مطابق فلم نے ریلیز کے پہلے ہفتے میں دنیا بھر سے 264.06 ملین ڈالر سے زائد کا بزنس کیا، جس کے بعد اسے رواں برس کی نمایاں کامیاب فلموں میں شمار کیا جا رہا ہے۔