مانچسٹر: ایئرلائن ہڑتال، 800 کے قریب پروازیں منسوخ، 1 لاکھ سے زائد مسافر پھنس گئے
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
مانچسٹر میں برطانیہ کی معروف ایئرلائن لفتھانسا کی ہڑتال کے باعث تقریباً 800 کے قریب پروازیں منسوخ ہو گئیں، جس کے نتیجے میں 1 لاکھ سے زائد مسافر ایئرپورٹس پر پھنس گئے۔
جرمنی میں پائلٹس اور کیبن کریو نے تنخواہ اور پنشن میں اضافے کے مطالبات کو لے کر 24 گھنٹے کی ہڑتال کا اعلان کیا، جس نے مسافروں کے لیے مشکلات پیدا کر دی۔ برطانوی ذرائع ابلاغ کے مطابق فرینکفرٹ اور میونخ جیسے بڑے ایئرپورٹ مراکز کی پروازوں میں شدید خلل آیا اور سیکڑوں پروازیں منسوخ ہو گئیں۔
لفتھانسا ایئر لائن کے حکام نے مسافروں کو درپیش مشکلات پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ آج بڑے پیمانے پر معمول کے مطابق شیڈول بحال کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ متاثرہ مسافروں کو نئی پروازیں بک کرنے یا مکمل رقم واپس لینے کی سہولت دی جائے گی۔
ایئرلائن کے لیبر ریلیشنز ڈائریکٹر مائیکل نگگیمن نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں تنازع کو بڑھانے کے بجائے تعمیری بات چیت پر توجہ دینی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہڑتال نہ صرف ملازمین کے مستقبل کے لیے مددگار نہیں بلکہ سب سے زیادہ متاثر ہمارے مسافر ہی ہوتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔