خیبر پختونخوا: بھارتی ترانہ گانے پر 4 طلبہ یونیورسٹی سے فارغ
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
خیبر پختونخوا کے ضلع چارسدہ میں واقع باچا خان یونیورسٹی نے بھارتی قومی ترانہ گانے کی ویڈیو وائرل ہونے پر شعبۂ فارمیسی کے چار طلبہ کو جامعہ اور ہاسٹل سے نکال دیا۔ انتظامیہ کے مطابق کارروائی ڈسپلنری کمیٹی کی رپورٹ اور انکوائری کی روشنی میں کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں:انٹر یونیورسٹی ڈیجیٹل کانٹینٹ مقابلہ عالمی یومِ ریڈیو کے موقع پر اختتام پذیر
باچا خان یونیورسٹی انتظامیہ نے 4 طلبہ کو جامعہ سے نکالنے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے خلاف ایکشن ڈسپلنری کمیٹی کی رپورٹ کی روشنی میں لیا گیا۔ انتظامیہ کے ایک اہلکار کے مطابق طلبہ کے خلاف کارروائی اس وقت عمل میں لائی گئی جب ان کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی، جس میں وہ بھارت کا قومی ترانہ گاتے اور مبینہ طور پر ریاست کے خلاف سمجھے جانے والے نعرے لگاتے دکھائی دیے۔
یونیورسٹی نے ڈسپلنری کمیٹی کی سفارش پر طلبہ کو جامعہ اور ہاسٹل قواعد کی خلاف ورزی پر نکالا اور باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کیا۔ نوٹیفکیشن میں طلبہ کی حرکت کو بدامنی پھیلانے اور قومی یکجہتی کو نقصان پہنچانے کی کوشش قرار دیا گیا۔ پرووسٹ آفس نے سوشل میڈیا پر ویڈیو شیئر کیے جانے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے طلبہ کی ہاسٹل رہائش منسوخ کر دی اور انہیں فوری طور پر کمرے خالی کرنے کی ہدایت کی۔
ذرائع کے مطابق واقعہ 2 روز قبل یونیورسٹی کے ایک فیسٹیول کے دوران پیش آیا تھا، تاہم ویڈیو آن لائن وائرل ہونے کے بعد ہی باضابطہ انکوائری شروع کی گئی۔ سوشل میڈیا پر فوٹیج کے بعد شدید بحث چھڑ گئی، جس کے نتیجے میں تادیبی کارروائی کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں:مبینہ طور پر نشے میں ہونے کے سبب سندھ یونیورسٹی کے پرو وائس چانسلر معطل، ویڈیو وائرل
یونیورسٹی کے ایک اہلکار نے بتایا کہ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خان عالم نے خود انکوائری کی نگرانی کی اور معاملے کو حساس قرار دیا۔ ان کے مطابق ریاست کے خلاف اقدامات ناقابلِ برداشت ہیں، اسی لیے انکوائری مکمل ہونے کے بعد کارروائی عمل میں لائی گئی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
باچا خان یونیورسٹی بھارتی ترانہ طلبہ کا اخراج.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: باچا خان یونیورسٹی بھارتی ترانہ طلبہ کا اخراج
پڑھیں:
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کا اہم اجلاس منعقد ہوا ،جس میں انڈونیشیا میں پاکستان کے سفیر زاہد چوہدری نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ اجلاس میں پی ایم ڈی سی کے صدر ڈاکٹر رضوان تاج اور رجسٹرار سمیت دیگر متعلقہ حکام بھی شریک ہوئے۔اجلاس میں انڈونیشیا کے میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے طبی تعلیمی اداروں میں داخلے دینے سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ انڈونیشیا کی حکومت نے درخواست کی ہے کہ اس کے انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے معیاری میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں تعلیم کے مواقع فراہم کئے جائیں۔(جاری ہے)
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ان طلبہ کے تعلیمی اور رہائشی اخراجات انڈونیشیا کی حکومت برداشت کرے گی جبکہ انہیں پاکستان کے بہترین طبی تعلیمی اداروں میں مکمل شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر داخلے دیئے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے تحت تقریباً 200 انڈونیشین میڈیکل اور ڈینٹل طلبہ کو عالمی معیار کی تعلیمی اور تربیتی سہولیات فراہم کی جائیں گی جس سے دونوں ممالک کے درمیان طبی تعلیم کے شعبے میں تعاون کو مزید فروغ حاصل ہوگا۔وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ امر خوش آئند ہے کہ انڈونیشیا کی حکومت نے اپنے طلبہ کی طبی تعلیم کے لئے پاکستان کے اداروں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ترجیح دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پیشرفت سے نہ صرف پاکستان اور انڈونیشیا کے دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے طبی تعلیمی نظام اور وقار کو بھی تقویت ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستانی ڈاکٹرز دنیا بھر میں اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور خدمات کے ذریعے ملک کا نام روشن کر رہے ہیں اور یہ اقدام پاکستان کے طبی شعبے پر بین الاقوامی اعتماد کا مظہر ہے۔