سابق قومی کپتان سلمان بٹ کا کہنا ہے کہ پاک بھارت میچ کو محض دباؤ کے زاویے سے نہیں دیکھنا چاہیے بلکہ یہ وہ موقع ہوتا ہے جہاں ایک کھلاڑی خود کو ہمیشہ کے لیے منوا سکتا ہے۔
نجی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عام شائق شاید اس دباؤ کا اندازہ بھی نہ لگا سکے جو ایسے بڑے مقابلے میں کھلاڑی محسوس کرتے ہیں۔ جب کروڑوں لوگوں کی نظریں آپ پر ہوں اور پوری قوم جیت کی امید لگائے بیٹھی ہو تو ذمہ داری کا احساس فطری طور پر بڑھ جاتا ہے۔
سلمان بٹ کے مطابق پاک بھارت مقابلے میں اصل دباؤ عوامی توقعات کا ہوتا ہے۔ “جب ہر شخص آپ سے بہترین کارکردگی کی امید رکھتا ہو تو ذہنی بوجھ بڑھنا لازمی ہے، لیکن ایک پروفیشنل کرکٹر کو اسی لمحے کو اپنے کیریئر کا سب سے بڑا موقع سمجھنا چاہیے،” انہوں نے کہا۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی کھلاڑی بھارت کے خلاف نمایاں کارکردگی دکھا دے تو اس کا نام برسوں تک یاد رکھا جاتا ہے۔ “ایسے میچز ہیرو بناتے ہیں۔ ایک اچھی اننگز یا اسپیل آپ کو تاریخ کا حصہ بنا سکتی ہے۔”
میدان کے ماحول پر بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ جیسے ہی کھلاڑی گراؤنڈ میں قدم رکھتے ہیں، فضا مکمل طور پر بدل جاتی ہے اور توجہ صرف جیت پر مرکوز ہو جاتی ہے۔ دونوں ٹیموں کے درمیان جملوں کا تبادلہ بھی ہوتا ہے، جو کبھی دوستانہ اور کبھی قدرے سخت ہو سکتا ہے، مگر یہ سب کھیل کا حصہ ہے۔
سلمان بٹ نے موجودہ کھلاڑیوں کو مشورہ دیا کہ وہ میچ کی اہمیت کو ذہن پر سوار نہ کریں۔ ان کے بقول، “زیادہ سوچنے سے کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔ خود کو پُرسکون رکھیں، حالات کے مطابق فیصلے کریں اور کھیل سے لطف اٹھائیں۔ جیت اور ہار کھیل کا حصہ ہیں، انہیں اعصاب پر سوار نہ کریں۔”
ان کے مطابق بڑے مقابلے اصل میں ذہنی مضبوطی کا امتحان ہوتے ہیں، اور جو کھلاڑی اس دباؤ کو موقع میں بدل لیتے ہیں، وہی اصل کامیاب کہلاتے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟

کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔

ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔

کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔

ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔

ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔

دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔

قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں حادثات کے نتیجے میں 3 افراد جاں بحق
  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
  • چلاس: پی ٹی آئی کے مرکزی جنرل سیکریٹری سلمان اکرم راجا کو دیامر میں روک لیا گیا
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • فلم ’کالا ہرن‘ پر سلمان خان کا قانونی نوٹس، پروڈیوسر نے الزامات مسترد کر دیے
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا