عمران خان کی اسپتال منتقلی سے متعلق خبروں پر پی ٹی آئی کا اظہار تشویش
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے اپنے بانی چیئرمین عمران خان کی صحت اور ان کی اڈیالہ جیل سے اسپتال ممکنہ منتقلی سے متعلق گردش کرنے والی خبروں پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کی اسپتال منتقلی کا فیصلہ، 2 رکنی میڈیکل ٹیم تشکیل، بہترین ڈاکٹرز سے علاج کروایا جائے گا، عطاتارڑ
پی ٹی آئی کے سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم کے ایکس پر شیئر کردہ ایک بیان میں پارٹی کا کہنا ہے کہ ایسی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں جن کے مطابق عمران خان کو ان کے خاندان کو اعتماد میں لیے بغیر خفیہ طور پر علاج کی غرض سے اسپتال منتقل کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ پارٹی کے مطابق ایسا کوئی بھی اقدام بنیادی انسانی حقوق اور مروجہ قانونی تقاضوں کی کھلی خلاف ورزی ہوگا۔
بیان میں واضح کیا گیا کہ عمران خان کو اہلخانہ اور معالجین کو مطلع کیے بغیر کسی مقام پر منتقل کرنا یا ان کی عدم موجودگی میں طبی معائنہ یا علاج شروع کرنا آئین پاکستان اور جیل قوانین کی سنگین خلاف ورزی تصور کی جائے گی جسے کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔
پی ٹی آئی نے سابق وزیر اعظم کی صحت سے متعلق کسی بھی قسم کی رازداری کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ماضی کی طرح حقائق چھپانا ان کی صحت اور زندگی کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہوگا۔
پارٹی نے مطالبہ کیا کہ عمران خان کا ہر قسم کا طبی معائنہ اور علاج ان کے ذاتی معالجین اور خاندان کے کم از کم ایک فرد کی موجودگی میں فوری طور پر یقینی بنایا جائے۔
مزید پڑھیے: اٹک پل سمیت خیبر پختونخوا کے تمام اہم راستے بند، عمران خان کے علاج کے لیے پی ٹی آئی کا احتجاج جاری
بیان میں مزید کہا گیا کہ علاج کا عمل پارٹی کے تجویز کردہ معتبر ڈاکٹروں اور اسپتال کی زیر نگرانی آزادانہ طور پر انجام دیا جائے اور کسی بھی خفیہ یا یکطرفہ اقدام کے نتائج کی مکمل ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔
پی ٹی آئی نے اس امر پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ 2 دن گزرنے کے باوجود سپریم کورٹ کی جانب سے تحریری احکامات جاری نہیں کیے گئے۔ پارٹی نے امید ظاہر کی کہ چیف جسٹس انسانی ہمدردی کی بنیاد پر فوری علاج کے احکامات جاری کریں گے۔
مزید پڑھیں: عمران خان کی صحت کے معاملے پر کسی کو سیاست نہیں کرنے دوں گا، سہیل آفریدی نے واضح کردیا
آخر میں پارٹی نے خبردار کیا کہ اگر عمران خان کی سلامتی یا صحت کو کوئی نقصان پہنچا تو اس کی ذمہ داری موجودہ وفاقی و صوبائی حکومت اور انتظامیہ پر ہوگی اور بانی چیئرمین کی صحت کے معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاکستان تحریک انصاف ترجمان پی ٹی آئی شیخ وقاص اکرم عمران خان کی اسپتال منتقلی کا فیصلہ عمران خان کی صحت.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستان تحریک انصاف ترجمان پی ٹی ا ئی شیخ وقاص اکرم عمران خان کی اسپتال منتقلی کا فیصلہ عمران خان کی صحت عمران خان کی پی ٹی آئی ان کی صحت
پڑھیں:
قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔ علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔(جاری ہے)
انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔