لعنت بھیجتا ہوں ایسی وزارت پر کہ میرے بچے گٹر میں گر کر مرجائیں، مصطفیٰ کمال
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
مصطفیٰ کمال / اسکرین گریب فیس بک
وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کا کہنا ہے کہ ہم اس حکومت اور 18ویں ترمیم کو رد کرتے ہیں، میں لعنت بھیجتا ہوں ایسی وزارت پر کہ میرے بچے گٹر میں گر کر مرجائیں۔
کراچی کے علاقے لیاقت آباد میں ایم کیو ایم پاکستان کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے کہا کہ خاموش ایم کیو ایم کو کمزور ایم کیو ایم نہ سمجھیں، ہم نے یہ طے کیا ہے کہ اس زندگی سے موت اچھی، ہمیں جدوجہد کرنی ہے، اب ہم پر نسل پرستی کا الزام لگا کر تم ہمیں نہیں لڑوا سکتے، ہم نے 18ویں ترمیم کو ختم کرنے کی حمایت کی ہے، اگر آپ میری 26ویں اور 27ویں ترمیم میں آئینی ترمیم کی مخالفت کریں گے تو میں 18ویں ترمیم کی مخالفت کروں گا۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پیپلز پارٹی والے ہمارے وجود تک کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں، پیپلز پارٹی نے مقامی حکومت سے متعلق ایم کیو ایم کی آئینی ترمیم کو رد کیا، 18ویں آئینی ترمیم نے سب خراب کردیا۔
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کا کہنا ہے کہ میں وزارت کو جوتے کی نوک پر رکھتا ہوں، دشمن بھی مجھ پر مال بنانے کا الزام نہیں لگا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ 15 سال پہلے زرداری نے کہا کہ کراچی کی آبادی 3 کروڑ سے زیادہ ہے، 3 سال پہلے پیپلز پارٹی نے اپنے افسران لگا کر ایک کروڑ 30 لاکھ آبادی کا کہا، ایم کیو ایم حکومت میں تھی اور وفاق سے شکایت کی، وفاق نے چار بار مردم شماری کی تاریخ بڑھائی، وفاق سے ٹیمیں آئیں اور پھر کراچی کی آبادی 2 کروڑ 3 لاکھ نکلی، مردم شماری میں 73 لاکھ لوگ پیپلز پارٹی نے لاپتا کر دیے تھے۔
ایم کیو ایم رہنما نے کہا کہ گنتی ٹھیک کی جائے تو کراچی کی آبادی ساڑھے 3 کروڑ اور حیدرآباد 40 لاکھ ہے، گنتی ٹھیک ہو تو سیٹیں بڑھیں گی اور جو کراچی حیدرآباد میں جیتے گا حکومت بنائے گا۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پنجاب کا ہر وزیر اعلیٰ لاہور کو اون کرتا ہے سندھ کا وزیر اعلیٰ کراچی کو اون نہیں کرتا، ہمیں پیپلزپارٹی سے کوئی امید نہیں رہی، کیا سندھ کے اس نظام میں رشوت اور کرپشن نہیں چل رہی؟
انہوں نے کہا کہ یہ پرانی ایم کیو ایم نہیں ہے، یہ کراچی کے ہر علاقے کی ایم کیو ایم ہے، آج اسٹیج پر سندھی بولنے والا، بلوچستان سے تعلق رکھنے والے رہنما موجود ہیں، تم جتنے ڈسٹرکٹ بنا کر تقسیم کی سیاست کرلو ہر جگہ ایم کیو ایم ہوگی، سندھ میں 18 سال سے تمہاری حکمرانی ہے، تم ہمیں گنتے صحیح نہیں ہو، کوٹے پر بھی ہمیں نوکری نہیں دیتے اس پر بھی جعلی ڈومیسائل بنا لیتے ہو۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ دنیا کے بدترین شہروں میں کراچی چوتھے نمبر پر آتا ہے، وفاق سے کہتا ہوں آپ فی الفور ایم کیو ایم کی آئینی ترمیم کو منظور کروائیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: کمال نے کہا کہ پیپلز پارٹی ایم کیو ایم ترمیم کو ایم کی
پڑھیں:
بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 جولائی ۔2026 ) صوبائی دارالحکومت لاہور میں علامہ اقبال ٹاﺅن مین بلیوارڈکی سروس روڈپربھیکے وال کے نزدیک 10فٹ گہرا شگاف پڑگیا ہے‘اسی طرح جوہر ٹاﺅن مصروف ترین شاہراہ خیابان فردوسی پر ایک اورگڑھا پڑ گیاہے گزشتہ تین روز کے دوران مذکورہ سڑک پریہ دوسرا گڑھا پڑا. بارش کے بعد مرکزی شاہراہ پر گڑھنے پڑنے سے حادثات کا خدشہ بڑھ گیا حکام کے مطابق سڑک کی مرمت کا کام شروع ہوگیا گڑھا پڑنے سے ٹریفک کی روانی جزوی طور پر متا ثر ہوئی دوسری جانب اقبال ٹاﺅن میں بھیکے والے موڑ جانب فاروق ہسپتال سروس روڈ پر 10 فٹ گہرا شگاف پڑ گیا.(جاری ہے)
سڑک کے درمیان پڑنے والے گہرے شگاف کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے شگاف پڑنے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، متعلقہ افسران اور واسا کی ٹیمیں موجود ہیں ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ متعلقہ محکموں نے سروس روڈ پر شگاف پر کرنے کیلئے کام شروع کردیا. واضح رہے کہ 17جولائی کو ہونے والی بارش سے فیروزپور روڈ پرنشتر کالونی کے قریب سروس روڈ کا ایک حصہ بیٹھ گیا تھا جس کے نتیجے میں وہاں کھڑی تین موٹر سائیکلیں گڑھے میں جا گریں تھیں. شہریوں کا کہنا ہے کہ پورے شہر کے اندر یہی حال ہے بارشوں میںمتوسط آبادیوںکے اندر سڑکوں کے بیٹھ جانے کے واقعات زیادہ ہوتے ہیں مگر انہیں کوریج نہیں ملتی‘نجی یونیورسٹی کے لیکچرار معاذالاسلام سول انجینئرنگ پڑھاتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے پاکستان میں سب سے زیادہ بدعنوانی اس شعبے میں ہے ناقص میٹریل اور زمین کی کمپریشن عالمی لیول کی نہیں کی جاتی . ان کا کہنا ہے کہ ٹھیکے دار اب کئی دن مٹی کو کمپریس کرنے میں نہیں لگا اور نہ ہی میٹریل ڈالنے کے بعد ٹھیک طریقے سے اسے کمپریس کیا جاتا ہے ‘مٹی نرم ہونے سے اگر پانی راستہ بنالے تو چند ہفتوں میں ہی اس ایریا کے نیچے زمین کھوکھلی ہوجاتی ہے اور بارشوں کے دوران شگاف پڑنے لگتے ہیں. انہوں نے بتایا کہ لاہور فیصل آباد موٹر وے کو جب تجرباتی طور پرچھوٹی گاڑیوں کے لیے کھولا گیا تھا تو لاہور سے فیصل آباد کے سفر کے دوران انہوں نے نوٹ کیا تھا کہ کئی سو ارب کی لاگت سے بنی اس سڑک میں لیول کا بھی خیال نہیں رکھا تھا اور یہ موٹروے مکمل طور پر ناہموار تھا جس پر انہوں نے کچھ دیگر انجینئرز کے ساتھ مل کر ایک تجزیاتی رپورٹ این ایچ اے اور پنجاب حکومت کو ارسال کی تھی تاہم آج تک ہمیں اس پر کوئی جواب نہیں ملا.