بھارتی ریاست مغربی بنگال کے شہر کولکتہ میں دسویں جماعت کی طالبہ نے اپنے کمرے کی چھت سے لٹک کر اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق یہ واقعہ اُس وقت پیش آیا جب والدین کسی کام سے باہر گئے ہوئے تھے اور گھر میں  صرف ایک بہن اور دادی موجود تھیں۔

شام کو والدین گھر واپس لوٹے اور جب کافی دیر تک بیٹی کمرے سے باہر نہ آئی تو دروازہ کھٹکھٹایا لیکن کوئی جواب نہیں آیا جس پر اہل خانہ نے دروازہ توڑ دیا۔

اہل خانہ کمرے میں داخل ہوئے تو بیٹی کو دوپٹے کے ذریعے پنکھے سے لٹکا ہوا پایا۔ اسے اسپتال لے جایا گیا جہاں موت کی تصدیق کردی گئی۔

والدین نے پولیس کو بتایا کہ ان کی بیٹی دسویں کلاس میں پڑھتی تھی اور اس کے تمام پیپرز بہت اچھے ہوئے تھے لیکن ریاضی کا پرچہ خراب ہونے پر وہ ہر وقت افسردہ رہتی تھی۔

انھوں نے مزید بتایا کہ اس نے مایوسی کے عالم میں دو دن سے کھانا پینا چھوڑ دیا تھا اور کمرے میں ہر وقت اکیلی رہتی تھی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی تفتیش میں یہ خودکشی کا کیس لگتا ہے لیکن مقدمے کا ہر پہلو سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔ 

تعلیمی ماہرین کے بقول بھی امتحانات کے دوران طلبا کو شدید ذہنی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے خاص طور پر جب وہ نتائج کے بارے میں غیر معمولی فکرمند ہوں۔

ماہرین والدین اور اساتذہ کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ بچوں کی ذہنی کیفیت پر نظر رکھیں اور انہیں ناکامی یا کم نمبروں کی صورت میں بھی حوصلہ دیں۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

لاہور میں 6 گھنٹے تک طوفانی بارش سے شہر پانی میں ڈوب گیا

فوٹو: آن لائن 

لاہور میں 6 گھنٹے تک طوفانی بارش سے شہر پانی میں ڈوب گیا، ڈی ايچ اے اور ہربنس پورہ انڈر پاس پانی سے بھر گئے، ٹریفک کے لیے بند کردیے گئے۔

 تاج پورہ اور ایئرپورٹ کے قریب علاقوں میں پانی گھروں میں داخل ہوگیا، گاڑیاں ڈوب گئیں، موٹرسائيکلیں بند ہوگئیں، فیروز پور روڈ پر موٹرسائیکل پھسل کر کھمبے سے جا ٹکرائی، جس کے نتیجے میں دو بھائی جاں بحق ہوگئے، چھت گرنے کے واقعات میں چار افراد زخمی ہوئے۔

بارش رکنے کے بعد ایم ڈی واسا نے تمام انڈر پاس کلیئر کر دینے کا دعویٰ کیا، بارش کے باعث 99 فیڈرز بھی متاثر ہوئے، بحالی کا کام جاری ہے، ڈیفنس میں بارش کے پانی میں ایک منچلا کشتی لے آیا۔

گوجرانوالا میں مسلسل تیسرے دن بھی بارش برسی، نکاسِ آب کے لیے لاہور سے مشینری طلب کرلی گئی، شکر گڑھ میں تیسرے روز بھی موسلادھار بارش ہوئی، نالہ بئیں اور بسنتر سے ملحقہ نشیبی دیہات میں پانی داخل ہوگیا۔

منڈی بہاء الدین میں بارش سے سیکڑوں ایکڑ پر کھڑی دھان اور چارے کی فصلیں تباہ ہونے کا خدشہ ہے۔

دوسری جانب دریائے چناب میں نچلے سے درمیانے درجے کا ریلا گزرنے کا خطرہ ہے، تریموں بیراج پر پانی کی سطح بلند ہونے لگی، سرگودھا میں طالب والا کے مقام پر اکتالیس دیہات متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

متعلقہ مضامین

  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • لاہور میں 6 گھنٹے تک طوفانی بارش سے شہر پانی میں ڈوب گیا