رمضان کا چاند دوربین سے دیکھنا بینائی کے لئے خطرناک ہوسکتاہے: ماہرین فلکیات
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
دبئی: متحدہ عرب امارات کے ماہر فلکیات نے کہا ہے کہ رمضان المبارک کا چاند دیکھنے کے لئے دوربین کا استعمال بینائی کے لئے خطرناک ثابت ہوسکتاہے۔
ماہرین ِ فلکیات نے عوام کو خبردار کیا ہے کہ 17 فروری کو چاند دیکھنے کی کوشش کے دوران دوربین یا بائنوکولرز کا غیر محفوظ استعمال آنکھوں کو عارضی یا مستقل نقصان پہنچا سکتا ہے۔کیونکہ اُس روز سورج گرہن بھی ہوگا اور غروبِ آفتاب کے وقت چاند، سورج کے انتہائی قریب ہوگا جس سے براہِ راست یا بالواسطہ سورج کی شعاعیں آنکھوں پر پڑنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
ابوظہبی میں قائم انٹرنیشنل آسٹرونومی سینٹر (IAC) کے مطابق 17 فروری کو ریاض میں غروبِ آفتاب کے وقت سورج اور چاند کے درمیان زاویائی فاصلہ محض ایک درجے کے قریب ہوگا۔ اگر باریک ہلال موجود بھی ہو تو وہ سورج کے قرص سے تقریباً آدھا درجہ فاصلے پر ہوگا۔ایسے میں اگر کوئی شخص دوربین کو ہلال کی سمت کرے تو سورج یا اس کی تیز روشنی آلے کے میدانِ نظر میں آسکتی ہے جو دیکھنے والے کی بینائی کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔
میڈیا ذرائع کے مطابق دبئی آسٹرونومی گروپ کی آپریشنز مینیجر خدیجہ الحریری نے بھی اس مؤقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ گرہن دن میں ہوگا تاہم غروبِ آفتاب کے وقت بھی چاند سورج کے بے حد قریب ہوگا اس لیے غیر محفوظ مشاہدہ خطرناک ہو سکتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔