کیا ڈمی مدارس اور دینی بورڈز ہیں؟ ( آخری حصہ)
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
2018 میں جب پی ٹی آئی کی حکومت قائم ہوئی، تو حکومت نے ایک ایگزیکٹیو حکم نامے اور وفاقی کابینہ کی منظوری کے ذریعے مدارس کی رجسٹریشن کے لیے وفاقی وزارت تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت کے ماتحت ڈائریکٹوریٹ آف ’’ ریلیجس ایجوکیشن‘‘ کے نام سے نیا ادارہ قائم کردیا۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ یہ ادارہ عملاً ’’ پاکستان مدرسہ ایجوکیشن بورڈ‘‘ ہی کا تسلسل اور متبادل کے طور پر سامنے آیا ہے، جس کے ذریعے ریاست نے دینی مدارس کے انتظام، رجسٹریشن اور حکمرانی کے لیے ایک نیا راستہ اختیارکیا ہے۔
بالآخر 4 فروری 2021 کو ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) نے دینی مدارس کے پانچ امتحانی بورڈزکی باضابطہ منظوری دے دی۔ ان میں اتحاد المدارس العربیہ مردان، اتحاد المدارس الاسلامیہ پاکستان لاہور، نظام المدارس پاکستان لاہور، مجمع المدارس تعلیم الکتاب و الحکمت لاہور اور وفاق المدارس الاسلامیہ والرضویہ پاکستان شامل تھے۔
اس کے تقریباً دو ماہ اور دس دن بعد، یعنی 15 اپریل 2021 کو مزید تین امتحانی بورڈزکو منظوری دی گئی، جن میں وفاق المدارس و الجمعیت الدینیہ پاکستان، مجمع العلوم الاسلامیہ پاکستان اور وحدت المدارس الاسلامیہ پاکستان شامل ہیں۔ اس کے بعد 27 اپریل 2021 کو دو مزید بورڈز۔
بورڈ آف اسلامک ایجو کیشن اورکنز المدارس پاکستان کو بھی سرکاری طور پر تسلیم کر لیا گیا۔ یوں مختصر عرصے میں امتحانی بورڈزکی تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔
اسی تسلسل میں 1992 کے بعد پہلی مرتبہ ماضی کی روایت کو بر قرار رکھتے ہوئے چار بڑے اور معروف دینی تعلیمی اداروں جامعۃ الرشید کراچی، دار العلوم جامعہ نعیمیہ لاہور، جامعۃ المدینہ کراچی (دعوت اسلامی) اور جامعہ الدراسات الاسلامیہ کے مدارس کی آخری سند ’’ عالمیہ‘‘ کو بھی ایم۔ اے کے مساوی درجہ دے دیا گیا۔
یہ اقدامات نہ صرف دینی مدارس کے تعلیمی ڈھانچے میں ایک اہم تبدیلی کی علامت ہیں، بلکہ اس حقیقت کی بھی عکاسی کرتے ہیں کہ ریاست نے اس مرحلے پر مدارس کی تنظیم، رجسٹریشن اور استاد کی قبولیت کے معاملے میں ایک وسیع تر اور نسبتاً کھلے دائرہ کار کی پالیسی اختیارکی، جس کے اثرات آنے والے وقت میں دینی و عصری تعلیم کے باہمی تعلق پرگہرے اثرات مرتب کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
نئے اور پرانے دینی مدارس کے وفاقات اور امتحانی بورڈز کے درمیان اختلاف اس وقت شدت اختیارکرگیا جب موجودہ حکومت کی جانب سے چھبیسویں آئینی ترمیم کا معاملہ منظر عام پر آیا۔
اس تناظر میں پہلے سے موجود پانچ دینی وفاقات کے مشترکہ پلیٹ فارم ’’ اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ‘‘ نے مدارس کی رجسٹریشن کے معاملے میں وہی رویہ اختیارکیا، جو ماضی میں پاکستان مدرسہ ایجو کیشن بورڈ کے معاملے میں اپنایا گیا تھا، یعنی ڈائریکٹوریٹ آف ریلیجسں ایجوکیشن کو بھی مسترد کردیا گیا۔
حالانکہ ریکارڈ کے مطابق 7 اکتوبر 2010 کو دستخط شدہ معاہدے کی شق نمبر 4 میں واضح طور پر تحریر تھا کہ (قانونی شناخت میں توسیع کے تحت ITMP کے پانچ بورڈز کو وزارت تعلیم کے دائرہ کار میں لایا جائے گا، جسے وفاقات نے تسلیم بھی کیا تھا۔
اس طرح 2019 میں تحریری معاہدے الف کے مطابق (آئندہ تمام دینی مدارس و جامعات، اتحاد تنظیمات مدارس پاکستان کے ساتھ طے شدہ رجسٹریشن فارم کے مطابق وفاقی وزارت تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کے ساتھ رجسٹرڈ ہوں گے) اور اس پر پانچ وفاقات کے اکابرین کے دستخط بھی موجود تھے۔
اس سب کے باوجود، چھبیسویں آئینی ترمیم میں حکومت نے مولانا فضل الرحمن کی شرائط کو ترجیح دی اور فیصلہ کیا کہ جو مدارس سوسائٹی ایکٹ کے تحت رجسٹریشن کروانا چاہتے ہیں، وہ اسی راستے سے رجسٹر ڈ ہو سکتے ہیں۔
یوں حکومتی دستاویزی معاہدات کے باوجود، وفاقات کی سیاسی طاقت اور رضامندی نے رجسٹریشن کے عمل اور ادارہ جاتی اختیار کے منتظر نامے کو نئے تناظر میں ڈھال دیا۔
اس تمام صورتحال کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے تو یہ فیصلہ کرنا کسی بھی ذی شعور فرد کے لیے آسان نہیں کہ ’’ ڈمی مدارس‘‘ اور ’’ وفاق / بورڈز‘‘ کون سے ہیں؟ اگر 2021 کے بعد قائم ہونے والے نئے بورڈز یا وفاقات کے تحت چلنے والے مدارس کو جعلی قرار دیا جائے تو تاریخی پس منتظر، اس دعوے کی نفی کرتا ہے، کیونکہ ان میں سے بیشتر دینی ادارے طویل عرصے سے عملاً موجود اور فعال رہے ہیں۔
اسی طرح، اگر وہ مدارس جو پہلے پانچ معروف وفاقات میں شامل تھے اور 2021 کے بعد علیحدہ ہو گئے، ان کی زمینی حقیقت اور عرصہ در از فعالیت کو کس معیار پر اور کسی بنیاد پر ’’ ڈمی مدارس‘‘ اور ’’ بورڈ ‘‘ قرار دیا جا سکتا ہے؟
اگرچہ اسے غیر سنجیدہ الزام سمجھ لیا جائے تو یہ الزام ماضی بعید (ضیائی دور اور اس کے بعد) ایک دوسرے مدارس اور بورڈز پر لگایا جاتا رہا ہے۔ یوں یہ معاملہ محض ایک سادہ درجہ بندی یا اصطلاحی اختلاف کا نہیں رہا۔ بلکہ اب ایک پیچیدہ تاریخی، انتظامی اور سیاسی مسئلہ بن چکا ہے۔ اس پس منظر میں ایک ناگزیر سوال اور ابھرتا ہے۔
کیا واقعی پاکستان میں ’’ڈمی مدارس‘‘ اور ’’جعلی بورڈز‘‘ کا بیانیہ کسی ٹھوس تعلیمی اور انتظامی حقیقت کی ترجمانی کرتا ہے، یا یہ صرف وقتی سیاسی بیان بازی، ضد، ہٹ دھرمی اور باہمی کشمکش کا شاخسانہ ہے، جس میں اصل حقائق کی پیچیدگی کو جان بوجھ کر نظر انداز کیا جارہا ہے۔
سنجیدہ تقاضہ تو یہ ہے کہ اب 15 بورڈز / وفاق کے درمیان مقابلہ اس نوعیت کا ہونا چاہیے کہ اپنے طلبہ و طالبات کو دینی علوم میں مہارت کے ساتھ عصری چیلنجز سے نمٹنے اور معاشی ضرورت کا کتنا خیال رکھتے ہیں۔
اس کے لیے لازمی ہے کہ دینی وفاقات کارکردگی اور تعلیمی معیار کو اپنی اولین ترجیح بنائیں۔ جب یہ اصولی قدم اٹھایا جائے گا تو یقینا یہ مدارس معاشرے کو زیادہ مستحکم، علمی اور مفید نتائج فراہم کرنے کی صلاحیت کے حامل ہو جائیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: دینی مدارس کے مدارس کی کے بعد کے لیے
پڑھیں:
پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
اسلام آباد:پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کردی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی پر اجلاس ہوا جس میں ادارے کی کارکردگی پر بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ ، وزیر اقتصادی امور احد چیمہ ، وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ، وزیر تعلیم خالد مقبول، وزیر مملکت خزانہ بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔
وزیراعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم کی دستیابی جون 2025ء میں 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026ء میں 880 میگا ہرٹز ہوگئی، موبائل اسپیکٹرم میں اضافے سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔
وزیراعظم کو "کنیکٹ پاکستان وژن 2030ء " کے اجراء کی تیاریوں پر بریفنگ دی گئی، بتایا گیا ہے کہ باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے، پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، جون 2026ء تک 5.1 ملین گھروں میں فکسڈ براڈ بینڈ /فائبر کنکشن دئیے گئے، حکومتی اقدامات کی بدولت پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں ہوئی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1164.7 ملین ڈالر رہا۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ ڈیجیٹل نیشن پاکستان کے تحت حکومت پاکستان کی 130 سروسز کو ڈیجیٹائز کیا جا چکا ہے، پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس دیئے گئے جن میں 5053 ہائے اینڈ تربیتی پروگرام منعقد ہوئے ؛ لیڈرشپ اور سافٹ اسکلز کی 2700 ٹرینینگز کا انعقاد ہوا، ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کے منصوبہ کا افتتاح جلد ہی ہوگا۔
وزیراعظم کو بتایا گیا کہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت وفاقی حکومت کی کئی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کی نفاذ اور اس حوالے سے کئی منصوبے اور تربیتی سیشنز منعقد کئے جا رہے ہیں۔
بتایا گیا کہ سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن، وزارت ریلوے، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، فیڈرل بورڈ آف ریونیو، آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی، وزارت قومی غذائی تحفظ ، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی، پاکستان سنگل ونڈو، وزارت قومی غذائی تحفظ، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان، پاکستان پوسٹ، وفاقی ترقیاتی ادارہ، وزارت بحری امور اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن میں علی بابا مصنوعی ذہانت کے کئی منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔
وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی اور تمام ٹیم کی پذیرائی کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کی ترقی کے لیے لئے جانے والے اقدامات پالیسیوں کا ثمر ہے، ملک میں آئی ٹی کے شعبے کا فروغ اور آئی ٹی سے متعلق برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، آئی ٹی کے شعبے میں دیئے جانے والے تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے، آئی ٹی کے شعبے میں تربیت کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی۔