پاکستان ٹیم کے لیے کون سا بھارتی بڑا خطرہ، ٹی 20 ورلڈ کپ کون جیتے گا، سابق انگلش کرکٹر معین علی کی پیشگوئیاں
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
سابق انگلش کرکٹر معین علی نے ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 میں پاک بھارت میچ سے قبل بتایا ہے کہ پاکستانی ٹیم کے لیے کون سے بھارتی کھلاڑی بڑا خطرہ ثابت ہوں گے۔ علاوہ ازیں انہوں نے سیمی فائنلسٹ ٹیموں اور فاتح ٹیم کی بھی پیشگوئی کردی۔
یہ بھی پڑھیں: پاک بھارت ٹی 20 میچ: ہاتھ ملائیں گے یا نہیں، دونوں کپتان کیا کہتے ہیں؟
بھارت کے این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق معین علی نے کہا کہ پاکستان کے لیے سب سے بڑا خطرہ بھارتی کپتان سوریا کمار یادو، تیز گیند باز جسپرت بمراہ اور اسپنر کلدیپ یادو ہوں گے۔
معین علی نے کہا کہ سوریا کمار یادو وہ بلے باز ہیں جن سے پاکستان کو سب سے زیادہ احتیاط برتنی چاہیے کیونکہ وہ میچ کا رخ تیزی سے بدل سکتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ بولنگ میں سب سے زیادہ خطرناک کھلاڑی بمراہ اور کلدیپ یادو ہیں جو کسی بھی حالات میں میچ جیتنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
مزید پڑھیے: پاک بھارت میچ سے قبل بابر اعظم کا جونیئر کھلاڑیوں کو اہم مشورہ
معین علی نے کہا کہ آر پرما داسا اسٹیڈیم کی پچ عام طور پر اسپنرز کے لیے مددگار ہوتی ہے لیکن وہ توقع کرتے ہیں کہ پاک بھارت میچ کے لیے اچھی پچ تیار کی جائے گی تاکہ دونوں ٹیمیں اپنی فطری کرکٹ کھیل سکیں۔
پاکستان کی ممکنہ ٹیم میں تبدیلیاںمعین علی نے پاکستان کو مشورہ دیا کہ وہ فخر زمان، شاہین آفریدی اور خواجہ نافے کو شامل کریں اور ممکنہ طور پر بابر اعظم کی جگہ فخر زمان اور وکٹ کیپنگ کا کردار خواجہ کو دینے سے ٹیم کو بھارت کے خلاف مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔
مزید پڑھیں: ٹی 20 ورلڈ کپ: پاک بھارت میچ کی تمام سیٹیں بُک، ٹکٹ بلیک میں 4 گنا قیمت پر فروخت
انہوں نے کہا کہ یہ ایک جراتمندانہ فیصلہ ہے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ فخر زمان بڑی تبدیلی لا سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ شاہین آفریدی اور خواجہ نافع کو بھی ٹیم میں ہونا چاہیے اور اس کے علاوہ ممکن ہے وکٹ کیپنگ کی ذمہ داری میں تبدیلی کی جائے تاکہ ٹیم کا توازن بہتر ہو۔
پاکستان کے بولنگ خطراتسابق انگلش کرکٹر معین علی نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے ابرار احمد اور عثمان طارق بھارت کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں کیونکہ بھارت کے بیٹسمین ان سے زیادہ مقابلہ نہیں کر سکے ہیں۔
بھارت کے لیے اسپنر کی اہمیتمعین علی نے زور دیا کہ بھارت کی جانب سے کلدیپ یادو کھیلیں کیونکہ وہ پاکستان کے لیے سب سے بڑا بولنگ خطرہ ہیں۔
میچ کی پیش گوئیمعین علی نے کہا کہ عام طور پر بھارت کا پلڑا بھاری رہتا ہے لیکن اس بار پاکستان کے جیتنے کے اچھے امکانات ہیں۔
سیمی فائنل کی 4 ٹیمیں کونسی ہونگی؟معین علی نے سیمی فائنل کے لیے 4 ٹیمیں منتخب کیں جن میں بھارت، جنوبی افریقہ، انگلینڈ اور پاکستان شامل ہیں اور امکان ظاہر کیا کہ فائنل بھارت اور پاکستان کے درمیان ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: آئی سی سی ٹی20 ورلڈکپ: اگر پاک بھارت میچ بارش کے باعث منسوخ ہوگیا تو کیا ہوگا؟
انہوں نے کہا کہ عام طور پر بھارت ہمیشہ جیت سکتا ہے لیکن میں پہلی بار کہہ رہا ہوں کہ پاکستان اس بار جیت سکتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انگلش کھلاڑی معین علی پاک بھارت میچ ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 کون جیتے گا معین علی کی پیشگوئیاں.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انگلش کھلاڑی معین علی پاک بھارت میچ معین علی کی پیشگوئیاں معین علی نے کہا کہ پاک بھارت میچ ٹی 20 ورلڈ کپ کہ پاکستان پاکستان کے انہوں نے بھارت کے ہے لیکن سکتا ہے کہ پاک کے لیے
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :