پاک بھارت میچ ، ہینڈشیک کیلئے 24گھنٹے کا انتظار کریں: بھارتی کپتان سوریا کمار یادیو
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
پاک بھارت میچ ، ہینڈشیک کیلئے 24گھنٹے کا انتظار کریں: بھارتی کپتان سوریا کمار یادیو WhatsAppFacebookTwitter 0 14 February, 2026 سب نیوز
نیودہلی(سب نیوز ) بھارتی کپتان سوریا کمار یادیو نے پاک بھارت میچ کے حوالے سے کہا کہ ہینڈشیک کیلئے 24 گھنٹے کا انتظار کریں۔نئی دہلی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سوریا کمار یادیو کا کہنا تھا کہ پاک بھارت میچ کی تیاری شیڈول کے مطابق کر رہے تھے۔انہوں نے کہا کہ پاک بھارت میچ صرف گیم ہے، ایسا نہیں کہ ہم کم کھیلتے ہیں، میچ میں بہترین کارکردگی دکھانے کی کوشش کریں گے۔بھارتی کپتان کا مزید کا کہنا تھا کہ اچھی کرکٹ کھیلنے کیلئے آئے ہیں، اچھی کرکٹ کھیلیں گے، ہینڈشیک کیلئے 24 گھنٹے کا انتظار کر لیں، کل دیکھیں کیا ہوتا ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرعمران خان کی بیٹوں قاسم اور سلیمان سے ٹیلی فون پر بات کرادی گئی عمران خان کی بیٹوں قاسم اور سلیمان سے ٹیلی فون پر بات کرادی گئی غزہ امن بورڈ اجلاس سے قبل حماس نے اہم شرائط رکھ دیں ایس آئی ایف سی کی فعال سہولت کاری ،لائیو اسٹاک میں سنگِ میل جماعت اسلامی بنگلادیش کا قومی انتخابات کے نتائج قبول کرنے کا اعلان مہنگائی کےستائے عوام کےلیے بری خبر؛ 16 فروری سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑے اضافے کا امکان عمران خان کی توشہ خانہ ٹو کیس میں سزا معطل اور ضمانت پر رہائی کی درخواست دائرCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: سوریا کمار یادیو ہینڈشیک کیلئے پاک بھارت میچ بھارتی کپتان کا انتظار
پڑھیں:
بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔
قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔ ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔
پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔
قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔