سب چاہتے تھے ہم شادی کریں تو کرلی شادی، ہانیہ عامر نے سب کو چونکا دیا
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
نامور پاکستانی اداکارہ ہانیہ عامر نے شادی کا اعلان کرکے سب کو چونکادیا۔
فوٹو اینڈ ویڈیو شیئرنگ ایپ انسٹاگرام پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہورہی ہے جس میں ادکارہ ہانیہ عامر اپنی شادی سے متعلق بتارہی ہیں۔
وائرل ویڈیو میں ہانیہ عامر کو کہتے ہوئے سنا جاسکتا ہے کہ ’سب چاہتے تھے ہم شادی کرلیں تو ہم نے نقلی شادی کرلی‘۔
View this post on Instagramپچھلے چند ہفتوں سے اداکارہ ہانیہ عامر اور گلوکار عاصم اظہر کی شادی کے حوالے سے سوشل میڈیا پر قیاس آرائیاں جاری ہیں اور یہ کہا جارہا ہے کہ دونوں رمضان المبارک میں شادی کرنے والے ہیں۔
اس حوالے سے جب ایک صارف نے سوشل میڈیا پر ہانیہ عامر سے پوچھا کہ ان کا نکاح سحری کے بعد ہوگا یا افطار کے بعد، جس پر ہانیہ عامر نے واضح طور پر جواب دیا کہ ’دوپہر جمعہ‘۔
View this post on Instagramیاد رہے کہ گلوکار عاصم اظہر کی منگنی میرب علی کے ساتھ ختم ہونے کے بعد سے ہانیہ عامر اور عاصم اظہر کے دوبارہ ایک ہونے کی افواہیں سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہیں۔
اگرچہ دونوں شخصیات نے ان خبروں کی باضابطہ تصدیق یا تردید نہیں کی، تاہم عاصم اظہر کے کنسرٹس میں ہانیہ کی موجودگی اور انسٹاگرام پر ان کے گانے استعمال کرنا اور ان کے گھریلو تقریبات میں شامل ہونے سے ان قیاس آرائیوں کو مزید تقویت مل رہی ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں ہانیہ عامر اور عاصم اظہر کو چھپ کر ایک ساتھ ڈانس کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے، سوشل میڈیا پر وائرل ہانیہ اور عاصم کے ڈانس کی ویڈیو نے افواہوں کو ہوا دے دی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ہانیہ عامر سوشل میڈیا
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔