Express News:
2026-07-24@00:46:43 GMT

ہم نے کہنا نہیں خدا حافظ

اشاعت کی تاریخ: 15th, February 2026 GMT

میرے سامنے وہ پیارا سا چہرہ تھاجسے اس کے بعد میں نے کبھی نہیں دیکھنا تھا، اس چہرے نے چند گھنٹوں کے بعد تہ خاک جا کر خاک کا حصہ بن جانا تھا اور ہمارے پاس اس کی یادیں ہی باقی رہ جانا تھیں۔

اپنے کسی پیارے کے جانے کا دکھ آپ کے پورے جسم کو ناطاقتی دے دیتا ہے، کمزوری محسوس ہوتی ہے اور آپ حد سے زیادہ حساس ہو جاتے ہیں۔ میں اس وقت بیٹھے اپنے ارد گرد سے بے نیاز تو تھی مگر جانے کیوں ہمہ تن گوش تھی۔

’’ بڑی اچھی عورت تھی، اﷲ اس کے لیے آسانیاں کرے!‘‘ یکدم دروازے کی طرف سے شور اٹھا تھا، کوئی نیا گروپ آیا تھا جس میں عورتیں بین کرتی ہوئی گھرمیں داخل ہوئی تھیں۔

کچھ آگے بڑھ کر ان کے گلے لگیں تو کئیوں نے اپنی نشستوں سے اٹھ کرا نہیں بین کرنے سے منع کیا اور چند ایک نے ان سے گلے مل کر اس غوغے میں اضافہ کیا ۔

چند سیکنڈ تک تو یوں لگا کہ آنے والیاں ہی سب سے زیادہ غم میں مبتلا ہیں اور ان کے بین اور آہوں کے بیچ سب کے نئے پرانے دکھ تازہ ہو گئے تھے، ہلکی ہلکی سسکیوں سے سب رونے لگیں اور آنسوؤں کی تسبیح سمرنے لگیں۔

جونہی وہ میت کی قریبی رشتہ دار عورتوں کو مل کر اپنی اپنی نشستوں پر بیٹھیں تو وہ بالکل نارمل ہو چکی تھیں اور ان کے آنے سے قبل زیر بحث موضوعات پھر تازہ ہو گئے اور چند تازہ موضوعات پر بھی نئی نئی سرگوشیاں ہونے لگیں ۔

’’ زبیر کی بڑی بیٹی کو طلاق ہو گئی ہے، چاربچوں سمیت باپ کے گھر آ کر بیٹھ گئی ہے بے چاری!‘‘ میرے دائیں کان کی طرف سے کسی کی بلند سرگوشی کم از دس لوگوں کے کانوں کو چھو گئی تھی، ’’ لاالہ… ‘‘ ساتھ ہی ایک اور خاتون کی آواز آئی۔

’’ وہ تو تھی ہی ایسی، مجھے پہلے ہی اندازہ تھا‘‘۔ جواب دینے والی کی سرگوشی اور بھی بلند تھی، ’’ لاالہ الا اللہ‘‘ کئی عورتیں ان سرگوشیوں سے چونک گئیں ۔

(میں نے دل ہی دل میں استغفار کی) ہم جو ارد گرد بیٹھے تھے، نہ چاہتے ہوئے بھی کان انھی کی طرف لگے تھے۔ زبان پر کلمہء طیبہ کا ورد اور آنکھوں سے آنسوؤں کی جھڑی، دماغ میں یادوں کی چلتی ہوئی فلم۔

دو تین اور خواتین نے بھی سرگوشیوں میں ہی ان معلومات میں اضافہ کیا اور ان بلند سرگوشیوں کے ذریعے جنھوں نے نہیں بھی اس بارے میں سنا تھا، انھوںنے بھی سن لیا تھا۔ جانے ان باتیں کرنے والیوں کے اپنے گھروں میں کتنے مسائل ہوں گے مگر اس کی فکر تو کسی اور کو ہونا تھی جیسے انھیں دوسروں کی فکر تھی۔

’’ مبارک ہو، سنا ہے تمہارا بیٹا یونان چلا گیا ہے‘‘ ایک خاتون کی آواز آئی، اسے بھی مبارک باد دینے کے لیے شاید یہی وقت اور موقع ملا تھا۔ ’’ خیر مبارک! ‘‘ پہلے والی نے اس کے بیٹے کے جانے کی تفصیل پوچھی، ’’کون سا ایجنٹ تھا، کتنی رقم لی اس نے… بیٹے کو کتنے عرصے میں ملازمت مل جائے گی؟‘‘

جواب میں ایجنٹ کی تفصیلات کا تبادلہ ہوا ا، کس ملک میں گیا، کتنی رقم خرچ ہوئی ، ان سب سوالات کے جوابات دیے گئے اور اس دوران ان دونوں کے ہاتھوں سے شمارے گرتے رہے تھے۔

کسی کے پکارنے کی آواز سے میں چونکی تھی، مجھے باہر سے بلایا گیا تھا ۔ میں معذرت کر کے اپنی نشست سے اٹھی اور باہر گئی تو مجھے بتایا گیا کہ اگلے نصف گھنٹے میں، جونہی اذان ہو گی تو جنازہ اٹھانے والے اندر آ جائیں گے اور جب جنازہ اٹھا لیا جائے تو ہمیں اس وقت عورتوں کو اٹھ کرجانے سے روکنا ہو گا تا کہ سب عورتیں کھانا کھا کر جائیں۔

( یعنی جس وقت گھر میں میت رکھی ہوتی ہے، اس وقت سارا اہتمام اس بات کا ہوتا ہے کہ کھانا میت اٹھانے سے پہلے پہلے تیار ہو جائے کہ کہیں ایسا نہ ہو کھانا لیٹ ہوجائے اور لوگ بھوکے پیٹ ہی اٹھ کر چلے جائیں۔)

دیہات میں اس بات کو بڑی بے عزتی سمجھا جاتا ہے کہ شادی ہی نہیں، مرگ کے گھر سے بھی کوئی کھانا کھائے بغیر چلا جائے۔

’’جو عورتیں چل کر باہر صحن میں نہیں جا سکتیں، ان کے لیے اندر کمرے میں ہی کھانا بھجوا دیا جائے گا۔ ‘‘ میں نے تمام ہدایات سنیں اور واپس آئی تو میری نشست پر کوئی اور خاتون بیٹھی ہوئی تھیں۔ میں ایک ستون کے ساتھ ٹیک لگا کر کھڑی تھی اور اپنے اد گرد ہونے والی سرگوشیاں سننے لگی۔

آپس میں بچوں کے رشتے طے ہورہے تھے، دوسری عورتوں کے زیورات اورملبوسات پر تبصرے ہو رہے تھے۔ لوگوں کے نوجوان بچوں کے حدوداربعہ چیک کیے جا رہے تھے ۔

اپنی شان و شوکت اور دولت کی نمائش کی جا رہی تھی، لوگوں پر منفی تبصرے کیے جا رہے تھے ، حسدکے باعث لوگوں کی اچھائیوں پر بھی تنقید کی جا رہی تھی، جانے کسی کو یاد بھی تھا کہ نہیں کہ ہم کس موقع پر اور کیوں جمع تھے۔

اس روز باہر لان اور برآمدوں میں بچے بھاگ دوڑ رہے تھے، ان کی مائیں ان کے پیچھے پیچھے ان کے لیے ہلکان ہو رہی تھیں۔ اندر کلمہء طیبہ کے ورد کی بجائے نفرتیں، بغض اورکدورتیں گفتگو سے ابل ابل کر باہر نکل رہی تھیں، کسی کو خوف خدا تھا نہ سن لیے جانے کا خیال۔

خوف خدا اور خیال خلق کے لیے سامنے چارپائی پر سفر آخرت کے لیے تیار میت سے زیادہ کون سا جواز ہو سکتا تھا لیکن لگتا تھا کہ لوگوں کو اس بات پر یقین ہوتا ہے۔

… وے بلہیا اسیں مرنا ناہیں، گور پیا کوئی ہور!!

صرف وہ ایک وجود تھا جو اس وقت مکفن اور سکون میں تھا، اس وجود میںکوئی منفی جذبہ تھا نہ سوچ، وہ اپنے حصے کی فکریں گزار کراس وقت صامت، اس کے ارد گرد ہم جیتے جاگتے لوگ، اپنی اپنی نفرتوں کو زبان دیتے ہوئے سانس لے رہے تھے۔

جنازہ اٹھا لیا گیا تو کھانا سرو ہو گیا تھا، یہی رواج اور رسم ہے۔ ہم سب اہل خاندان اپنے اپنے غم کو سینے میں گھونٹے ، اس فکر میں مبتلا کہ کوئی بھوکا نہ چلاجائے۔

کھانے کے دوران بھی دل کو جلا دینے والی باتیں سننے کو ملتی ہیں کہ گوشت نہیں گلا، تیل زیادہ ہے، نمک کم ہے، روٹیاں جلی ہوئی ہیں، پانی بوتلوں والا نہیں ہے… لوگوں کو خوش کرنا بھی مشکل اور ان سے بے نیاز ہوجانا بھی ناممکن۔ صرف وہ ان باتوں اور طعنوں تشنوں سے بے نیاز ہوتا ہے جس کی نماز جنازہ اس وقت ادا ہو رہی ہوتی ہے اور چند منٹوں میں اسے اس دنیا سے بالکل دور چلے جانا ہوتا ہے۔

ہم نے کہنا نہیں خدا حافظ، ہم نے ایک دم ہی بچھڑ جانا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: رہے تھے رہی تھی ہوتا ہے اور ان کے لیے

پڑھیں:

پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا

پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔

آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔

 پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔

پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔

 بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔

حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔

 پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔

اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔

اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔

پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔

اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔

عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔

پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • گھوٹکی: سابق ایم پی اے شہریار شر کے بیٹے کو بازیاب کروالیا: ایس ایس پی
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا