بنگلہ دیش کے انتخابات: جمہوریت مضبوط یا کمزور؟
اشاعت کی تاریخ: 15th, February 2026 GMT
بنگلہ دیش کے حالیہ عام انتخابات جنوبی ایشیا میں جمہوری سیاست کے معیار پر ایک بار پھر سنجیدہ سوالات لے کر سامنے آئے ہیں۔ بظاہر آئینی تقاضے پورے ہو گئے، نتائج آ گئے اور اقتدار کا تسلسل برقرار رہا۔
مگر جمہوریت کا امتحان صرف نتائج سے نہیں ہوتا، اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ انتخابات جمہوری عمل کو مضبوط کرنے میں کامیاب رہے یا محض ایک رسمی مرحلہ مکمل کیا گیا؟
جمہوریت محض ووٹ ڈالنے کا عمل نہیں بلکہ اعتماد، شمولیت، شفافیت، سیاسی مقابلے اور برداشت کا مجموعہ ہوتی ہے۔بنگلہ دیش کے انتخابات کا تجزیہ بھی اسی تناظر میں کرنا ضروری ہے۔
بنگلہ دیش کی حکومت کا مؤقف ہے کہ انتخابات آئین کے مطابق ہوئے اور عوام نے اپنا فیصلہ دے دیا، مگر جمہوریت کا معیار محض آئینی خانہ پْری سے طے نہیں کیا جا سکتا۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بنگلہ دیش نے گزشتہ برسوں میں معاشی میدان میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔ برآمدات، صنعتی ترقی اور غربت میں کمی جیسے اشاریے ایک مثبت تصویر پیش کرتے ہیں۔
مگر تاریخ یہ بتاتی ہے کہ معاشی ترقی اگر سیاسی شمولیت اور ادارہ جاتی توازن کے بغیر ہو تو وہ دیرپا ثابت نہیں ہوتی۔ جمہوریت کا حسن یہی ہے کہ وہ ترقی کو عوامی رضامندی اور شفافیت کے ساتھ جوڑتی ہے۔
جمہوریت میں اپوزیشن کا کردار ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ ایک مضبوط اور متحرک اپوزیشن نہ صرف حکومت کو جوابدہ رکھتی ہے بلکہ پورے نظام کو معتبر بناتی ہے۔
بنگلہ دیش میں اپوزیشن کا انتخابی عمل سے باہر رہنا کسی مجبوری کی وجہ سے کیوں نہ ہو، جمہوریت کے لیے نیک شگون نہیں۔ علاقائی اور عالمی سطح پر بھی ان انتخابات کو گہری نظر سے دیکھا جا رہا ہے۔
بعض ممالک نے نتائج کو استحکام کی علامت قرار دیا، بعض نے تشویش کا اظہار کیا، جب کہ کچھ نے محتاط خاموشی اختیار کی۔ یہ ردِعمل اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ آج جمہوریت محض داخلی معاملہ نہیں رہی بلکہ عالمی ساکھ اور سفارتی تعلقات سے بھی جْڑ چکی ہے۔
بنگلہ دیش کے یہ انتخابات ایک آئینہ ہیں۔ ہم بھی اکثر انتخابی نتائج کو جمہوریت کا نعم البدل سمجھ لیتے ہیں اور نتائج کے بعد سوال اٹھانے والوں کو مشکوک نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ حالانکہ جمہوریت میں سوال، اختلاف اور تنقید کمزوری نہیں بلکہ طاقت کی علامت ہوتے ہیں۔
بنگلہ دیش کے معاملے میں اصل سوال یہ نہیں کہ موجودہ حکومت کو کتنی عوامی حمایت حاصل ہے، بلکہ یہ ہے کہ کیا بنگلہ دیش کا سیاسی نظام اختلاف کو جذب کر سکے گا؟ کیا ادارے اتنے مضبوط ہیں کہ وہ شخصیات اور جماعتوں سے بالاتر ہو کر کام کر سکیں؟ اور کیا عوام کو یہ یقین ہے کہ ان کا ووٹ واقعی فیصلے پر اثر انداز ہوتا ہے؟
انتخابی نتائج کے بعد جیتنے والی جماعت اور اس کے قائد کے لیے اصل امتحان اب ہے۔ متوقع وزیرِاعظم کے سامنے سب سے بڑا چیلنج یہی ہوگا کہ وہ محض اقتدار کے تسلسل کی علامت نہ بنیں بلکہ سیاسی وسعت، ادارہ جاتی توازن اور مکالمے کے داعی کے طور پر سامنے آئیں۔
اسی تناظر میں محمد یونس جیسے قد آور اور عالمی سطح پر معتبر نام کا مستقبل بھی اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔ اگر نئی حکومت شمولیت اور مفاہمت کا راستہ اپناتی ہے تو ایسے افراد قومی مکالمے میں مثبت کردار ادا کر سکتے ہیں، بصورتِ دیگر سیاسی تنگ نظری نہ صرف اندرونی تقسیم بڑھائے گی بلکہ عالمی سطح پر بنگلہ دیش کی جمہوری ساکھ کو بھی نقصان پہنچائے گی۔
بھارت کے نقط نظر سے ان انتخابات کو زیادہ تر استحکام کے زاویے سے دیکھا جا رہا ہے۔
پاکستانی نقط نظر سے یہ انتخابات ایک تنبیہ بھی ہیں اور ایک سبق بھی۔ یہاں اس نتیجے کو ایسے انتخابی ماڈل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جہاں اقتدار مضبوط مگر سیاسی شمولیت محدود ہے۔
یہ احساس بھی پایا جاتا ہے کہ معاشی کارکردگی وقتی طور پر سیاسی سوالات کو دبا سکتی ہے، مگر انھیں ختم نہیں کر سکتی۔ پاکستان کے لیے بنگلہ دیش کا تجربہ یہی سبق دیتا ہے کہ جمہوریت صرف نتائج سے نہیں بلکہ عمل، شفافیت اور اختلافِ رائے کے احترام سے مضبوط ہوتی ہے۔
جمہوریت کوئی منزل نہیں بلکہ ایک مسلسل عمل ہے۔ ہر انتخاب اس عمل کو یا تو آگے بڑھاتا ہے یا پیچھے دھکیل دیتا ہے۔
بنگلہ دیش کے حالیہ انتخابات نے یہ سوال ضرور پیدا کر دیا ہے کہ وہاں جمہوریت واقعی مضبوط ہو رہی ہے یا صرف چل رہی ہے۔ اور یہی سوال، دراصل،پاکستان اور پورے جنوبی ایشیا کے لیے اہم ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بنگلہ دیش کے یہ انتخابات جمہوریت کا نہیں بلکہ کے لیے
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔