کو لمبو:ٹی20ورلڈکپ میں پاک بھارت ٹاکراآج ہو گا
اشاعت کی تاریخ: 15th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کو لمبو(مانیٹر نگ ڈ یسک )آئی سی سی مینز ٹی 20 ورلڈکپ 2026ء کا سب سے بڑا مقابلہ پاک بھارت ٹاکرا آج ہوگا، بارش کی وجہ سے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ ٹی 20 ورلڈکپ میں پاکستان اور بھارت کا گروپ اے کا اہم میچ آج کولمبو میں شیڈول ہے اور دونوں ٹیموں کی جانب سے بھرپور تیاری کی جارہی ہے لیکن کولمبو کے غیر متوقع موسم کی وجہ سے پاک بھارت ٹاکرا متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ سری لنکن محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ Bay of Bengal میں کم دباؤ کا نظام بن رہا ہے، جس کے باعث اتوار کی شام ہونے والے پاک بھارت میچ میں بارش کا قوی امکان ہے۔ بارش کے امکانات 50 سے 70 فیصد بتائے جا رہے ہیں۔پاک بھارت میچ مقامی وقت کے مطابق شام 7 بجے شروع ہونا ہے لیکن کچھ موسمی ماڈلز کے مطابق میچ کے آغاز سے پہلے شدید بارش ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں ٹاس میں تاخیر یا میچ کے اوورز کم ہونے کا بھی خدشہ ہے۔ اگر میچ بارش کی نذر ہو جاتا ہے تو پاکستان اور بھارت دونوں کو ایک، ایک پوائنٹ دیا جائے گا۔شائقین یہی دعا کررہے ہیں کہ یہ ہائی وولٹیج میچ بارش سے متاثر نہ ہو۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پاک بھارت
پڑھیں:
بجلی صارفین کے لیے ایک اور جھٹکا، فی یونٹ نرخ بڑھنے کا امکان
اسلام آباد: بجلی کی قیمت میں اضافہ ایک بار پھر زیر غور آ گیا ہے، کیونکہ اپریل 2026 کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست نیپرا میں جمع کرا دی گئی ہے۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں ہونے والی سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے دوران خطے میں جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے باعث توانائی کے شعبے کو متعدد چیلنجز کا سامنا رہا، جس کے اثرات بجلی کی پیداوار پر بھی مرتب ہوئے۔
سی پی پی اے کے مطابق اپریل میں درآمدی ایل این جی کی دستیابی نہ ہونے کے برابر تھی، تاہم مئی کے آغاز میں ایل این جی کے معاہدہ شدہ اور اسپاٹ کارگوز موصول ہونے کے بعد ایل این جی سے چلنے والے بجلی گھروں کو دوبارہ فعال کیا گیا، جس سے نظام میں بہتری آئی۔
حکام نے نیپرا کو آگاہ کیا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تقریباً تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ آئندہ دو ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر منصوبہ بندی مکمل کر لی گئی ہے تاکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
سی پی پی اے حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ بجلی کی قیمت میں اضافہ تجویز کیا گیا ہے، تاہم مئی، جون اور جولائی کی فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو بڑے اضافی بوجھ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ضروری انتظامات اور ایندھن کی دستیابی کو یقینی بنایا جا چکا ہے۔
اب نیپرا درخواست پر تمام فریقین کا مؤقف سننے کے بعد حتمی فیصلہ جاری کرے گا، جس کے بعد یہ طے ہوگا کہ صارفین کو بجلی کے بلوں میں کتنا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔