بنگلا دیش عام انتخابات: نتائج اور دھاندلی کے الزامات
اشاعت کی تاریخ: 15th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
بنگلا دیش کے 13 ویں پارلیمانی انتخابات ملکی تاریخ کا ایک اہم موڑ تھے۔ یہ 2024 کی اس ’’عوامی انقلاب‘‘ کے بعد، پہلے انتخابات تھے جس کے نتیجے میں شیخ حسینہ واجد کی حکومت کا خاتمہ ہوا تھا۔ ان انتخابات میں تقریباً 12 کروڑ 70 لاکھ ووٹرز نے حقِ رائے دہی استعمال کیا اور ٹرن آؤٹ 65 فی صد رہا۔ اگرچہ شیخ حسینہ کی عوامی لیگ کو انتخابات میں شرکت کی اجازت نہیں دی گئی تھی، لیکن سیاسی جوڑ توڑ اور خفیہ اتحادوں نے ان انتخابات کو انتہائی دلچسپ بنا دیا ہے۔ انتخابی نتائج کے مطابق بنگلا دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) نے تاریخی کامیابی حاصل کرتے ہوئے دو تہائی اکثریت کا ہدف عبور کر لیا ہے۔ غیر سرکاری نتائج بتاتے ہیں کہ بی این پی نے 197 اور مجموعی طور پر اس کے اتحادیوں نے 212 نشستیں حاصل کی ہیں، جس کے بعد طارق رحمن کا وزیراعظم بننا یقینی ہو گیا ہے۔ دوسری جانب جماعت اسلامی 61 نشستوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہی، جبکہ اس کی قیادت میں قائم اتحاد نے مجموعی طور پر 68 نشستیں حاصل کیں۔ تاہم، ان نتائج کے پیچھے ایک گہری سیاسی کشمکش کارفرما تھی۔ درحقیقت، جماعت اسلامی کا اصل مقابلہ صرف بی این پی اتحاد سے نہیں تھا، بلکہ یہ مقابلہ ماضی کی دونوں بڑی پارٹیوں، عوامی لیگ اور بی این پی کے غیر اعلانیہ اتحاد سے تھا۔ عوامی لیگ اور اس کے حامیوں نے جماعت اسلامی کا راستہ روکنے کے لیے کھل کر بی این پی کا ساتھ دیا۔ اس حکمت عملی کے تحت بھارتی لابی اور بنگلا دیش کی 13 فی صد ہندو اقلیت نے بی این پی کی کامیابی کو یقینی بنانے کے لیے اپنا پورا سیاسی وزن اس کے پلڑے میں ڈال دیا تھا۔
اس سیاسی گٹھ جوڑ کے علاوہ، جماعت اسلامی کو اقتدار تک پہنچنے سے روکنے میں بنگلا دیشی مدارس کے عنصر نے بھی کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ بنگلا دیش میں مدارس کا نیٹ ورک ایک بہت بڑی اور منظم سماجی قوت ہے جو عوامی رائے عامہ پر گہرا اثر رکھتا ہے۔ اس الیکشن میں مدارس کے ایک بڑے حصے نے اپنا زور جماعت اسلامی کے خلاف استعمال کیا۔ اس کے علاوہ مدارس کی نمائندگی کرنے والی مذہبی جماعتیں الگ حیثیت میں میدان میں اتریں جس سے مذہبی ووٹ تقسیم ہوا۔ مثلاً اسلامی اندولن بنگلا دیش نے 253 نشستوں پر امیدوار کھڑے کیے، لیکن اس کے صرف دو امیدوار کامیاب ہو سکے۔ اسی طرح فرائضی اندولن اور ذاکر پارٹی وغیرہ نے بھی سیکڑوں کی تعداد میں امیدوار کھڑے کیے؛ اگرچہ یہ جماعتیں کوئی نشست جیت نہ سکیں، لیکن ان کی وجہ سے پورے ملک میں مذہبی ووٹ تقسیم ہو گیا۔ دوسری جانب حفاظت ِ اسلام بنگلا دیش اور بنگلا دیش نظامِ اسلام پارٹی جیسی تنظیمیں بی این پی کی کھل کر حمایت کر رہی تھیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق بھارتی لابی نے بنگلا دیشی انتخابات پر اثر انداز ہونے کے لیے ’’دارالعلوم دیوبند‘‘، ’’جامعۃ الرضا بریلی شریف‘‘ اور مختلف درگاہوں کے اثر و رسوخ کو بھی استعمال کیا۔
ان تمام عوامل کے باوجود، تجزیہ کاروں کا دعویٰ ہے کہ بی این پی کو دو تہائی اکثریت دلوانے کے لیے دھاندلی کا منظم حربہ اختیار کیا گیا۔ الزامات کے مطابق، جن حلقوں میں مقابلہ سخت تھا اور ہار جیت کا تناسب بہت کم (کلوز مارجن) تھا، وہاں نتائج کو مبینہ طور پر تبدیل کر کے بی این پی کے حق میں کر دیا گیا۔ یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ اگر دھاندلی نہ ہوتی تو جماعت اسلامی اور اس کی اتحادی جماعتوں کی نشستیں زیادہ ہوتیں۔ سوشل میڈیا پر بیلٹ پیپرز کی جعل سازی اور پولنگ اسٹیشنوں پر قبضے کی ویڈیوز بھی گردش کرتی رہیں، جبکہ جماعت اسلامی نے خاص طور پر ووٹوں کی گنتی میں تضادات کی نشاندہی کی۔ گیارہ نشستیں ایسی ہیں جہاں جماعت اسلامی کی جیت کے ابتدائی اعلان کو بعد میں ہار میں تبدیل کر دیا گیا۔ 25 نشستوں پر ہار جیت کا فرق انتہائی معمولی تھا، جن کے نتائج کئی گھنٹے روکنے کے بعد بی این پی کی کامیابی کا اعلان کیا گیا۔
ان انتخابات کے ساتھ ہی ملک میں آئینی اصلاحات کے لیے ایک ریفرنڈم بھی منعقد ہوا، جس میں 72 فی صد ووٹرز نے اصلاحات کے حق میں فیصلہ دیا۔ تاہم، تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ بی این پی کو دو تہائی اکثریت دلانے کا بنیادی مقصد ہی یہ تھا کہ ’’جولائی چارٹر‘‘ کو آئین کا حصہ بنانے سے روکا جا سکے، یعنی بنگلا دیش میں ’’اسٹیٹس کو‘‘ برقرار رکھا جا سکے۔ یہی نقطہ مستقبل قریب میں بنگلا دیش کی سیاست کا محور بنے گا۔ مجموعی طور پر انتخابات کسی حد تک پرامن رہے، تاہم 14 مقامات پر تشدد کے واقعات ہوئے۔ ان انتخابات نے جہاں بی این پی کو اقتدار کے ایوانوں میں پہنچا دیا ہے، وہیں دھاندلی کے الزامات اور سیاسی و مذہبی صف بندی نے مستقبل کے سیاسی منظرنامے پر گہرے سوالات بھی چھوڑے ہیں۔ الیکشن میں کامیابی بی این پی کے لیے پھولوں کی سیج ثابت نہیں ہوگی۔ عوامی لیگ اور بھارتی لابی کی توقعات اور اپنے روایتی ’’اینٹی انڈیا‘‘ ووٹرز کی خواہشات کے درمیان توازن قائم کرنا ایک کٹھن امتحان ہوگا۔ اسی طرح سخت گیر مدرساتی ووٹرز اور سیکولر و ہندو فیکٹر کو ساتھ لے کر چلنا بھی آسان نہیں ہے۔ لیکن سب سے بڑا امتحان جولائی انقلاب برپا کرنے والی نسل ِ نو (جنریشن زی) سے کیے گئے انتخابی وعدوں کی تکمیل ہوگا۔ (مہتاب عزیز کی وال سے)
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی ان انتخابات بنگلا دیش عوامی لیگ بی این پی کے لیے
پڑھیں:
گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
صدر پی ٹی آئی سندھ نے کہا کہ عوامی مینڈیٹ کو متنازع بنانے اور اس پر اثر انداز ہونے کی کوششوں نے جمہوری عمل کو نقصان پہنچایا، آج بھی عوام عمران خان کے بیانیے اور قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں اور پاکستان تحریک انصاف ملک کی مقبول ترین سیاسی جماعت ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان تحریک انصاف سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کے آئندہ انتخابات کو متنازع بنانے کی کسی بھی کوشش سے گریز کیا جائے اور انتخابی عمل کو مکمل طور پر شفاف، غیر جانبدار اور منصفانہ بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کو اپنا ووٹ آزادانہ طور پر استعمال کرنے کا مکمل حق حاصل ہے اور کسی قسم کی مداخلت یا دباؤ جمہوری اقدار کے منافی ہوگا۔ حلیم عادل شیخ نے کہا کہ ملک میں سیاسی استحکام کا راستہ صرف آزاد، شفاف اور غیر جانبدار انتخابات سے ہو کر گزرتا ہے، عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالنے کی روایت نے ماضی میں پاکستان کو سیاسی اور معاشی بحرانوں سے دوچار کیا، اس لیے ضروری ہے کہ عوام کے فیصلے کا مکمل احترام کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ 8 فروری 2024ء کے عام انتخابات میں عوام نے اپنا واضح فیصلہ دیا تھا، تاہم عوامی مینڈیٹ کو متنازع بنانے اور اس پر اثر انداز ہونے کی کوششوں نے جمہوری عمل کو نقصان پہنچایا، آج بھی عوام عمران خان کے بیانیے اور قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں اور پاکستان تحریک انصاف ملک کی مقبول ترین سیاسی جماعت ہے۔
حلیم عادل شیخ نے مطالبہ کیا کہ پاکستان تحریک انصاف کو گلگت بلتستان میں انتخابی مہم چلانے کے مساوی اور آئینی حقوق فراہم کیے جائیں تاکہ تمام سیاسی جماعتوں کو یکساں مواقع میسر آ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی عمل کو ہر قسم کے دباؤ، جانبداری اور غیر ضروری مداخلت سے پاک رکھا جائے تاکہ عوام اپنی مرضی کے نمائندوں کا انتخاب کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام باشعور ہیں اور وہ اپنے ووٹ کی طاقت سے حقیقی نمائندوں کا انتخاب کریں گے، عوام کا فیصلہ ہی جمہوریت اور پاکستان کے روشن مستقبل کی بنیاد ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ پاکستان تحریک انصاف گلگت بلتستان کے انتخابات میں عوامی حمایت کے ساتھ بھرپور کامیابی حاصل کرے گی۔ حلیم عادل شیخ نے مزید کہا کہ سیاسی استحکام کے بغیر معاشی ترقی، سرمایہ کاری اور عوامی خوشحالی ممکن نہیں، لہذا تمام متعلقہ حکام اس امر کو یقینی بنائیں کہ انتخابات مکمل طور پر شفاف اور منصفانہ ہوں اور عوام کے مینڈیٹ کا ہر صورت احترام کیا جائے۔