Jasarat News:
2026-07-24@00:53:08 GMT

بنگلا دیش عام انتخابات: نتائج اور دھاندلی کے الزامات

اشاعت کی تاریخ: 15th, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

بنگلا دیش کے 13 ویں پارلیمانی انتخابات ملکی تاریخ کا ایک اہم موڑ تھے۔ یہ 2024 کی اس ’’عوامی انقلاب‘‘ کے بعد، پہلے انتخابات تھے جس کے نتیجے میں شیخ حسینہ واجد کی حکومت کا خاتمہ ہوا تھا۔ ان انتخابات میں تقریباً 12 کروڑ 70 لاکھ ووٹرز نے حقِ رائے دہی استعمال کیا اور ٹرن آؤٹ 65 فی صد رہا۔ اگرچہ شیخ حسینہ کی عوامی لیگ کو انتخابات میں شرکت کی اجازت نہیں دی گئی تھی، لیکن سیاسی جوڑ توڑ اور خفیہ اتحادوں نے ان انتخابات کو انتہائی دلچسپ بنا دیا ہے۔ انتخابی نتائج کے مطابق بنگلا دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) نے تاریخی کامیابی حاصل کرتے ہوئے دو تہائی اکثریت کا ہدف عبور کر لیا ہے۔ غیر سرکاری نتائج بتاتے ہیں کہ بی این پی نے 197 اور مجموعی طور پر اس کے اتحادیوں نے 212 نشستیں حاصل کی ہیں، جس کے بعد طارق رحمن کا وزیراعظم بننا یقینی ہو گیا ہے۔ دوسری جانب جماعت اسلامی 61 نشستوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہی، جبکہ اس کی قیادت میں قائم اتحاد نے مجموعی طور پر 68 نشستیں حاصل کیں۔ تاہم، ان نتائج کے پیچھے ایک گہری سیاسی کشمکش کارفرما تھی۔ درحقیقت، جماعت اسلامی کا اصل مقابلہ صرف بی این پی اتحاد سے نہیں تھا، بلکہ یہ مقابلہ ماضی کی دونوں بڑی پارٹیوں، عوامی لیگ اور بی این پی کے غیر اعلانیہ اتحاد سے تھا۔ عوامی لیگ اور اس کے حامیوں نے جماعت اسلامی کا راستہ روکنے کے لیے کھل کر بی این پی کا ساتھ دیا۔ اس حکمت عملی کے تحت بھارتی لابی اور بنگلا دیش کی 13 فی صد ہندو اقلیت نے بی این پی کی کامیابی کو یقینی بنانے کے لیے اپنا پورا سیاسی وزن اس کے پلڑے میں ڈال دیا تھا۔

اس سیاسی گٹھ جوڑ کے علاوہ، جماعت اسلامی کو اقتدار تک پہنچنے سے روکنے میں بنگلا دیشی مدارس کے عنصر نے بھی کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ بنگلا دیش میں مدارس کا نیٹ ورک ایک بہت بڑی اور منظم سماجی قوت ہے جو عوامی رائے عامہ پر گہرا اثر رکھتا ہے۔ اس الیکشن میں مدارس کے ایک بڑے حصے نے اپنا زور جماعت اسلامی کے خلاف استعمال کیا۔ اس کے علاوہ مدارس کی نمائندگی کرنے والی مذہبی جماعتیں الگ حیثیت میں میدان میں اتریں جس سے مذہبی ووٹ تقسیم ہوا۔ مثلاً اسلامی اندولن بنگلا دیش نے 253 نشستوں پر امیدوار کھڑے کیے، لیکن اس کے صرف دو امیدوار کامیاب ہو سکے۔ اسی طرح فرائضی اندولن اور ذاکر پارٹی وغیرہ نے بھی سیکڑوں کی تعداد میں امیدوار کھڑے کیے؛ اگرچہ یہ جماعتیں کوئی نشست جیت نہ سکیں، لیکن ان کی وجہ سے پورے ملک میں مذہبی ووٹ تقسیم ہو گیا۔ دوسری جانب حفاظت ِ اسلام بنگلا دیش اور بنگلا دیش نظامِ اسلام پارٹی جیسی تنظیمیں بی این پی کی کھل کر حمایت کر رہی تھیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق بھارتی لابی نے بنگلا دیشی انتخابات پر اثر انداز ہونے کے لیے ’’دارالعلوم دیوبند‘‘، ’’جامعۃ الرضا بریلی شریف‘‘ اور مختلف درگاہوں کے اثر و رسوخ کو بھی استعمال کیا۔

ان تمام عوامل کے باوجود، تجزیہ کاروں کا دعویٰ ہے کہ بی این پی کو دو تہائی اکثریت دلوانے کے لیے دھاندلی کا منظم حربہ اختیار کیا گیا۔ الزامات کے مطابق، جن حلقوں میں مقابلہ سخت تھا اور ہار جیت کا تناسب بہت کم (کلوز مارجن) تھا، وہاں نتائج کو مبینہ طور پر تبدیل کر کے بی این پی کے حق میں کر دیا گیا۔ یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ اگر دھاندلی نہ ہوتی تو جماعت اسلامی اور اس کی اتحادی جماعتوں کی نشستیں زیادہ ہوتیں۔ سوشل میڈیا پر بیلٹ پیپرز کی جعل سازی اور پولنگ اسٹیشنوں پر قبضے کی ویڈیوز بھی گردش کرتی رہیں، جبکہ جماعت اسلامی نے خاص طور پر ووٹوں کی گنتی میں تضادات کی نشاندہی کی۔ گیارہ نشستیں ایسی ہیں جہاں جماعت اسلامی کی جیت کے ابتدائی اعلان کو بعد میں ہار میں تبدیل کر دیا گیا۔ 25 نشستوں پر ہار جیت کا فرق انتہائی معمولی تھا، جن کے نتائج کئی گھنٹے روکنے کے بعد بی این پی کی کامیابی کا اعلان کیا گیا۔

ان انتخابات کے ساتھ ہی ملک میں آئینی اصلاحات کے لیے ایک ریفرنڈم بھی منعقد ہوا، جس میں 72 فی صد ووٹرز نے اصلاحات کے حق میں فیصلہ دیا۔ تاہم، تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ بی این پی کو دو تہائی اکثریت دلانے کا بنیادی مقصد ہی یہ تھا کہ ’’جولائی چارٹر‘‘ کو آئین کا حصہ بنانے سے روکا جا سکے، یعنی بنگلا دیش میں ’’اسٹیٹس کو‘‘ برقرار رکھا جا سکے۔ یہی نقطہ مستقبل قریب میں بنگلا دیش کی سیاست کا محور بنے گا۔ مجموعی طور پر انتخابات کسی حد تک پرامن رہے، تاہم 14 مقامات پر تشدد کے واقعات ہوئے۔ ان انتخابات نے جہاں بی این پی کو اقتدار کے ایوانوں میں پہنچا دیا ہے، وہیں دھاندلی کے الزامات اور سیاسی و مذہبی صف بندی نے مستقبل کے سیاسی منظرنامے پر گہرے سوالات بھی چھوڑے ہیں۔ الیکشن میں کامیابی بی این پی کے لیے پھولوں کی سیج ثابت نہیں ہوگی۔ عوامی لیگ اور بھارتی لابی کی توقعات اور اپنے روایتی ’’اینٹی انڈیا‘‘ ووٹرز کی خواہشات کے درمیان توازن قائم کرنا ایک کٹھن امتحان ہوگا۔ اسی طرح سخت گیر مدرساتی ووٹرز اور سیکولر و ہندو فیکٹر کو ساتھ لے کر چلنا بھی آسان نہیں ہے۔ لیکن سب سے بڑا امتحان جولائی انقلاب برپا کرنے والی نسل ِ نو (جنریشن زی) سے کیے گئے انتخابی وعدوں کی تکمیل ہوگا۔ (مہتاب عزیز کی وال سے)

سیف اللہ مہتاب عزیز.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: جماعت اسلامی ان انتخابات بنگلا دیش عوامی لیگ بی این پی کے لیے

پڑھیں:

ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی

امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔

رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔

خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔

اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔

ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔

یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی