data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر)سرپرست اعلیٰ یونائیٹڈ بزنس گروپ (یو بی جی)حیدرآباد ایس ایم تنویر نے کہا کہ فیڈریشن آف پاکستان چیمبر آف کامرس نے بزنس کمیونٹی کے اہم مسائل کے حل میں مؤثر اور عملی کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیز (CESS) انفرااسٹرکچر ٹیکس کو 1.
85 فیصد سے کم کر کے 0.85 فیصد کرنے کی قانون سازی ایک بڑی کامیابی ہے، جس کا فائدہ انشااللہ بہت جلد تاجروں کو حاصل ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کے پاس اپنی معیشت کو گروی رکھنے سے بچانے کے لیے تاجر برادری اور حکومت کو مل کر اقدامات اٹھانے پڑیں گے ورنہ آنے والے سال بھی پاکستان کی معیشت آئی ایم کی پالیسوں کی مرہون منت ہی رہے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے حیدرآباد چیمبر آف اسمال ٹریڈرز اینڈ اسمال انڈسٹری کے صدر محمد سلیم میمن کی دعوت پر حیدرآباد کے تاجروں اور صنعتکاروں سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ فیڈریشن آف پاکستان چیمبر آف کامرس میں ایک سی ای او لے کر آرہے ہیں جس کے ماتحت ایک پروفیشنل ٹیم کام کرے گی جو حکومتی اداروں کی خامیوں کی نشاندہی اور اصلاحات پر ریسرچ کر کے فیڈریشن کو اپنی رپورٹ دے گی جس کی بنیاد پر حکومت سے ریفارمز پر بات کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ بزنس کمیونٹی نے آئی پی پیز پرآواز اٹھانا شروع کی تو حکومت نے معاہدوں تک نظر ثانی کی اور 3600 ارب روپوں کی بچت ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ فیڈریشن نے حکومت پر زور دے کر انڈسٹریز کے لیے بجلی کی قیمت 4 روپے 40 پیسے کم کروائی ہے لیکن اب بھی یہ ناکافی ہے ہمیں انڈسٹری کے لیے یونٹ 26 روپے کا چاہیے تاکہ ہماری پروڈکشن کاسٹ بین الاقوامی پروڈکٹس کا مقابلہ کر سکے اسی طرح انٹرسٹ ریٹ کو سنگل ڈیجٹ میں لانا فیڈریشن کی اولین ترجیحات میں شامل ہے کیونکہ ساری دنیا میں 6.5 پر انٹرسٹ ریٹ پر انڈسٹریز کو نئی انڈسٹریز لگانے کے لیے قرضہ دیا جارہا ہے۔ اس سے قبل حیدرآباد چیمبر آف اسمال ٹریڈرز اینڈ اسمال انڈسٹری محمد سلیم میمن نے فیڈریشن آف پاکستان چیمبر آف کامرس کی جانب سے بزنس اینڈ ہیومن رائٹس ڈیسک کے قیام، ٹورازم و بین الاقوامی ڈائیلاگ فورمز کے انعقاد اور تجارتی مواقع بڑھانے کی کاوشوں کو سراہااور کہا کہ فیڈریشن آف پاکستان چیمبر آف کامرس نے آئی پی پیز کے مہنگے معاہدوں کی نظرثانی اور خاتمے کے لیے فعال آواز اٹھا کر اربوں روپے کی ممکنہ بچت کی راہ ہموار کی، انہوں نے اس امر پر شدید تحفظات کا اظہار کیا کہ ماضی میں اس ٹیکس کی مد میں وصول کی گئی رقوم انفراسٹرکچر کی بہتری پر مؤثر انداز میں خرچ نہیں کی گئیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اگر یہ فنڈز شفاف طریقے سے سڑکوں، صنعتی زونز اور بنیادی سہولیات کی بہتری پر خرچ کیے جائیں تو نہ صرف کاروباری سرگرمیاں بڑھیں گی بلکہ حکومتی ریونیو میں بھی نمایاں اضافہ ممکن ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ایف پی سی سی آئی کو حکومتی اداروں خاص طور پر ڈی جی ٹی او کو تمام ٹریڈ باڈیز سے متعلق کاموں میں تیزی لانے پر ضرور کام کرنا چاہیے اور فیڈریشن اور ڈی جی ٹی او کے درمیان ایک لائزن کمیٹی ہونی چاہیے جو تمام ٹریڈ باڈیز کو لائسنس سمیت تمام مسائل کو حل کرنے میں کلیدی کردار ادا کرے۔

اسٹاف رپورٹر

سیف اللہ
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ:
فیڈریشن ا ف پاکستان چیمبر ا ف کامرس
انہوں نے کہا کہ
کے لیے
پڑھیں:
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔
صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔
حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔
ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔
پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔
حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟
مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔