لاہور+فورٹ عباس (خبر نگار+نامہ نگار) معزز چیف جسٹس آف پاکستان  جسٹس یحییٰ آفریدی نے بحیثیت چیئرمین لاء اینڈ جسٹس کمشن  جوڈیشل کمپلیکس فورٹ عباس جو  پنجاب کی آخری عدالتی چوکی ہے اور جغرافیائی طور پر دور افتادہ اور وسائل کی کمی کا شکار علاقہ کا فیلڈ دورہ کیا۔ اس موقع پر چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ  جسٹس عالیہ نیلم بھی ہمراہ تھیں۔ اس سے قبل گوادر، صادق آباد، گھوٹکی، بونی اور نگر پارکر کے دورے کئے جو تمام صوبوں پر محیط ہیں۔ انصاف کی فراہمی میں نظامی خلا کو پْر کرنے اور اس امر کو یقینی بنانے کے لیے ادارہ جاتی ذمہ داری کے پختہ عزم کو اجاگر کرتے ہیں کہ انصاف کی ترسیل پاکستان کے انتہائی دور افتادہ علاقوں تک بھی بامعنی طور پر پہنچے۔ جوڈیشل کمپلیکس فورٹ عباس میں چیف جسٹس  پاکستان  نے عدالتوں کے نظم و نسق، بنیادی ڈھانچے کی موزونیت اور سائلین کی سہولت کاری کے طریقہ کار کا جامع جائزہ لیا۔ انہوں نے کہا کہ آئینی ضمانتوں کی مؤثریت جغرافیے سے مشروط نہیں ہونی چاہیے اور یہ کہ انتہائی دور دراز عدالتی مراکز کو بھی ادارہ جاتی وقار، عملی موثریت اور عوامی جواب دہی کا مظہر ہونا چاہیے۔ دورے کے دوران اس امر کا اعادہ کیا گیا کہ ایل جے سی پی کے موجودہ ترقیاتی فریم ورک کے تحت نشان زد چار ترجیحی اصلاحاتی منصوبے عدالتوں کی سولرائزیشن (بلا تعطل بجلی کی فراہمی)، ای لائبریریوں کی فراہمی، خواتین مرکز سہولیات کا قیام، اور پینے کے صاف پانی کے پلانٹس کی تنصیب شامل ہیں جو اگست 2026ء کے اختتام تک مکمل کر لیے جائیں گے۔ چیف جسٹس  پاکستان اور چیف جسٹس ہائی کورٹ کی موجودگی میں، ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج، بہاولنگر نے نو قائم شدہ ای لائبریری اور سولرائزیشن سہولت کا افتتاح کیا۔ چیف جسٹس  پاکستان نے حکومتِ پنجاب کو جوڈیشل کمپلیکس فورٹ عباس میں سولرائزیشن منصوبہ مقررہ مدت میں مکمل کرنے پر سراہا۔ اس موقع پر، ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج، بہاولنگر نے خواتین بار روم کے سنگِ بنیاد اور بار کے لیے ای لائبریری کا افتتاح بھی کیا، چیف جسٹس  پاکستان نے موجودہ سائلین سے متعلق خدمات کو سراہا اور ہدایت دی کہ سپریم کورٹ کے عوامی سہولت مرکز کی طرز پر یہ خدمات عدالت کے داخلی دروازے پر ایک چھت تلے دستیاب ہونی چاہئیں،  بار کے ساتھ  بھی نشست  کی گئی، جس میں  بنچ اور بار کے تعمیری روابط کی اہمیت پر زور دیا گیا۔ ِ بار نے انتظامی امور سے متعلق مسائل اجاگر کیے اور طریقہ کار میں بہتری کے لیے تجاویز پیش کیں۔ چیف جسٹس پاکستان نے واضح کیا کہ باہمی احترام، پیشہ ورانہ تعاون اور مشترکہ ذمہ داری بنچ اور بار کے مابین عوامی اعتماد کے تسلسل کی بنیاد ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: فورٹ عباس چیف جسٹس بار کے

پڑھیں:

موسلادھار بارش سے اربن فلڈنگ، سڑکیں دریا بن گئیں، گھروں میں پانی داخل

لاہور میں رات گئے شروع ہونے والی موسلادھار بارش کے بعد اربن فلڈنگ کی صورتحال پیدا ہوگئی، جس کے باعث متعدد رہائشی علاقوں اور اہم شاہراہوں پر کئی کئی فٹ پانی جمع ہوگیا جبکہ نشیبی علاقوں میں گھروں میں پانی داخل ہونے، ٹریفک جام اور سیوریج نظام مفلوج ہونے سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔شہر میں رات گئے شروع ہونے والی بارش وقفے وقفے سے جاری ہے، جس کے باعث شہر کے مختلف علاقوں میں اربن فلڈنگ کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ کینٹ، ڈیفنس اور والٹن سمیت متعدد علاقوں میں سڑکیں تالاب کا منظر پیش کرنے لگیں جبکہ کئی مقامات پر گھروں میں بھی پانی داخل ہوگیا۔لاہور کینٹ میں موسلادھار بارش کے باعث سیوریج سسٹم جواب دے گیا، جس سے علی ویو گارڈنز، علی پارک، نادرا آباد اور دیگر علاقوں میں کئی کئی فٹ پانی جمع ہوگیا۔ مقامی افراد کے مطابق بیشتر علاقے ندی نالوں کا منظر پیش کر رہے ہیں۔دوسری جانب ڈیفنس فیز تھری کے اے، بی اور سی بلاکس میں بھی بارش کا پانی گھروں میں داخل ہوگیا جبکہ والٹن روڈ اور کیولری گراؤنڈ میں سڑکیں مکمل طور پر زیر آب آگئیں۔ کیولری گراؤنڈ کی مرکزی شاہراہ بھی پانی میں ڈوب گئی، جس کے باعث آمدورفت شدید متاثر رہی۔بارش کے بعد مین ڈیفنس روڈ پر بھی پانی جمع ہونے سے سڑک دریا کا منظر پیش کرنے لگی جبکہ ڈیفنس انڈر پاس بھی پانی سے بھر گیا۔ شہر کے مختلف حصوں میں پانی کھڑا ہونے کے باعث ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی، گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں اور شہریوں کو گھنٹوں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔مسلسل بارش کے باعث لاہور کی بیشتر شاہراہیں جل تھل ہوگئیں جبکہ روزمرہ زندگی بری طرح متاثر رہی۔ شہریوں نے متعلقہ اداروں سے نکاسی آب کے مؤثر انتظامات اور فوری ریلیف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔محکمہ موسمیات کے مطابق آج دن پر وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری رہے گا، مون سون کی بارشوں کے باعث لاہور میں حبس اور گرمی کی شدت میں کمی آگئی ہے۔لاہور میں کم سے کم درجہ حرارت 27 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ زیادہ سے زیادہ 29 ڈگری سینٹی گریڈ تک جانے کا امکان ہے۔لاہور میں سب سے زیادہ بارش ایئرپورٹ پر 262 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ مناواں میں 200، تاجپور میں 151، کاہنہ میں 142، شادی پورہ میں 129 اور مغل پورہ میں 127 اور اپر مال پر 111 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔جوہر ٹاؤن میں 80، چوک ناخدا میں 60، نشتر ٹاؤن میں 54، اقبال ٹاؤن میں 51، گلبرگ میں 49، ڈیفنس روڈ 45، سمن آباد میں 29، جیل روڈ اور پانی والا تالاب 26، لکشمی چوک اور فرخ آباد میں 24، سگیاں میں 21 اور گلشن راوی میں 17 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ایم ڈی واسا لاہور غفران احمد نکاسی آب آپریشن کی مسلسل مانیٹرنگ کر رہے ہیں۔علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں شدید بارش کا سلسلہ جاری ہے جس کے سبب اندرون اور بیرون ملک جانے اور آنے والی پروازیں متاثر ہوگئیں۔لاہور سے کراچی، دبئی، جدہ، ابو ظہبی، استنبول جانے اور آنے والی 6 پروازیں تاخیر کا شکار ہوئیں۔ شدید بارش سے پروازوں کی آمد و رفت میں تاخیر ہوئی۔ایئرپورٹ حکام نے مسافروں کو اپنی پروازوں کے بارے میں معلومات لیکر آنے کی ہدایت کی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
  • آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
  • آزادکشمیرکے ضلع میرپور میں انٹرنیٹ سروسز مرحلہ وار بحال ہونا شروع
  • بلاول بھٹو نے مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ پابندیاں جلد ختم ہونے کی امید ظاہر کر دی
  • لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر
  • مون سون کا طاقتورسپیل ، جھل تھل ایک ہوگیا،2 وکلاء کے چیمبر گرگئے
  • موسلادھار بارش سے اربن فلڈنگ، سڑکیں دریا بن گئیں، گھروں میں پانی داخل