ذرائع کے مطابق کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما میر واعظ عمر فاروق نے کنگن سے تعلق رکھنے والے خواجہ غلام احمد میر جو گریٹر کشمیر اور کشمیر عظمیٰ کے مدیرِ اعلیٰ فیاض احمد کلو کے والد نسبتی تھے، کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما میر واعظ عمر فاروق نے کنگن سے تعلق رکھنے والے خواجہ غلام احمد میر جو گریٹر کشمیر اور کشمیر عظمیٰ کے مدیرِ اعلیٰ فیاض احمد کلو کے والد نسبتی تھے، کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق میر واعظ نے مرحوم کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے فیاض احمد کلو اور دیگر سوگواران سے دلی تعزیت کا اظہار کیا اور دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ میر واعظ نے چندپورہ جامع مسجد سرینگر کے محمد سلطان شاہ اور میر کالونی، لال بازار، کے محمد رجب ڈار کے انتقال پر بھی افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے مرحومین کے لواحقین سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے ان کی مغفرت کے لئے دعا کی۔ دریں اثناء میر واعظ عمر فاروق نے کشمیری پنڈت برادری کو ہیرتھ کے تہوار پر دلی مبارکباد پیش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے مواقع ہمیں پرامن بقائے باہمی، باہمی احترام اور بھائی چارے کی ان مشترکہ اقدار کی یاد دلاتے ہیں جو صدیوں سے کشمیر کی مذہبی اور ثقافتی شناخت کا حصہ رہی ہیں۔ انجمن شرعی شیعیان کے صدر آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے بھی ہیرتھ کے موقع پر کشمیری پنڈت برادری کو دلی مبارکباد دی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کے انتقال پر کا اظہار کیا میر واعظ

پڑھیں:

مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی

مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔

اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔

دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔

سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • میرپور آزاد کشمیر ، مری ، کھاریاں سمیت ملک کے کئی علاقوں میں تیز ہواؤں کیساتھ بارش
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • گلگت بلتستان کو بھی آئینی وبنیادی حقوق ملنے چاہئیں ، سعد رفیق
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
  • پنجاب میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کیلئے افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم