راولپنڈی (نیوز ڈیسک)نوجوان نسل کی قومی تربیت اور دفاعی شعور کے فروغ کے لیے آئی ایس پی آر ونٹر انٹرن شپ پروگرام ملک بھر میں کامیابی سے جاری ہے، جس کے تحت گوادر اور کوئٹہ کے طلبہ کے لیے خصوصی مطالعاتی اور تربیتی دوروں کا اہتمام کیا گیا۔

آئی ایس پی آر انٹرن شپ پروگرام کے تحت گوادر کے طلبہ نے گوادر نیول بیس اور میرین ٹریننگ سینٹر کا دورہ کیا۔ اس دورے کا مقصد شرکاء کو زمینی حقائق، میری ٹائم سیکیورٹی کے چیلنجز اور پاک بحریہ کی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں سے آگاہ کرنا تھا۔ طلبہ کو نیول بیس کی سرگرمیوں، تربیتی نظام اور ساحلی دفاع سے متعلق عملی معلومات فراہم کی گئیں۔

اس موقع پر طلبہ نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ آئی ایس پی آر کی جانب سے براہ راست سیشنز اور نیول بیس کے مطالعاتی دوروں کا انعقاد نہایت مثبت اقدام ہے۔ ان کے مطابق ایسے پروگرام کتابی علم کو عملی تجربے سے جوڑنے اور دفاعی اداروں کی صلاحیتوں کو قریب سے سمجھنے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں، جس سے نوجوانوں میں حب الوطنی اور ذمہ داری کا شعور مزید مضبوط ہوتا ہے۔

دوسری جانب ونٹر انٹرن شپ پروگرام کے تحت کوئٹہ کی مختلف جامعات کے 150 طلبہ و طالبات کو شوٹنگ رینج اور پاکستان گیلری کا دورہ بھی کروایا گیا۔ اس دورے کے دوران طلبہ کو قومی تاریخ، دفاعی کامیابیوں اور افواجِ پاکستان کے کردار سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

طلبہ نے آئی ایس پی آر کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے آئی ایس پی آر اور پاک فوج کا شکریہ ادا کیا اور امید ظاہر کی کہ مستقبل میں بھی اس نوعیت کے معلوماتی اور تربیتی پروگراموں کا تسلسل جاری رکھا جائے گا تاکہ نوجوان نسل کو قومی اداروں کے قریب لایا جا سکے اور انہیں ملک کی سلامتی و ترقی میں مؤثر کردار ادا کرنے کے لیے تیار کیا جا سکے۔
https://mnews.

pk/wp-content/uploads/2026/02/انٹرنشپ.mp4

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: انٹرن شپ پروگرام آئی ایس پی آر

پڑھیں:

کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری

پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔

متعلقہ مضامین

  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار