ٹرمپ خامنہ ای سے ملاقات کیلیے تیار۔ میزائل پروگرام پر مذاکرات نہیں ہوسکتے‘ ایران
اشاعت کی تاریخ: 15th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
واشنگٹن /میونخ /تہران (مانیٹرنگ ڈیسک) ٹرمپ خامنہ ای سے ملاقات کے لیے تیار ہیں۔ ایران نے کہا ہے کہ میزائل پروگرام پر مذاکرات نہیں ہوسکتے۔تفصیلات کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے درمیان اہم پیش رفت سامنے آگئی جس کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ آیت اللہ علی خامنہ ای سے ملاقات کے لیے تیار ہوگئے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایک حالیہ انٹرویو کے دوران کہا کہ ایرانی فریق کے ساتھ معاہدہ انتہائی مشکل ہے‘ اگر ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای ملاقات کی خواہش ظاہر کرتے ہیں تو صدر ڈونلڈ ٹرمپ ان سے ملاقات کے لیے تیار ہیں۔ مارکو روبیو نے کہا کہ اگر کل آیت اللہ خامنہ ای یہ کہیں کہ وہ ٹرمپ سے ملنا چاہتے ہیں تو امریکی صدر ان سے ملاقات کریں گے، ایسا اس لیے نہیں ہوگا کہ ٹرمپ ایرانی سپریم لیڈر سے متفق ہیں بلکہ اس لیے کہ ان کا ماننا ہے کہ مسائل حل کرنے کا یہی طریقہ ہے‘ڈونلڈ ٹرمپ کسی سے ملاقات کرنے کو رعایت دینا نہیں سمجھتے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے ہفتے کو کہا کہ ہم ایران کے ساتھ ڈیل چاہتے ہیں، توقع ہے کہ تہران کے ساتھ مذاکرات کامیاب ہو جائیں گے لیکن اگر نہ ہوئے تو ایران کے لیے بہت برا ہوگا اور اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔امریکی صدر نے کہا کہ جیرالڈ فورڈ بحری بیڑہ مشرق وسطیٰ کی طرف روانہ کر دیا ہے، ڈیل نہ ہونے کی صورت میں بحری بیڑے کی ضرورت پڑ سکتی ہے، ہمارا ایک بحری بیڑہ پہلے ہی مشرق وسطیٰ میں موجود ہے، اگر ضرورت پڑی تو بیڑہ استعمال کر سکتے ہیں۔ ایران نے ایک بار پھر اپنے میزائل پروگرام کو ریڈ لائن قرار دیتے ہوئے اس پر کسی قسم کے مذاکرات کو ناقابل قبول قرار دیدیا۔عرب ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے ایرانی سپریم لیڈر کے آیت اللہ خامنہ ای کے سینئر مشیر علی شمخانی نے کہا کہ ایران کا میزائل پروگرام ریڈ لائن ہے اور اس پر کسی قسم کی بات چیت نہیں ہو سکتی‘ ایران کی فوج ہائی الرٹ ہے اور کسی بھی فوجی کارروائی کا فیصلہ کن اور مناسب جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ بیرونی طاقتوں کی جانب سے کسی بھی مس کیلکولیشن کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی‘ مذاکرات حقیقت پسندی پر مبنی ہوں اور غیر ضروری مطالبات سے گریز کیا جائے تو بات چیت آگے بڑھ سکتی ہے۔ 2 امریکی عہدیداروں نے برطانوی خبر رساں ایجنسی سے گفتگو میں بتایا کہ مسلسل مہم امریکی افواج اور مشرق وسطیٰ کے لیے زیادہ خطرے کا باعث ہوگی، اس مرتبہ حملے کی جاری منصوبہ بندی زیادہ پیچیدہ ہے، امریکا ایران کے جوہری انفرااسٹرکچر ہی نہیں، اسٹیٹ اور سیکورٹی تنصیبات کو بھی نشانہ بنائے گا، امریکا کو پوری توقع ہے کہ ایران جوابی کارروائی کرے گا۔ اس حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف اس طرح کی کارروائی میں امریکی افواج کے لیے خطرات کہیں زیادہ ہوں گے، ایران زبردست میزائلوںکا حامل ہے، ایران کے جوابی حملوں سے علاقائی تنازع کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے۔ ایک طرف ایران اورامریکا جنیوا میںمنگل کو مذاکرات کی تیاریاں کررہے ہیں، تو دوسری طرف امریکی فوج ایران کے خلاف ایک ایسی فوجی کارروائی کے لیے کمر بستہ ہو رہی ہے جو محض ایک دن کے بجائے کئی ہفتوں پر محیط ہو سکتی ہے۔ واشنگٹن کے حکام کا کہنا ہے کہ یہ تصادم ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق پینٹاگون مشرق وسطیٰ میں ایک اضافی طیارہ بردار بحری جہاز بھیجنے کی تیاری کر رہا ہے۔ یہ کمک ہزاروں اضافی فوجیوں، جدید ترین لڑاکا طیاروں، گائیڈڈ میزائل شکن بحری جہاز اور دفاع اور حملے کی بھرپور صلاحیت رکھنے والا جنگی ساز و سامان شامل ہو گی۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اگر صدر ڈونلڈ ٹرمپ حکم دیتے ہیں تو امریکی فوج صرف ایران کے جوہری ڈھانچے تک محدود نہیں رہے گی بلکہ حکومتی اور سیکورٹی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ اس بار خطرہ بہت بڑا ہے کیونکہ ایران کے پاس میزائلوں کا وسیع ذخیرہ موجود ہے، جو پورے خطے میں بد امنی اور وسیع تر جنگ کا سبب بن سکتا ہے۔وائٹ ہاؤس کی ترجمان آنا کیلی نے واضح کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سامنے “تمام آپشنز میز پر موجود ہیں”۔ شمالی کیرولائنا میں امریکی افواج سے خطاب کرتے ہوئے صدر نے متنبہ کیا “بعض اوقات (دشمن کو) خوف محسوس کروانا ضروری ہوتا ہے، کیونکہ یہی وہ واحد راستہ ہے جو مسئلے کو حقیقت میں حل کرے گا۔”دوسری جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دھمکی دی ہے کہ اگر ایرانی سرزمین پر حملہ ہوا تو وہ خطے میں موجود کسی بھی امریکی فوجی اڈے کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ سفارتی محاذ پر ایران نے اشارہ دیا ہے کہ وہ پابندیوں کے خاتمے کے بدلے جوہری پروگرام پر پابندیوں پر بات چیت کے لیے تیار ہے، لیکن تہران نے میزائل پروگرام پر کسی بھی سمجھوتے کو مسترد کر دیا ہے۔ علاوہ ازیں رضا پہلوی نے امریکا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں وقت ضائع کیے بغیر اس پر فوجی حملہ کرے۔ ایران کے معزول شاہ کے جلاوطن بیٹے رضا پہلوی نے روئٹرز کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ تہران میں امریکی فوجی مداخلت انسانی جانیں بچا سکتی ہے۔ انہوں نے ٹرمپ انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ جوہری معاہدے پر مذاکرات میں زیادہ وقت ضائع نہ کرے۔ دوسری جانب، گزشتہ ماہ روئٹرز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے اندر رضا پہلوی کی عوامی مقبولیت کی سطح کے حوالے سے شکوک و شبہات کا اظہار کیا تھا۔ٹرمپ انتظامیہ ایران کے ساتھ اس بات کا جائزہ لینے کے لیے مذاکرات کر رہی ہے آیا کوئی جوہری معاہدہ طے پا سکتا ہے جبکہ دوسری طرف امریکا خطے میں اپنی فوجی طاقت بڑھا رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: میزائل پروگرام صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے تیار امریکی صدر پروگرام پر میں امریکی سے ملاقات ا یت اللہ خامنہ ای کہ ایران کے مطابق ایران کے کسی بھی نہیں ہو کے ساتھ سکتی ہے سکتا ہے کہا کہ نے کہا
پڑھیں:
ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین تین بڑے شہروں ایران، قم اور مشہد میں نماز جنازہ کے بعد مشہد میں امام رضا کے مزار میں ہوگی، جس کے لیے حکام کی جانب سے تیاریاں شروع کی گئی ہیں۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران کے سماجی و ثقافتی امور کے نائب محمد امین توکلی زادہ نے بتایا کہ شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ کی تدفین کے لیے تیاریاں جاری ہیں اور صرف دارالحکومت تہران میں ڈیڑھ سےدو کروڑ (15 سے 20 ملین) لوگوں کے لیے تیاریاں جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم دنیا کے انتہائی استکبار مخالف رہنما، امریکا اور اسرائیل کے خلاف جنگ کے عظیم کمانڈر اور ایران کے عظیم قابل تقلید رہنما کے جنازے میں شریک ہو رہے ہیں۔
امین توکلی زادہ نے کہا کہ مختلف صوبوں کی جانب سے جنازے کی میزبانی کے لیے درخواستیں کی گئی ہیں اور تدفین ممکنہ طور پر ذوالحج کے اختتام اور محرم کے شروع میں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ تہران میں نماز جنازے کا پروگرام تقریباً 24 گھنٹوں تک جاری رہے گا، ہم شیعہ مسلمانوں کا ایک بہت بڑا اجتماع دیکھیں گے اور یہاں تک کہ تمام مسلمانوں کا ایک عظیم اجتماع ہوگا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازے میں ہمسایہ ممالک بشمول پاکستان، افغانستان، بھارت، بنگلہ دیش اور کشمیر سے بڑی تعداد میں سوگواروں کی شرکت کا امکان ہے۔
یاد رہے کہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملے میں شہید ہوگئے تھے جب ایران پر اچانک حملہ کیا گیا تھا اور بم باری کے نتیجے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے علاوہ ان کے خاندان کے چند انتہائی قریبی ارکان سمیت پاسداران انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز بھی شہید ہوگئے تھے۔
امریکا اور اسرائیل کے اس حملے میں مناب میں لڑکیوں کے ایک اسکول پربھی بم باری کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں اسکول کی بچیوں سمیت 165 افراد شہید ہوگئے تھے، جبکہ ایران نے جواب میں اسرائیل اور خطے کے ممالک میں قائم امریکی اڈوں پر حملے شروع کیے تھے۔
پاکستان کی ثالثی میں اپریل میں امریکا اور ایران نے جنگ بندی پر اتفاق کیا اور دونوں اطراف سے حملے روک دیے گئے تاہم ایران نے آبنائے ہرمز کا کنٹرول اپنے پاس رکھا جبکہ امریکا نے ناکہ بندی کی جو تاحال جاری ہے لیکن مخصوص جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔