امریکی صدر ایران سے معاہدہ کرنا چاہتے ہیں، وہ خامنہ ای سے ملنے کو بھی تیارہیں: مارکو روبیو
اشاعت کی تاریخ: 15th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ معاہدے کو ترجیح دیتے ہیں اور اگر ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای ملاقات کی خواہش ظاہر کریں تو صدر ٹرمپ ان سے ملنے کے لیے تیار ہوں گے۔
میونخ سکیورٹی کانفرنس کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے مارکو روبیو نے کہا کہ صدر ٹرمپ کسی بھی رہنما سے ملاقات کے لیے آمادہ رہتے ہیں کیونکہ ان کے نزدیک عالمی تنازعات کا حل بات چیت کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر آیت اللہ خامنہ ای کل ہی ملاقات کی درخواست کریں تو یہ ممکن ہو سکتی ہے، اس لیے نہیں کہ صدر ٹرمپ ان سے متفق ہیں بلکہ اس لیے کہ وہ سمجھتے ہیں مسائل مذاکرات کے ذریعے ہی حل ہوتے ہیں۔
روبیو نے مشرق وسطیٰ میں دوسرا طیارہ بردار بحری جہاز بھیجنے کے فیصلے کو ایک احتیاطی قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس اقدام کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ ایران کوئی ایسا اقدام نہ کرے جو بڑے تنازع کا سبب بنے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر نظرثانی کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت گر گئی ہے۔
غیرملکی خبرایجنسی نے بتایا کہ ایران کی جانب سے امریکی مجوزہ معاہدے کا جائزہ لینے کی ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوگئی ہیں جو پہلے سیشن میں بلند ہوگئی تھیں۔
عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 0.69 ڈالر یا 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 94.29 ڈالر فی بیرل اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمت 0.82 ڈالر یا 0.9 فیصد کمی کے بعد 91.34 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔
گزشتہ کے اواخر میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی امیدوں کی توقعات پر تیل کی قیمت 16 فیصد سے زیادہ کمی آئی تھی لیکن گزشتہ روز برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمتوں میں بالترتیب 3 اور 5 فیصد اضافہ ہوگیا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور اگلے ہفتے کے بعد جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے معاہدہ ہوسکتا ہے۔
ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ عارضی امریکا تجاویز پر تاحال ایران کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے تاہم جائزہ لیا جا رہا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی رپورٹس کے باوجود آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی بدستور محدود ہے اور ماہرین نے تیل کے سرمایہ کاروں کے لیے یہ خطرناک قرار دیا ہے۔