کوٹ ادو: تیز رفتار آئل ٹینکر نے ایک ہی گھر کے 4 افراد کچل ڈالے
اشاعت کی تاریخ: 15th, February 2026 GMT
ویب ڈیسک: کوٹ ادو میں سلطان کالونی کے قریب افسوسناک ٹریفک حادثہ پیش آیا ہے جہاں ایک تیز رفتار آئل ٹینکر موٹر سائیکل پر چڑھ دوڑا۔ حادثے کے نتیجے میں دو خواتین اور ایک بچے سمیت چار افراد جاں بحق ہو گئے۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق حادثہ اس وقت پیش آیا جب سلطان کالونی کے قریب بے قابو آئل ٹینکر نے سامنے سے آنے والی موٹر سائیکل کو کچل دیا۔ واقعے میں موٹر سائیکل پر سوار چار افراد موقع پر ہی دم توڑ گئے جبکہ دو بچیاں شدید زخمی ہوئیں۔
ناکوں پر بدتمیزی کا کلچر ختم ؛وزیراعلیٰ پنجاب کی پولیس صلاحات کیلئے 3 ماہ کی ڈیڈ لائن مقرر
پولیس اور ریسکیو اہلکاروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے جاں بحق ہونے والے افراد کی لاشوں اور زخمی بچیوں کو قریبی اسپتال منتقل کر دیا ہے، اسپتال ذرائع کا کہنا ہے کہ زخمی بچیوں کی حالت تشویشناک ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق حادثے کا شکار ہونے والے تمام افراد کا تعلق ایک ہی خاندان سے تھا۔ پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور آئل ٹینکر کے ڈرائیور کی تلاش جاری ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: آئل ٹینکر
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔