اوباما کا سخت ردعمل، ٹرمپ کی متنازع ویڈیو پر خاموشی توڑ دی
اشاعت کی تاریخ: 15th, February 2026 GMT
سابق امریکی صدر باراک اوباما نے ملک کی سیاسی فضا میں شائستگی اور اخلاقی اقدار کی کمی پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔
انہوں نے یہ ردعمل اس ویڈیو کے بعد دیا جسے صدر ٹرمپ کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر شیئر کیا گیا تھا، جس میں اوباما اور سابق خاتونِ اول کو توہین آمیز انداز میں دکھایا گیا۔
ایک پوڈکاسٹ انٹرویو میں اوباما نے کہا کہ امریکی سیاسی گفتگو میں غیرمعمولی حد تک سختی اور بے ادبی آچکی ہے۔ انہوں نے کسی کا نام لیے بغیر کہا کہ پہلے عوامی عہدوں کے احترام اور شائستگی کا خیال رکھا جاتا تھا، مگر اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس کی کمی ہو گئی ہے۔
مزید پڑھیںٹرمپ نے اوباما دور کا فیصلہ منسوخ کردیا؛ پاکستان اور دیگر ممالک کو کیا نقصان ہوگا؟
ٹرمپ کا اوباما اور مشیل کی نامناسب ویڈیو شیئر کرنے پر معافی مانگنے سے انکار
یاد رہے کہ 5 فروری کو شیئر کی گئی ایک ویڈیو میں 2020 کے صدارتی انتخابات سے متعلق سازشی دعوؤں کے دوران اوباما اور ان کی اہلیہ کو ایک لمحے کے لیے بندر کے جسم پر دکھایا گیا تھا، جس پر سیاسی حلقوں میں شدید ردعمل سامنے آیا۔ بعد ازاں وائٹ ہاؤس نے ویڈیو کو ہٹا دیا اور اسے عملے کی غلطی قرار دیا۔
اوباما نے صدر ٹرمپ کی امیگریشن پالیسیوں پر بھی تنقید کی، خاص طور پر ریاست منی سوٹا میں امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کی کارروائیوں پر۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی اہلکاروں کا طرزِ عمل بعض اوقات آمرانہ طرزِ حکومت کی یاد دلاتا ہے۔
ادھر ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ کارروائیاں مجرم عناصر کے خلاف ٹارگٹڈ آپریشنز کا حصہ تھیں۔ تاہم ان اقدامات کے خلاف ملک بھر میں احتجاج بھی دیکھنے میں آیا، جبکہ محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کی فنڈنگ پر کانگریس میں اختلافات سامنے آئے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔
میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔
ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔
تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔
اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔
ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔
گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔
مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔